Tuesday , October 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / تعلیم کی عمر میں مزدوری پر مجبور نوجوانوں کو 12فیصد تحفظات اشد ضروری

تعلیم کی عمر میں مزدوری پر مجبور نوجوانوں کو 12فیصد تحفظات اشد ضروری

بی سی کمیشن کا دورہ ناگرکرنول و گھر گھر جاکر ملاقات کے دوران مسلمانوں کی جانب سے اپنی حالت زار کا اظہار

ناگرکرنول 15؍ مارچ(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)مسلمانان ناگرکرنول سے وابستہ مختلف تنظیموں نے آج بی سی کمیشن سے ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں فوری 12% تحفظات فراہم کرنے پر مشتمل یادداشتیں پیش کیں۔ آج  بی سی کمیشن کے رکن مسٹر انجنیلوگوڑنے ناگرکرنول کا دورہ کرتے ہوئے شہر کے سلم بستیوں کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی حالت زار کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے مستقر کی اہم شاہراہ پر واقع مسلمانوں کی دکانوں پرجاکر پھول فروش، میوہ فروش، ٹھیلہ بنڈی راں ودیگر چھوٹے کاروباریوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی یومیہ آمدنی اور گزر بسر سے متعلق معلومت حاصل کیں۔بعد ازاں انہوں نے رام نگرلونی، محلہ سادات، محلہ عروب، محلہ شاہ علی خان، محلہ بسم اﷲخان ، محلہ محبوب سبحانی کا دورہ کرتے ہوئے گھر گھر جاکر مسلمانوں سے ملاقات کی ۔اس موقع پر پسماندگی کا شکار مسلمانوں کی ابتر حالت، بوسیدہ تنگ مکانات کو دیکھ کرکن بی سی کمیشن حیرت زدہ ہوگئے۔مسلمانوں نے اپنی مشقت اور یومیہ آمدنی کے ذریعے گذر بسر ، بچوں کی تعلیمی فیس، علاج و معالجہ کا خرچہ و دیگر اخرجات کے بارے میں بی سی کمیشن کو واقف کرواتے ہوئے استفسار کیا کہ آخر ہمارے حالات کب بہتر ہوں گے۔بی سی کمیشن کے جائزہ میں یہ دیکھنے کو ملا کہ کئی مسلم نوجوان تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے حصول تعلیم کے عمر میں چھوٹے چھوٹے کاروبار کی طرف رُخ کئے ہوئے ہیںاور یومیہ آمدنی کے ذریعے  اپنے گھر کا سہارا  بنے  ہوئے ہیں۔ مسلم خواتین اپنے گھریلوکام کاج کے ساتھ ساتھ گھر کے میں رہ کر سلوائی و دیگر کام کاج کرنے پر مجبور ہیں۔محلہ رام نگر لونی کے ترکاری فروش شیر علی کے مکان کا بی سی کمیشن نے تفصیلی جائزہ لے تے ہوئے ان سے ان کے کاروبار سے متعلق استفسار کرنے پر انہوں نے بتایاکہ وہ روزانہ اپنے رکشہ میں ترکاری لاد کر مارکٹ لے جاتے ہیںاور اس سے ملنے والے آمدنی سے ایک دن کا گذارہ ہوجاتا ہے۔ بی سی کمیشن کے رکن نے انہیں دلاسہ دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت مسلمانوں کی پسماندگی کا خیال کرتے ہوئے انہیں ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی غرض سے یہاں روانہ کی ہے انہوں نے مسلمانوںکی ابتر صورتحال کی رپورٹ کو حکومت تک پہونچانے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ یقینًا مسلمانوں کے مسائل حل ہوں گے۔کئی گھر وں کی خواتین نے یہ شکایت کی کہ ہمیں حکومت کی اسکیمات سے استفادہ کا موقع نہیں مل رہا ہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ مینارٹی ویلفیئر آفیسر مسٹر سپتگیری،جناب محمد افتخار الدین ایڈوکیٹ ہائی کورٹ،محکمہ اقلیتی بہبود کے سینئیر اسسٹنٹ جناب محمد رفعت ،مسلم کونسلرس جناب محمد حبیب الرحمٰن،محمد خواجہ خان، مساجد کمیٹی کے معتمد جناب شیخ مسعود، نائب صدر جناب محمد ابراھیم ٹی آر ایس کے قائدین جناب محمد غوث محی الدین، جناب سید شکیل کے علاوہ مختلف تنظیموں سے وابستہ حضرات ہمراہ تھے۔قبل ازیں ناگرکرنول کے آراینڈ بی گیسٹ ہاؤز میںبی سی کمیشن کا شاندار استقبال کیا گیا۔اس موقع پر انتظامی کمیٹی مساجد ناگرکرنول کی جانب سے معتمد کمیٹی جناب شیخ مسعود ، وقف مینیجنگ کمیٹی کیجانب سے معتمد جناب عبداﷲخان، خازن جناب محمد انیس احمد خان،مسلم حقوق سادھنا سمیتی کی جانب سے جناب نظام الدین، جناب محمد احمد، مسلم کونسلرس جناب محمد حبیب الدین، جناب محمد خواجہ خان ود یگرنے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے مطالبہ پر مشتمل یاداشت کو بی سی کمیشن کے رکن انجنیلوکوپیش کی۔اس موقع پر مسٹر انجنیلو رکن بی سی کمیشن نے کہا کہ حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی غرض سے بی سی کمیشن کو ریاست تلنگانہ کے 31 اضلاع کا دورہ کرواتے ہوئے مسلمانوں کی حالت زار اور پسماندگی کا جائزہ لے رہی ہے اور بی سی کمیشن مکمل سروے کے بعد مسلمانوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ حکومت کو پیش کریگی۔اس موقع پر جناب محمد افتخار الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ مسلمان تعلیمی، معاشی ، سیاسی طور پر پسماندگی کا شکار ہیں اور ٹی آر ایس حکومت نے انتخابات سے سے قبل مسلمانوں کو دئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کے وعدے کے مطابق سدھرکمیشن کا قیام عمل میں لایا اور بعد میں بی سی کمیشن کاقیام عمل میں لاتے ہوئے مسلمانوں پسماندگی کا جائزہ لے رہی ہے اورامید ہے کہ بی سی کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد حکومت مسلمانوں کو اپنے وعدے کے مطابق 12% تحفظات فراہم کریگی۔

TOPPOPULARRECENT