Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / تعمیر کعبۃ اللہ شریف کی مختصر تاریخ

تعمیر کعبۃ اللہ شریف کی مختصر تاریخ

موسیٰ ابوخالد صدیقی
کعبۃ اللہ شریف دنیا کی سب سے قدیم عمارت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو فرشتوں نے تعمیر کیا۔ یہ عرش معلّٰی کے نیچے واقع ہے۔ کعبۃ اللہ کو بیت الحرام، مسجد الحرام اور بیت العتیق بھی کہا جاتا ہے۔ کعبۃ اللہ کے چار رکن ہیں، رکن حجر اسود، رکن عراقی، رکن شامی اور رکن یمانی۔ اس وقت کعبۃ اللہ کو دنیا کی سب سے قدیم عمارت کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کی سب سے بڑی عمارت ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، جس کے اندرونی حصہ میں دس لاکھ اور اطراف و اکناف میں بیس لاکھ لوگ بیک وقت مسجد حرام میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے عرش کے نیچے بیت المعمور تعمیر فرمایا، جس کا ستر ہزار فرشتے ہمیشہ طواف کرتے رہتے ہیں اور جو ایک مرتبہ طواف کرتے ہیں، انھیں دوبارہ طواف کا موقع نہیں ملتا۔ اسی بیت المعمور کے نیچے اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے کعبۃ اللہ کی تعمیر کا فرشتوں کو حکم دیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر بھیجا گیا تو وہ زمین پر آکر ملائکہ کی پاکیزہ باتیں سننے سے محروم ہو گئے۔ جب آپ کا دل مغموم اور اداس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ’’آپ مکہ مکرمہ جائیں اور وہاں میرا گھر تعمیر کرکے اس کا طواف کریں اور اس کے اطراف نماز پڑھیں، جس طرح میرے فرشتے عرش کا طواف کرتے اور اس کے پاس نماز پڑھتے ہیں‘‘۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام حضرت جبرئیل علیہ السلام کی رہنمائی میں مکہ مکرمہ پہنچے اور وہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارکر کعبۃ اللہ کی بنیاد ظاہر کردی، اس طرح روئے زمین کے سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام نے روئے زمین کی سب سے پہلی عمارت کعبۃ اللہ کی تعمیر فرشتوں کی مدد سے فرمائی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے چالیس مرتبہ کعبۃ اللہ کا حج ادا فرمایا۔ آپ کے انتقال کے بعد آپ کے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر فرمائی۔ زمانے کے ساتھ ساتھ کعبۃ اللہ شریف بھی دنیا کے نشیب و فراز سے گزرتا رہا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں جب طوفان آیا تو آپ کی کشتی کعبۃ اللہ کے گرد گھومتی رہی، پھر اس کے بعد آپ کی کشتی نے اپنا رُخ جودی پہاڑ کی طرف موڑ دیا اور وہاں پہنچ کر ٹھہر گئی۔

طوفانِ نوح کے چار سو سال بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر کعبۃ اللہ کی تعمیر فرمائی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب کعبۃ اللہ کی تعمیر فرما رہے تھے تو اس وقت آپ کی عمر شریف ایک سو دس سال اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر شریف بیس سال تھی۔ واضح رہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلۂ نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملتا ہے، جب کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلۂ نسب حضرت یعقوب علیہ السلام سے ملتا ہے۔ حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کردہ کعبۃ اللہ کی عمارت بوسیدہ ہو گئی تو بنو جرہم (جن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا سسرالی رشتہ ہے) نے اس کی تعمیر کی۔ پھر اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فرزند حضرت نابت کعبۃ اللہ کے متولی بنے۔ مکہ مکرمہ میں جب قصی بن کلاب کی حکومت مستحکم ہو گئی تو انھوں نے کعبۃ اللہ کی بوسیدہ عمارت کو پھر ازسرنو تعمیر کی اور پہلی مرتبہ کعبۃ اللہ کی چھت کھجور کے تختوں اور ٹہنیوں سے بنائی گئی اور کعبۃ اللہ کی صحن کو وسیع کیا گیا۔ قبیلۂ قریش میں حضرت قصی پہلے شخص تھے، جنھوں نے کعبۃ اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد میں سے تھے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے پانچ سال قبل قبیلۂ قریش نے حسب ضرورت کعبۃ اللہ کی تعمیر کی۔ قبلۂ قریش میں اس وقت کئی چھوٹے گروہ طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ جب کعبۃاللہ کی تعمیر مکمل ہونے لگی تو حجر اسود کی تنصیب کا مسئلہ پیش آیا۔ اس وقت سارے گروہوں کے درمیان ٹھن گئی کہ حجر اسود کو ہم نصب کریں گے اور یہ مسئلہ اس قدر سنگین ہو گیا کہ جنگ کی شکل اختیار کرگیا۔ اسی کشمکش میں پانچ دن گزر گئے، پھر قبیلۂ قریش کے سرکردہ افراد اس مسئلہ کو سلجھانے کے لئے کعبۃ اللہ میں جمع ہوئے اور ان میں سے ابوامیہ بن مغیرہ (جو قریش کے سب سے زیادہ عمر رسیدہ اور تجربہ کار فرد تھے) نے یہ تجویز پیش کی کہ کل صبح حرم شریف میں جو شخص سب سے پہلے داخل ہوگا، اسے حَکَم بنا لیا جائے اور وہ جو بھی فیصلہ کرے، تمام قبائل کے سردار اس شخص کے فیصلہ کو تسلیم کریں۔

اللہ تعالیٰ کی شان کریمی اور ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ‘‘ کا معجزہ دیکھئے کہ سب سے پہلے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحنِ کعبہ میں تشریف لاتے ہیں۔ دیکھتے ہی لوگوں کی آوازیں گونج اُٹھیں کہ ’’یہ تو امین ہیں اور ہم ان کے فیصلہ سے راضی رہیں‘‘۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انصاف دیکھئے کہ آپﷺ نے ایک بڑی چادر منگوائی اور چادر کے بیچ میں سنگ اسود کو رکھا۔ پھر تمام قبائل کے سرداروں کو چادر کے چاروں کونے پکڑکر حجر اسود کو اُٹھانے کے لئے کہا اور جب لوگ سنگ اسود کو اُٹھاکر کعبۃ اللہ کی دیوار کے قریب پہنچے تو آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے سنگ اسود کو اُٹھاکر اس کے مقام پر نصب فرمادیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT