Saturday , September 23 2017
Home / اداریہ / تعلیمی ادارے نشانہ کیوں ؟

تعلیمی ادارے نشانہ کیوں ؟

جہاں پر پھول اب بکھرے پڑے ہیں
وہی تو میرے کل کا گلستاں ہے
تعلیمی ادارے نشانہ کیوں ؟
مرکز میں نریندر مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام یہ امید کر رہے تھے کہ جس طرح انتخابات میں وعدہ کیا گیا ہے ان کیلئے اچھے دن آئیں گے ۔ اسی بات کا وعدہ کرتے ہوئے نریندر مودی اور بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا تھا اور عوام کے ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اقتدار سنبھالنے کیلئے جس پیمانے پر تقریب منعقد کی گئی اور پڑوسی ممالک کے حکمرانوں کو مدعو کیا گیا اس سے یہ تاثر ملا کہ حکومت جس شان سے حلف لے رہی ہے اتنی چکا چوند کے ساتھ عوام کے کام بھی انجام دئے جائیں گے ۔ ملک کے عوام کو مختلف مسائل سے راحت دلائی جائیگی ۔ ان کو درپیش چیلنجس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ ملک میں کروڑ ہا بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائیگا ۔ طلبا کو حصول تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائیگا جس میں وہ اپنی صلاحیتوں میں بہتری پید اکرتے ہوئے تخلیقی کام انجام دینگے ۔ نیا ریسرچ ہوگا ۔ نئی اختراعات ہونگی اور ملک کو ترقی دلانے کیلئے واقعتا ایک سازگار ماحول پیدا ہوگا ۔ تاہم جس وقت سے مودی نے اقتدار سنبھالا ہے ترقی صرف نعرہ کی حد تک رہ گئی ہے اور متنازعہ نعروں نے ملک کے روز مرہ کے معمول میں اہمیت حاصل کرلی ہے ۔ کسی گوشے کو اچانک مادر وطن سے پیار ہوگیا ہے اور اس حد تک ہوگیا ہے کہ صرف زبانی نعروں کو اس کی بنیاد قرار دیا جارہا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ پیار اس گوشے کو ہوا ہے جس کا نہ جدوجہد آزادی میں کوئی رول ہے اور نہ اس کے دفتر پر کبھی قومی پرچم لہرایا گیا ہے ۔ اب یہ لوگ دوسروں سے ‘ جن کی تاریخ ملک و قوم کیلئے قربانیوں سے بھری پڑی ہے ‘ حب الوطنی کا سرٹیفیکٹ مانگ رہے ہیں۔ سارے ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے اور سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ ملک کے تعلیمی اداروں کا ماحول خراب کردیا گیا ہے ۔طلبا کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔ ان کے احساسات کو کچلا جا رہا ہے ۔ یہاں جذباتی نعروں اور فرقہ پرستی کو عروج دیا جا رہا ہے ۔ ایک مخصوص سوچ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ کوشش جہاں ملک کا ماحول خراب کر رہی ہے وہیں تعلیمی اداروں میں ریسرچ و تحقیق کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور ان سے یقینی طور پر ترقی کے منصوبے متاثر ہونگے ۔
ایک مخصوص نظریہ اور سوچ کو مسلط کرتے ہوئے طلبا کا ذہن متاثر کیا جا رہا ہے اور انہیں منفی سوچ کے ذریعہ زہر آلود کیا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے ۔ طلبا کو ایک سازگار اور آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا جا رہے تاکہ ان کی تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے ۔ ذات پات کے نظام کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ دلت اور پچھڑے ہوئے طبقات کو اقلیتی برداری کی طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان سب کا عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ۔ انہیں ایک سوچ اور نظریہ کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ان کے کھانے پینے کا مینو حکومت تیار کر رہی ہے ۔ ان کے لباس و عادات کا تعین حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اب حب الوطنی کا سرٹیفیکٹ بھی صرف ایک مخصوص و متنازعہ نعرہ کے ذریعہ طلب کیا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر ملک کے تعلیمی اداروں کے ماحول کو پراگندہ اور زہرآلود کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک سچی سمجھی کوشش ہے اور اس کا مقصد سیاسی مقصد براری کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔ سنگھ پریوار کی یہ کوشش ہے کہ نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرتے ہوئے سماج کو دو حصوں میں نفرت کی بنیاد پر بانٹ دیا جائے تاکہ اسے اپنے عزائم اور ناپاک منصوبوں کو پورا کرنے کا موقع ملتا رہے ۔ جب دلت ریسرچ اسکالرس نے مخالف مسلم فسادات پر دستاویزی فلم تیار کی تو مرکزی وزیر کو یہ برداشت نہیں ہوا اور کسی نہ کسی بہانے سے اسے نشانہ بنایا گیا ۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے بعد جے این یو کو نشانہ بنایا گیا ۔ دہلی یونیورسٹی میں بھی ذات پات کی سیاست شروع ہوگئی ہے اور اب سرینگر کے این آئی ٹی میں بھی بے چینی پیدا کی جا رہی ہے ۔
تعلیم ایک بنیادی چیز ہے اور تدریس ایک مقدس پیشہ ہے ۔ اسی شعبہ کو پراگندہ کرتے ہوئے ملک کا ماحول خراب کیا جا رہا ہے ۔ پہلے ہی فرقہ پرستوں اور فاشسٹ طاقتوں کی جانب سے جانور کا گوشت رکھنے کے شبہ میں انسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ کسی کو دوران سفر ہتک آمیز تلاشی کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ کسی کو ہندوستان سے چلے جانے کا مشورہ دیتے ہوئے عملا پڑوسی ملک کی سیاحتی مارکٹنگ کا فریضہ ادا کیا جا رہا ہے ۔ ان سب کوششوں کے دوران ملک کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی شدت اختیار کرگئی ہیں اور ان سب سے راست یا بالواسطہ طور پر حکومت کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے ۔ یہ ایسے حالات ہیں جو ہر فکرمند شہری اور ہر محب وطن شہری کیلئے باعث تشویش ہیں۔ فرقہ پرستی کے زہر کو تعلیمی اداروں میں سرائیت کرجانے سے روکنا ہر فکرمند شہری اور طبقہ کا فرض ہے تاکہ ملک میں بے چینی اور اضطراب کی جو کیفیت پیدا ہو رہی ہے اس کو روکا جاسکے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT