Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / تعلیم تجارت بن گئی، طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ

تعلیم تجارت بن گئی، طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ

ایمسٹ پیپر افشاء پر چیف منسٹر کی خاموشی معنی خیز

محمد نعیم وجاہت
’’قصور کس کا سزا کس کو‘‘ 200 طلبہ کے جرم پر لاکھوں طلبہ کو سزا بھگتنی پڑرہی ہے۔ تحقیقات میں ایمسٹ II پرچوں کے افشاء ہوئے تقریباً 200 کروڑ روپئے کا اسکام منطر عام پر آنے کے باوجود متعلقہ وزراء نے کوئی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے وزراء کو کابینہ سے برطرف کیا۔ صرف 8 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے حکومت اس کی نوعیت کو گھٹاتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پیشہ وارانہ کورسیس میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے ہر سال طلبہ کو ایک مرتبہ مسابقتی امتحانات میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ تاہم تلنگانہ کے طلبہ میڈیکل میں داخلہ لینے کے لئے تیسری مرتبہ ایمسیٹ III میں شریک ہونے کے لئے اپنی تیاریوں کا آغاز کرچکے ہیں۔ ابھی تک فلمیں جیسے دھوم III ، گول مال III بنی تھی۔ تعجب کی بات ہے تلنگانہ میں ایمسیٹIII  کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے۔ سارے ہندوستان میں جنوبی ہند بالخصوص تلنگانہ اور آندھرا کے طلبہ پروفیشنل کورسیس میں نہ صرف شاندار مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ ہر سال رینکس حاصل کرنے کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جاریہ تعلیمی سال تلنگانہ کے میڈیکل طلبہ کے لئے بھاری پڑا ہے۔ ایمسٹ I تحریر کرنے کے بعد نیٹ امتحان پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کی صورت میں دوسری مرتبہ ایمسیٹ II امتحان تحریر کرناہے۔ اس سے قبل خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے پروفیشنل کورسیس کے امتحانات کے انعقاد کے لئے خانگی تعلیمی اداروں کے بلڈنگس مراکز بنانے کے لئے دینے سے انکار کے بعد حکومت نے سرکاری بلڈنگس میں امتحانات کے انعقاد کے لئے امتحانات کے ٹائم ٹیبل کو آگے بڑھادیا تھا۔ ایمسیٹ II امتحان تحریر کرنے کے بعد طلبہ ابھی راحت کی سانس لے بھی نہیں پائے تھے کہ ایمسیٹ II پرچوں کے افشاء نے ان کی اور ان کے ارکان خاندان کا سکون ختم کردیا۔ محنت اور جستجو سے نمایاں رینکس حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کا دُکھ درد دیکھا نہیں جارہا تھا کیوں کہ فری نشست حاصل کرنے کے لئے ان طلبہ نے کوچنگ سنٹرس میں ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہوئے کوچنگ حاصل کی۔ رات کی نیند اور دن کا چین سب کچھ گنوایا۔ گھر اور رشتہ داروں کی تقاریب سے اپنے آپ کو دور رکھا۔ تاہم مفاد پرست مٹھی بھر چند طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے ان کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔

تلنگانہ ایمسٹ I آندھراپردیش ایمسیٹ I میں ناقص مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی ایمسیٹ II میں شاندار مظاہرے سے ان کے ساتھی طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ان کے احتجاج پر ہی حکومت پر دباؤ پڑا اور سی آئی ڈی تحقیقات میں ایمسیٹ II پرچوں کا افشاء ہونے کا پتہ چلا۔ ابتداء میں وزیر تعلیم کڈیم سری ہری اور وزیر صحت ڈاکٹر لکشما ریڈی نے ایمسیٹ II پرچوں کے افشاء سے انکار کردیا۔ طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے احتجاج اور میڈیا کے حرکت میں آنے کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا۔ تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے۔ تلنگانہ ایمسیٹ II پرچوں کے افشاء کا سنٹر دہلی رہا۔ اس کی جڑیں راجستھان، کولکتہ، بنگلور اور وجئے واڑہ سے پھیلی ہوئے ہونے کا انکشاف ہوا۔ یہ بین ریاستی اسکام ہے جسے صرف تلنگانہ اور سی آئی ڈی تحقیقات تک محدود رکھنا ناانصافی ہے۔ لہذا اس کی سی بی آئی تحقیقات ہونی چاہئے کیوں کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا سوال ہے۔ سی آئی ڈی کی ابتدائی تحقیقات میں ایمسیٹ II پرچوں کے افشاء کے لئے 4 افراد کا انتہائی اہم رول رہا۔ اس کے علاوہ 34 درمیانی افراد نے 200 طلبہ کے افراد خاندان سے ربط کرتے ہوئے اسکام انجام دینے کا انکشاف ہوا۔ پرچوں کے افشاء کے لئے فی طالب علم 50 تا 70 لاکھ روپئے وصول کئے گئے۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 200 کروڑ روپئے کا اسکام ہوا ہے۔ اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا اور ہائیکورٹ کو اسکام سے واقف کراتے ہوئے 11 ستمبر کو ایمسیٹ III امتحان کے انعقاد کا اعلان کیا اور تیسری مرتبہ ایمسیٹ امتحان کا انعقاد کرنے پر صرف افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ سے ایمسیٹ III کی فیس وصول نہ کرنے اور انھیں امتحانی مراکز تک ہونچنے کے لئے آر ٹی سی بسوں کی مفت سہولت فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کی۔ ماضی میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے بدعنوانیوں کے الزام میں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز مسٹر راجیا کو اپنی کابینہ سے برطرف کردیا تھا۔ وہ کن بدعنوانیوں میں ملوث تھے اس کا اظہار بھی نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر نے اُس وقت عوام کو ایک ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے انھیں رشوت طلب کرنے والے عہدیداروں کے بارے میں معلومات کرنے کا مشورہ دیا اور ریاست تلنگانہ میں بدعنوانیوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔

ایمسیٹ II امتحان اسکام میں چیف منسٹر کا دوہرا پن معنی خیز ہے۔ جس سے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اپنے فرزند اور دو وزراء پر عائد ہونے والے بدعنوانیوں کے الزامات کو نظرانداز کررہے ہیں جس کی جڑیں بین ریاستی ہونے کے باوجود اس کی سی بی آئی تحقیقات کرانے سے انکار کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ ایمسیٹ II اسکام میں چیف منسٹر تلنگانہ کے فرزند کے ٹی آر کے ملوث ہونے پر شکوک کا اظہار کیا۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے سی بی آئی تحقیقات کرانے کی صورت میں ثبوت پیش کرنے کا بھی اعلان کیا۔ لیکن حکومت نے اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ جبکہ کانگریس کا استدلال ہے کہ ایس ایس سی اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے انعقاد کے معاملہ میں بلیک لسٹ رہنے والے ادارے میگناٹک انفوٹیک پرائیوٹ لمیٹیڈ کو ایمسیٹ II کا انعقاد کرنے کی ذمہ داری صرف اس لئے دی گئی کہ اس کمیٹی سے چیف منسٹر و ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کے قریبی تعلقات ہیں۔ اپنے فرزند اور دوسرے وزراء کو بچانے کی چیف منسٹر کوشش کررہے ہیں۔ کے سی آر نئی ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر ہیں۔ ان کے لئے انصاف کا پیمانہ سب کے لئے برابر ہونا چاہئے خواہ قصوروار خود اُن کا بیٹا ہو یا دلت وزیر۔ چیف منسٹر کے دوہرے رویہ سے ان کی انصاف پسندی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔
متحدہ آندھراپردیش میں انٹرمیڈیٹ پرچوں کے افشاء پر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر تعلیم جی مدو کرشنما نائیڈو نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اُس سے قبل دسویں جماعت کے پیپر افشاء ہونے پر بحیثیت چیف منسٹر آنجہانی این ٹی آر نے اُس وقت کے وزیر تعلیم سی رامچندر ریڈی کو کابینہ سے برطرف کردیا تھا۔ ایمسیٹ II پرچوں کے افشاء کا انکشاف ہونے کے بعد بھی نہ ہی وزیر اعلیٰ تعلیم اور نہ ہی وزیر صحت دونوں میں کسی ایک نے بھی اخلاقی ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی چیف منسٹر کے سی آر نے انھیں کابینہ سے برطرف کیا۔ اتنا بڑا اسکام ہونے کے باوجود چیف منسٹر کی خاموشی معنی خیز ہے۔ چیف منسٹر نے ایمسیٹ III کے انعقاد پر صرف افسوس کا اظہار کیا۔ صرف ایمسیٹ کنوینر کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔ ان کی جگہ دوسرے عہدیدار کا تقرر کیا گیا اور ایمسیٹ III کے انعقاد کی ذمہ داری جے این ٹی یو کے حوالے کی گئی۔
صدرنشین کونسل اعلیٰ تعلیم، ایمسیٹ کنوینر اور دونوں متعلقہ وزراء کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف کوئی سخت پیغام دیا گیا۔ حکومت کے اس طرز عمل سے بدعنوانیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ حکومت کے پاس محنت و جستجو سے پڑھ کر رینکس حاصل کرنے والے طلبہ کے جذبات کی کوئی قدر نہیں ہے۔ چند طلبہ کی غلطی کی سزا سارے طلبہ کو دی گئی لیکن متعلقہ وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ صرف چند افراد کو گرفتار کرتے ہوئے حکومت اس کو بڑے کارنامے کے طور پر پیش کررہی ہے۔

تعلیم برائے انسانیت ، تعلیم برائے دولت میں تبدیل ہوگئی جس کی وجہ سے اسکامس منظر عام پر آرہے ہیں۔ دولت کے بل پر پیشہ وارانہ کورسیس کی نشستیں خریدی جارہی ہیں۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ طبی تعلیم کیوں مہنگی ہوگئی۔ کروڑہا روپئے دے کر میڈیکل کالجس میں داخلہ لینے کی وجہ کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجس کی تعداد اور نشستیں دونوں کم ہیں جس کی وجہ سے میڈیکل کالجس کی نشستیں خریدی جارہی ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس کا دو سالہ دور حکومت بالخصوص تعلیم کے معاملہ میں انتہائی مایوس کن ہے۔ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کے لئے کئی بہانے کئے گئے۔ فاسٹ اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے جی او جاری کیا جس کو ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا۔ پھر فیس ری ایمبرسمنٹ کی اجرائی کے لئے 10 ہزار رینک تک محدود کردیا گیا۔ طلبہ کی حاضری کو لازمی قرار دیا گیا۔ بعدازاں پولیس اور ویجلنس کے ذریعہ پروفیشنل کالجس کی تحقیقات کراتے ہوئے ان کے ساتھ چوروں اور لٹیروں جیسا سلوک کیا گیا۔ ریاست کے ہزاروں سرکاری تعلیمی اداروں، اسکولس، کالجس میں طلبہ کو بنیادی سہولتیں مثلاً پینے کا پانی، بیت الخلاء، اساتذہ، لکچررس، فیکلٹی کی سہولتیں نہیں ہیں۔ طلبہ کو بیٹھنے بینچ تک نہیں ہے۔ برقی اور کمپیوٹرس کی سہولتیں نہیں ہیں۔ اس جانب حکومت نے کبھی توجہ نہیں دی۔ صرف فیس ری ایمبرسمنٹ کی بچت کے لئے بہانہ بناتے ہوئے کئی خانگی انجینئرنگ اور میڈیکل کالجس کے علاوہ بی ایڈ، ایم بی اے، ایم سی اے اور دوسرے پروفیشنل کورسیس کے کالجس کو بند کردیا۔ گزشتہ 2 سال سے تلنگانہ کی یونیورسٹیز میں وائس چانسلرس کے عہدہ مخلوعہ تھے۔ چند دن قبل ہی وائس چانسلر کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ تاہم وائس چانسلرس کے تقررات میں یو جی سی کے رہنمایانہ خطوط اور تجربہ کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے ہائیکورٹ نے وائس چانسلرس کے تقررات کے احکام کو منسوخ کردیا۔

TOPPOPULARRECENT