Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / تعلیم پر بجٹ میں چار گنا اضافہ ضروری

تعلیم پر بجٹ میں چار گنا اضافہ ضروری

پرائیویٹ اسکولس کی حوصلہ افزائی
سرکاری اسکولس بند ہورہے ہیں

محمد نعیم وجاہت
تعلیم انفرادی و اجتماعی طور پر سب کیلئے نہایت مفید اور اہم ہے۔ تعلیم معاشرتی بگاڑ کا خاتمہ کرتی ہے۔ نسلوں کو ذہین اور باشعور بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تلنگانہ ملک کی 29 ویں ریاست کی حیثیت سے تقریباً 2 سال قبل ہندوستان کے نقشہ پر برآمد ہوئی ہے۔ حیدرآباد اور تلنگانہ میں پیشہ ورانہ کورسیس کا جال پھیلا ہوا ہے۔ ملک بھر میں ایمسیٹ تا سیول سرویسیز کے تمام مسابقتی امتحانات میں تلنگانہ کے طلبہ رینکس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں جو قابل ستائش ہے اور طلبہ قابل مبارکباد ہے مگر اس کا سہرا خانگی تعلیمی اداروں کے سر جاتا ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے اس معاملے میں اپنی بے بسی کو پیش کررہے ہیں۔ اس کے کسی ایک کو ذمہ دار قرار دینا ناانصافی ہے بلکہ آزادی کے بعد متحدہ آندھراپردیش میں حکومت کرنے والی کانگریس اور تلگودیشم دونوں جماعتیں برابر کی ذمہدار ہیں۔ 1995-2004ء تک تلگودیشم کے دورحکومت میں بحیثیت چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے خانگی تعلیمی اداروں کا جال بچھاتے ہوئے ریاست میں تعلیمی انقلاب ضرور لایا۔ ساتھ ہی سرکاری تعلیمی اداروں کی بستی کا بھی آغاز یہیں سے شروع ہوا۔ 2004-2014ء کانگریس کے دورحکومت بالخصوص چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے پیشہ ورانہ کورس حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو فیس ریمبرسمنٹ اور اسکالر شپس فراہم کرتے ہوئے غریب ذہین طلبہ کو پروفیشنل کورس کی تعلیم حاصل کرنے میں مکمل حوصلہ افزائی کی ہے۔ غریب طلبہ کو خانگی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے تمام سہولتیں حاصل ہوئی ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو اور راج شیکھر ریڈی نے پروفیشنل کورسیس میں تعاون کیا مگر اسکولی تعلیم بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں کو نظرانداز کردیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں پر جیسے ہی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی خانگی تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک نے اسکولی تعلیم پر بھی اپنا قبضہ جما لیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی قلت، مخلوعہ جائیدادوں کو پر نہ کرنے اور بنیادی سہولتوں کے فقدان نے جہاں طلبہ کے والدین اور سرپرستوں کو مایوس کردیا اسی کا فائدہ خانگی تعلیمی اداروں نے اٹھایا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں گھٹتے ہوئے تعلیمی معیار اور طلبہ کی کمی کا بہانہ کرتے ہوئے حکومت نے ہزاروں اسکولس کو ایک دوسرے میں ضم کردیا جس سے کئی سرکاری اسکولس بند ہوگئے اور اساتذہ کی منظورہ جائیدادیں برخاست ہوگئی۔ غلط فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث حکومت کو خانگی تعلیمی اداروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبورہونا پڑا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں سماج کے تمام طبقات کو جوڑنے کیلئے سربراہ ٹی آر ایس نے ہماری ریاست ہمارے اختیارات کا نعرہ دیا اور عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھائی۔ علحدہ ر یاست کی تشکیل کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ کیا۔ کانگریس اور تلگودیشم پر تعلیمی نظام بگاڑ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے عوام کے بھروسے کو جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم دو تعلیمی سال گذر گئے مگر کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر کوئی عمل آوری نہیں ہے۔ جاریہ تعلیمی سال سے 250 انگریزی میڈیم اسکولس قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کو کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے جو دھوکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی سینکڑوں اقامتی مدارس قائم کئے گئے ہیں جس میں اقلیتی اقامتی اسکولس بھی شامل ہے۔ تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کیلئے کیا 250 ریڈنشیل اسکولس کا قیام کے جی تا پی جی مفت تعلیم ہوسکتا ہے ہرگز نہیں حکومت آئی ٹی پالیسی اور انڈسٹریل پالیسی بنائی مگر ایجوکیشنل پالیسی کو نظرانداز کردیا جس سے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے علاوہ خانگی تعلیمی اداروں کے انتظامیہ بھی پریشان ہیں۔ تعلیم پر زیادہ فنڈز خرچ کرنے کے بجائے ریاست کے ایک لاکھ کروڑ روپئے کے بجٹ میں پہلے سال 4123 کروڑ دوسرے سال 1454 کروڑ اور جاریہ سال 1780 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ میں تعلیم کو کتنی اہمیت دے رہی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی خرچ میں ریاست تلنگانہ کو سب سے آخری 29 واں مقام حاصل ہوا ہے۔ قومی سطح پر خواندگی کی شرح 73.99 فیصد ہے جبکہ تلنگانہ میں شرح خواندگی 66.46 فیصد ہے اس سے ظاہر ہوگیا ہیکہ حکومت تعلیم کو نظرانداز کررہی ہے۔ مڈ ڈے میل، سرواسکھشا ابھیان، راشٹریہ مدھیا مکا سکھشا ابھیان اور ماڈل اسکولس چاروں اسکیمات مرکزی حکومت کے ہیں۔ ریاستی حکومت ان اسکیمات میں معمولی سرمایہ کاری کرتی ہے۔ دو سال کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے کوئی نئی تعلیمی اسکیم کا اعلان نہیںکیا ہے بلکہ فیس ریمبرسمنٹ اور اسکالرشپس میں مختلف نقائص تلاش کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کو ان اسکیمات سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ریاست کے 398 سرکاری اسکولس میں ایک بھی طالب علم کے حصہ نہ لینے پر سپریم کورٹ نے حیرت کا اظہار کیا ہے جو حکومت کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں ہے۔

ریاست میں اساتذہ کے 43,000 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ اس پر تقررات کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں صرف بیان بازی کی جارہی ہے۔ حکومت نے ٹیٹ اور ڈی ایس سی کے بارے میں تجسس برقرار رکھا ہے۔ سرکاری اسکولس کو ترقی دینے میں ناکام ہونے والی حکومت خانگی تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ تلنگانہ کے 12,178 پرائمری اسکولس میں 60 سے کم طلبہ ہیں طلبہ کا سرکاری اسکولس میں داخلہ کرانے کیلئے حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران 88 انجینئرنگ 26 بی فارمیسی، 40 ایم سی اے، 84 ا۸یم بی اے، 49 بی ایڈ، 99 ایم ٹیک، 21 ایم فارمیسی، 3 ڈی فارمیسی، جملہ 410 کالجس بند کردیئے گئے جس سے 46,040 نشستوں کی کمی ہوگئی ہے۔ جاریہ سال مزید کئی خانگی و ایڈیڈ کالجس بند ہوجانے کے قریب ہے۔ 116 ڈگری کالجس میں 70 پرنسپلس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ 2761 لکچررس کی جائیدادوں میں 1105 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ مختلف کالجس میں 966 لکچررس کنٹراکٹ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 63 فزیکل ڈائرکٹرس کی جائیدادوں میں 36 مخلوعہ ہیں۔ جملہہ 3007 جائیدادوں میں 1247 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ریاست کے سرکاری و خانگی 42,632 پرنسپلس و ہیڈ ماسٹرس کے جائیدادوں میں 40,507 جائیدادوں پر مستقل پرنسپلس اور ہیڈ ماسٹرس نہیں ہے۔ ریاست کے 16.313  اسکولس میں 2 سے زائد ٹیچرس نہیں ہے۔ ریاست کے 5046 اسکولس میں ایک اور 9142 اسکولس میں صرف 2 ٹیچرس ہیں۔ تلنگانہ کے 8 اضلاع میں عادل آباد کے 559 میدک کے 327 محبوب نگر کے 301 رنگاریڈی کے 298 کھمم کے 155 نظام آباد کے 126 کریم نگر کے 101 ورنگل کے 101 اسکولس میں ٹیچرس ہی نہیں ہے۔ اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرس کی جائیدادیں بڑے پیمانے پر مخلوعہ ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں حصول تعلیم بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ریاست کے 11,295 اسکولس میں فرق دو کلاس رومس ہیں 175 اسکولس میں کلاس روم ہی نہیں ہے۔ ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ کو انفارمیشن ٹکنالوجی کا ہب بنانے کا دعویٰ کررہی ہے۔ تاہم 27,495 اسکولس میں کمپیوٹرس نہیں ہے۔ 3688 اسکولس میں برقی نہیں ہے۔ 2558 اسکولس میں پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے۔ 4539 اسکولس میں بیت الخلاء نہیں ہے۔ 12613 اسکولس کی باونڈری وال نہیں ہے۔ 16088 اسکولس پلے گراونڈ سے محروم ہیں۔ تلنگانہ کے 18139 پرائمری اسکولس میں 398 ایسے اسکولس میں ہیں جہاں طلبہ نے داخلہ نہیں لیا ہے۔ 980 اسکولس میں 10 اور 2333 اسکولس میں صرف 20 طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔ سرکاری اسکولس کی یہ صورتحال ہے۔ صحتمند معاشرے کیلئے قوم کا تعلیمیافتہ ہونا ضروری ہے۔ جب اریکشن پر 25 ہزار کروڑ اور مشن کاکتیہ پر 40 ہزار کروڑ اور ڈبل بیڈ روم اسکیم پر 15 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں تو تعلیم پر سالانہ 5 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کیلئے حکومت تیار نہیں ہے۔ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں کنٹراکٹرس کی جانب سے بے قاعدگیاں کی جارہی ہیں۔ اس کا حساب کرنے کے بجائے ڈیزائن میں تبدیلی اور سمنٹ و لوہے کی قیمت میں اضافہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے پراجکٹس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ پروفیشنل کورس چلانے والے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ پولیس اور ویجلنس کے ذریعہ تحقیقات کراتے ہوئے عوام کی نظروں میں ان کالجس کو مشکوک کیا جارہا ہے۔ تحقیقات اور رہنمایانہ خطوط ضروری ہے مگر حکومت کا طریقہ کار غلط ہے۔ اگر حکومت کو کالج انتظامیہ پر شکوک ہیں تو تعلیمی اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ طلبہ کے بونافائیڈ جاری کریں بونافائیڈ کی پاسپورٹ کی اجرائی سے قبل جس طرح تحقیقات کرائی جاتی ہے اس طرح پولیس کے ذریعہ تحقیقات کرائے اور فیس ریمبرسمنٹ کی رقم کالج انتظامیہ کے بجائے طلبہ کے اکاونٹس میں منتقل کردیں۔ یہاں اور ایک بھی مسئلہ پیش آرہا ہے۔ حاضری کے معاملے میں طلبہ یونیورسٹی کو فیس ادا کرتے ہوئے رعایت حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کو امتحانات لکھنے کی اجازت دے رہی ہے مگر حکومت کی جانب سے فیس ریمبرسمنٹ کے معاملے میں ان طلبہ کو نااہل قرار دیا جارہا ہے۔ حکومت اور یونیورسٹی کے درمیان جو تضاد پایا جاتا ہے اس کا خمیازہ طلبہ اور کالج انتظامیہ کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ اسکولی تعلیم کو حکومت نظرانداز کررہی ہے۔ پروفیشنل کورس کے معاملے میں خانگی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت رویہ اپنایا جارہا ہے۔ بہتر ہے حکومت بڑے پیمانے پر انجینئرنگ و میڈیکل کے سرکاری کالجس قائم کریں جس سے فیس ریمبرسمنٹ کا مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے وہ پرائمری سطح سے سرکاری اسکولس میں طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھائے اسکولس میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔ اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرتے ہوئے خانگی تعلیمی اداروں سے مسابقت کریں۔ یقیناً اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنا چاہتی ہے تو پہلے تعلیم کے بجٹ میں چار گنا اضافہ کریں۔ اس کے بعد ہر سال ضروریات کے مطابق بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے سرکاری تعلیمی اداروں کو مستحکم کریں۔ خانگی تعلیمی اداروں کی بے قاعدگیوں پر نظر رکھتے ہوئے اس کو کنٹرول کریں تو ریاست میں تعلیمی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT