Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / تعلیم و صحت کے شعبوں میں اصلاحات کیلئے مباحث پر زور

تعلیم و صحت کے شعبوں میں اصلاحات کیلئے مباحث پر زور

تجاویز پیش کرنے ارکان اسمبلی سے خواہش ‘ قانون حق تعلیم پر عمل آوری سے دشواریوں کا اندیشہ : چیف منسٹر
حیدرآباد۔ 21 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کیلئے تجاویز پیش کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیںکہ اسمبلی میں ان دونوں موضوعات پر تفصیلی مباحث ہوں اور ارکان ان شعبہ جات سے بہتر عوامی خدمات کو یقینی بنانے کیلئے تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تعلیم کو ایک چھت کے نیچے لانے پر غور کر رہی ہے اور ابتدائی تعلیم سے پیشہ ورانہ کورسس کو ایک چھت کے نیچے لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خانگی مدارس سے یونیورسٹی کی تعلیم تک ایوان میں تفصیلی مباحث ہونے چاہئے۔ انہوں نے اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ تعلیم و صحت پر جاریہ سیشن میں مباحث کیلئے وقت مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مو جود غیر مسلمہ مدارس کو منسوخ کرنے سے ان میں زیر تعلیم طلبہ کا نقصان ہوگا۔ وہ کسی بھی صورت میں طلبہ کا نقصان نہیں چاہتے۔ ارکان کو چاہئے کہ وہ مباحث کے بعد حکومت کو اس سلسلہ میں تجاویز پیش کریں۔ قانون حق تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ اس پر عمل آوری سے کئی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں اور ایک لاکھ 40 ہزار اساتذہ کیلئے کوئی کام باقی نہیں رہے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز میں برسر اقتدار پارٹیاں اپنے دور میں جو فیصلے کر رہی ہیں، اس سے ریاستوں کو دشواری پیش آرہی ہے۔ یو پی اے حکومت نے ماڈل اسکول اسکیم کا آغاز کیا تھا جسے موجودہ این ڈی اے حکومت نے ختم کردیا ۔ لہذا اس اسکیم کا بوجھ ریاستوں پر پڑچکا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ یو پی اے حکومت نے اقتدار کے آخری دنوں میں قانون حق تعلیم کو منظوری دی، جس کے تحت خانگی اسکولوں میں 25 فیصد غریب طلبہ کے داخلہ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ایک لاکھ 40 ہزار ٹیچرس موجود ہیں اور اس قانون پر عمل آوری سے وہ بیکار ہوجائیں گے۔ کئی ریاستوں میں اس قانون کے خلاف مرکز سے نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون حق تعلیم پر عمل آوری کی صورت میں سرکاری اسکولس اور سرکاری ٹیچرس کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کی اسکیم پر قائم ہیں اور اس کے تحت اقلیتوں کے لئے 70 اقامتی مدارس کا جون سے آغاز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اور تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے نئی تعلیمی اور طبی پالیسی تیار کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ فینانس کو ہدایت دی گئی ہے کہ مارچ اور اپریل تک فیس باز ادائیگی کے تمام بقایہ جات جاری کردے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فیس باز ادائیگی کیلئے طلبہ کا احتجاج اور کالجس کی جانب سے ہراسانی اچھی بات نہیں ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ سرکاری دواخانوں کے بارے میں عوامی رائے ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری دواخانوں کی خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT