Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / تعلیمی میدان میںجان فشانی کی ضرورت ‘ اسراف سے گریز کی تلقین

تعلیمی میدان میںجان فشانی کی ضرورت ‘ اسراف سے گریز کی تلقین

اسلامی اصولوںپر ہی شادی کرنے کا مشورہ ‘ دوبہ و پروگرام سے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان اور دیگر شخصیتوں کا خطاب

حیدرآباد ۔ 19؍ جون ( دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست  نے کہا کہ موجودہ معاشرہ میں بڑھتی ہوئی مانگوں اور لین دین کے بناء لڑکیوں کے والدین اپنے بچیوںکی شادیاں کرنا بڑا کٹھن  مسئلہ روز بہ بروز بڑھتے جا رہا ہے ۔ اس لئے اسراف و فضول خرچی سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے شادی کو اسلامی اُصول پر انجام دینے کی کوشش کریں ۔ بعض والدین کو اپنی لڑکی کی شادی کرنے کے بعد اگر انہیں مزید لڑکیاں ہوں تو اُن کی شادی کرنے کے لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست 63 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام میں مخاطب تھے جو ایس اے ایمپرئیل گارڈن ٹولی چوکی میں منعقد ہوا جس میں والدین اور سرپرستوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مولانا عامر خان قاسمی (شیخ الحدیث) ‘ صلاح الدین کونیکر (بیجاپور) ‘  محفوظ شیراز (اقبالیہ) محمد معین الدین صدر فیڈریشن ٹولی چوکی کالونیز ‘  نے شرکت کی ۔ حافظ و قاری صابر پاشاہ کی قراء ت سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ احمد صدیقی مکیش نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں و لڑکوں سے زیادہ تعلیمی میدان میں سبقت  لے جا رہے ہیں اس لئے اس بناء پر لڑکیوں کے والدین اپنی لڑکی کے معیار پر ہی رشتہ کا انتخاب کر رہے ہیں ۔ اور ان رشتوں کے انتخاب میں انہیں دشواریاں بھی پیدا ہو رہی ہیں  اور لڑکیاں کم تعلیمیافتہ لڑکوں سے شادی کے لئے تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک  سونچے سمجھے منصوبے کے تحت گذشتہ 65 سال سے مسلمانوں کی تعلیمی ‘ معاشی موقف کو برباد کرنے کی لگاتار کوشش کی جا رہی ہے اس کے باوجود مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں سبقت لے جانے پر پیچھے نہیں رہے اور ہمیشہ تعلیمی میدان میں اول مقام پر اپنے آپ کو رکھنے کے لئے جہد مسلسل کی اور اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خوش فہمی میں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیمی میدان میں جان فشانی کی ضرورت ہے ۔ اگر مسلمان تعلیمی میدان میں اپنی دلچسپی کو برقرار رکھیں گے تو اُن کا مستقبل تابناک و روشن ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ چبوترہ کلچر کو حیدرآباد سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی جہاں رات بھر نوجوانوں بیٹھے اپنے اوقات کی خرابی کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ عرصہ دراز سے شادیوں میں بیجا اسراف سے چھٹکار ا دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا کہ  ’’ایک کھانا اور ایک میٹھا ‘‘ کو شادیوں کی تقریب میں عام کریں اور نکاح میں مسجد میں کریں اگر اب بھی اس بات پر مسلمان تہیہ کرلیں تو وہ اپنے آپ کو اسراف سے دور رکھیں گے ۔ جناب ایم اے قدیر کارگذار صدر فورم نے شرکاء کا خیرمقدم کیا ۔ مولانا عامر خان قاسمی شیخ الحدیث نے کہا کہ قرآن نے کہا کہ جو شخص نکاح کرے گا تو اس کی برکت سے اس کی زندگی میں وسعت پیدا ہوگی اور رب کائینات اس کی برکت سے اسے غنی کر دے گا۔ اس لئے روایتوں میں آتا ہے دین اسلام نام ہے خیرخواہی کا ۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی شادیاں بڑے آسان وسہل انداز سے ہوا کرتیں اور جب بھی کوئی صحابہ رسولؐ دربار رسالت میں حاضر ہوتے تو آپ اُنہیں نکاح کی ترغیب دیتے اور محنت و کمانے پر اُکسانے اور بسا اوقات قرآن کی یاد دہانی اور علم و ہنر بہتر تصور کیا جاتا اس لئے نکاح ایک عبادت بھی اور معاہدہ بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور ایم ڈی ایف کی تحریک شادی کو آسان بنایا جائے اس پر مبارکباد دی اور کہا کہ مسلمان  اس پر عمل کریں تو  ان کو مسائل سے دو چار ہونا نہیں پڑیگا ۔ اس لئے کہ خاندانوں میں دیکھا گیا کہ جھگڑوں کے بناء معاملہ پولیس اور عدالتوں کا رخ اختیار کرتے ہوئے 498/A تک  جا رہا ہے اس لئے اس چھوٹی سی زندگی کے لئے انسان کو بڑے خواب طمطراق والی زندگی گذارنے کا منصوبہ نہ بنائے ۔ صلاح الدین کونیکر (بیچاپور)  نے سیاست اور ایم ڈی ایف کی جانب سے دو بہ دو پروگرام کی ستائش کی اور جناب زاہد علی خان‘ جناب ظہیرالدین علی خان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس تحریک کو ملک بھر میں عام کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خان  کے ہاتھوں ’’آو نماز سیکھیں‘‘ سی ڈی کی رسم اجراء انجام دی گئی ۔ آج کے اس دوبہ دو پروگرام میں والدین اور سرپرستوں کو حسب سابق کی طرح سہولیات مہیا کی گئی کہ وہ انجنیئرنگ ‘ میڈیسن ‘ پوسٹ گریجویشن ‘ ایم بی اے ‘ ایم سی اے ‘ انٹرمیڈیٹ ‘ ایس ایس سی‘ حافظ و عالم اور عقدثانی کے علحدہ کاؤنٹرس قائم کئے گئے جہاں پر فورم  کے اراکین نے والدین کی رہبری و رہنمائی کی ۔ رجسٹریشن کاؤنٹرس کا 10 بجے آغاز ہوا ۔ اس لئے لڑکوں کے والدین کو پیلے ربن اور لڑکیوں کے والدین کو گرین ربن دیئے گئے تاکہ وہ ایک دوسرے سے متعارف ہوسکے ۔  ان تمام کاؤنٹرس کے علاوہ کمپیوٹر سیکشن بھی رکھا گیا جہاں والدین کمپیوٹرس کی مدد سے لڑکوں کے فوٹوز اور بائیوڈاٹاس کا مشاہدہ کیا ۔  انجنیئرنگ اور گریجویٹ لڑکوں کے لئے اسکرین پر اُن  کے فوٹوز میر انورالدین اور زاہد فاروقی نے والدین کی رہبری و رہنمائی  کی ۔ ایس سی باشاہ ‘ سیداصغر حسین ‘ برکت علی ‘ سید ناظم الدین ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق ‘ ڈاکٹر ناظم علی ‘ شاہد حسین ‘ ثانیہ ‘ محمد احمد ‘ آمنہ فاطمہ ‘ ڈاکٹر سیادت علی ‘ عبدالصمد خان ‘ محمد تاج الدین نے والدین اور سرپرستوں کی رہبری و رنمائی کی ۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کو والدین اور سرپرست نے اس دوبہ دو ملاقات پروگرام پر انہیں مبارکباد دی ۔ آج  کے دوبہ دو پروگرام میں والدین نے خاصی تعداد میں اپنے بچوں کے رجسٹریشن کروائے ۔ جناب ایم اے قدیر کارگذار صدر نے اس موقع پر محمد معین الدین صدر فیڈریشن ٹولی چوکی آف کالونیز انعاش حسین اور شارق حسین سے اظہار تشکر کیا ۔ آج کے اس دو بہ دو ملاقات پروگرام میں دونوں شہروں کے والدین کی کثیر تعداد شریک تھی ۔ والدین نے روزہ کی حالت میں اس دوبہ دو ملاقات پروگرام میں شرکت کی ۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں اورمحکمہ پولیس اور اراکین فورم کے علاوہ تمام سے اظہار تشکر کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT