Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تعلیمی نصاب میں سائبر سیکوریٹی کے مضمون کو شامل کرنے کی مساعی

تعلیمی نصاب میں سائبر سیکوریٹی کے مضمون کو شامل کرنے کی مساعی

سائبر دنیا سے نوجوان نسل کو ہم آہنگ رکھنے اور چیالنجس سے نمٹنے کے اقدامات
حیدرآباد۔24اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اسکول کے تعلیمی نصاب میں سائبر سیکیوریٹی کا مضمون شامل کرے گی۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے ریاست میں فراہم کی جانے والی تعلیم کو عصری دور سے ہم آہنگ کرنے کیلئے نویں اور دسویں جماعت کے نصاب میں سائبر سیکیوریٹی کے مضمون کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تعلیمی سال 2018-19سے اس مضمون کی شمولیت کے سلسلہ میں اقدامات شروع کئے جا چکے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تیزی سے فروغ حاصل کر رہی سائبر دنیاسے نوجوان نسل کو ہم آہنگ رکھنے کیلئے اسکولوں میں کمپیوٹر کی عصری تعلیم فراہم کی جا رہی تھی لیکن اب سرکاری سطح پر محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام سائبر سیکیوریٹی کے چیالنجس سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر اسکول میں سائبر سیکیو ریٹی کے مضامین پڑھائے جانے کے فیصلہ سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت اور محکمہ تعلیم اسکولی طلبہ کو عالمی سطح کے طلبہ کے مساوی معیار اور مسابقتی دوڑ میں شامل رکھنے کے اقدامات میں مصروف ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری ویب سائٹس پر کئے جانے والے سائبر حملوں کو دیکھتے ہوئے ریاست کے محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست میں نوجوان نسل کو سائبر حملوں کے متعلق باشعور بنانے کے مقصد سے انہیں اس سلسلہ میں معلومات فراہم کی جائیں اس تجویز کی روشنی میں ہی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اسکولوںمیں سائبر سیکیوریٹی کے لازمی مضمون کو شامل کیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے اور سائبر حملوں کی صورت میں محفوظ رہنے کی متحمل رہے۔محکمہ تعلیم اور محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ کئے جانے والے اس اقدام کو سائبر پیس فاؤنڈیشن کا تعاون حاصل ہے جو نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کیلئے نصاب تیار کرے گا اور اس نصاب کا سرکاری سطح پر جائزہ لینے کے بعد اسے شامل نصاب کیا جائے گا۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت نے نصاب کی تیاری میں اس بات پر خصوصی توجہ دینے کی تاکید کی ہے کہ تیار کنندگان سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن انجام دیئے جانے والے امور کے متعلق مواد کو نصاب میں شامل رکھیں تاکہ طلبہ کو انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے اس کے متعلق مکمل معلومات حاصل رہیں اور وہ انٹرنیٹ کے امور کے متعلق باشعور رہتے ہوئے عالمی مسابقت کا حصہ بن سکیں۔ ماہرین انفارمیشن ٹیکنالوجی کا یہ ادعا ہے کہ آئندہ مستقبل قریب میں سائبرحملوں کے ذریعہ ہی جنگیں لڑی جائیں گی اور ان جنگی حالات کا سامنا کرنے کے لئے سائیبر حملوں کا دفاع کرنے والے ماہرین درکار ہوں گے۔ ریاستی حکومت تلنگانہ سائبر سیکیوریٹی کے مضمون کو شامل نصاب کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملک میں تلنگانہ پہلی ریاست ہوگی جو اپنے اسکولی طلبہ کو دنیا کے تیز رفتار ترقی کرنے والے ممالک میں نوجوانوں کو فراہم کی جانے والی تربیت کو اسکول میں روشناس کروائے گی۔ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور حکومت کے دیگر محکمہ جات کے تعاون سے 28اگسٹ کو ایک روزہ تربیتی پروگرام برائے اساتذہ منعقد کرتے ہوئے ان کی بھی تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ سائبر سیکیوریٹی مضامین کی نصاب میں شمولیت سے قبل محکمہ تعلیم اور محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ وہ طلبہ کو بہتر انداز میں سائبر ٹیکنالوجی امور میں بہترین تعلیم و تربیت کی فراہمی کو ممکن بنا سکیں۔

TOPPOPULARRECENT