Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / تغذیہ کی کمی کا شکار ہندوستانی بچے

تغذیہ کی کمی کا شکار ہندوستانی بچے

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے لاکھوں بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو و نما نہیں ہوپاتی ۔ جب کہ ہندوستان ایک مضبوط جمہوری ملک ہے جو منگل ستارے تک اپنا سیارہ بھیج چکا ہے ۔ لیکن یہاں کے بچے افریقہ کے انتہائی غریب ممالک کے بچوں سے بھی کہیں زیادہ کمزور ہیں ۔ لوک تنتر کی گمبھیر ناکامی کی نمائندگی کرتا ہندوستان دنیا میں تغذیہ کی کمی کے شکار بچوں کا مرکز بن گیا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار (دوسرے آنکڑے تو اور بھی اونچے ہیں) کے مطابق 39 فیصد بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں ۔ اس معاملے میں ہندوستان کی حالت برکینا ، فاسو ، ہیتی ، بنگلہ دیش ، پاکستان یا پھر شمالی کوریا جیسے ممالک سے بھی بد ترہے ۔ یونیسف گلوبل نیوٹریشن ڈبیٹ 2012 کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 20 ملین سے زیادہ 15 فیصد نوزائیدہ بچے ولادت کے وقت مقررہ وزن سے کم ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک تہائی ہندوستان کے ہیں ۔ جنوبی ایشیا میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے ۔ ہر چار بچوں میں سے ایک کا وزن 2,500 گرم سے بھی کم ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں لو برتھ ویٹ Low birth weight کے واقعات 20 فیصد سے بھی زیادہ ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے 24 ممالک میں سے ان واقعات کا  50 فیصد وزن صرف 5 ممالک پر ہے ۔ یہ اس وقت ہے جب پیدائش کے وقت دنیا بھر میں آدھے بچوں کا وزن نہیں کیا جاتا ۔ اس سے نومولود کی دیکھ ریکھ میں ہونے والی لاپروائی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اس لئے لو برتھ ویٹ کے صحیح اعداد کا تخمینہ ایک بڑا چیلنج ہے ، جن 5 ممالک پر لو برتھ ویٹ کا آدھا وزن ہے ان میں پیدائش کے وقت بچوں کا وزن 2500 گرام سے بھی کم درج کیا گیا ۔ صرف اکیلے ہندوستان میں ایسے بچے 7.5 ملین تھے اور باقی دنیا میں 9.5 ملین ۔ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد 1.5 ملین ، نائجیریا میں 0.8 ملین ، بنگلہ دیش 0.7 ملین اور فلپائن 0.5 ملین نوٹ کی گئی ہے ۔ بچے کو پیدائش کے بعد ماں کا گاڑھا دودھ دینا چاہئے اس سے وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ماں کے دودھ میں قدرت نے بچے کے لئے ضروری غدائیت رکھی ہے  جو اسے تغذیہ کی کمی جیسے خطرناک مرض سے بچاتا اور اس کی نشو و نما میں مدد کرتا ہے ۔ ڈاکٹروں کی مانیں تو 6 ماہ تک بچے کوصرف ماں کا دودھ دینا چاہئے اس کے سوا کچھ بھی نہیں ، یہاں تک کہ پانی بھی نہیں ۔مذہب اسلام میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی تاکید کی گئی ہے ۔ اسلام میں لڑکوں کو پونے دو سال اور لڑکیوں کو سوا دو سال تک دودھ پلانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ سوائے اس کے کہ کسی بیماری کی وجہ سے ماں کے دودھ سے بچے کو نقصان نہ پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو ۔ خواتین اپنی صحت کے خراب (کمزور) ہونے یا پستان لٹکنے کے ڈر سے بچوں کو دودھ پلانے سے کتراتی ہیں ۔ بریسٹ فیڈنگ کی وجہ سے خواتین کئی طرح کی پریشانیوں سے محفوظ رہتی ہیں جن میں سے ایک بریسٹ کینسر بھی ہے ۔ دودھ نہ پلانے کی وجہ سے ماں کا بچے کے ساتھ جڑاؤ پیدا نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے اس کا بچے کی نشو ونما پر خراب اثر پڑتا ہے ۔ یونیسف کے رپورٹ کے مطابق 2006 میں بریسٹ فیڈنگ کا تناسب 44 فیصد تھا جو بڑھ کر 2012 میں 64 فیصد ہوگیا ۔ یونیسف نے 2010 کے تخمینے کے مطابق پانچ لاکھ حاملہ عورتوں نے آئرن فولک ایسڈ اور آیوڈین سپلی منٹ کا استعمال کیا تھا جس کا 6 ماہ کے ایک ملین بچوں کو فائدہ ملا ۔ ان میں غذائیت کی کمی کی شکایت نہیں پائی گئی ۔

تقریباً 20 کروڑ آبادی والے اترپردیش میں تغذیہ کی کمی کی تصویر اور بھی بھیانک ہے ۔ خود سرکاری اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریاست میں 5 برس سے کم عمر کے زیادہ تر بچے تغذیہ کی کمی کا شکارہیں ۔ 2015 کی عالمی ٹیوٹریشن رپورٹ کے مطابق اترپردیش کی حالت افریقہ کے تمام دیشوں سے خراب ہے ۔ غذائیت کی کمی سے جسمانی نشو و نما پر تو اثر پڑتا ہی ہے ، اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں کے ذہن یا دماغ کی نشو و نما پر پڑتا ہے ۔ بچپن میں غذائیت کی کمی بچے کی دماغی صحت کو وہ نقصان پہنچاتا ہے جس کی بھرپائی کبھی نہیں ہوسکتی ۔ غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے ذہن کی نشو ونما ٹھیک سے نہیں ہوپاتی ، یہی وجہ ہے کہ بیچ میں پڑھائی چھوڑنے والوں میں تغذیہ کی کمی کا شکار بچوں کا اوسط زیادہ ہوتا ہے  ۔ نیشنل چائلڈ ہیلتھ پروگرام  کے تحت دسمبر 2013 میں اترپردیش کے 98 لاکھ بچوں کی صحت کی جانچ کی گئی تھی ۔ ان میںسے 35 لاکھ بچے کسی نہ کسی بیماری سے متاثر تھے ۔ سکریٹری صحت و علاج پرویر کما نے بتایا کہ ریاست میں پیدائش سے لے کر 19 سال کے 1.64 ملین بچوں اور نوعمروں کی جانچ کی گئی ۔ 1500 ٹیموں نے بچوں کی لمبائی ، وزن ، نظر اور دیگر جانچیں کیں ۔ 17 فیصد بچوں میں خون کی کمی 12 فیصد میں دانتوں کی بیماریاں ، نو فیصد میں انفکشن ، سات میں جلد کی تو چار میں کان کی بیماریاں اور چار میں جزوی معذوری پائی گئی ۔ مرکزی ہیلتھ سکریٹری کے ڈی راجو نے یو پی میں حفظان صحت کی خدمات کی بدحالی میں سدھار کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے آنکڑے خراب ہورہے ہیں ۔ دیش میں بچوں کی اموات اور ایک لاکھ پر 212 سے گھٹ کر 178 ہوگئی ہے لیکن اترپردیش میں یہ تعداد 300 ہے ۔ انہوں نے بچوں کی اموات کے زیادہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش کے بچوں میں غذائیت اور آئرن کی کمی عام طور پر پائی جاتی ہے ۔ ان کے مطابق یو پی کے بچوں میں دانت خراب اور پیٹ میں کیڑے ہونے کی شکایت پائی گئی ہے ۔ اس کی وجہ کھلے میں رفع حاجت کے لئے جانا ، کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھونا ، آئرن و کیلشیم کی گولیاں نہ لینا وغیرہ بتایا گیا ہے ۔ انہوں نے ریاستی سرکار کو سال میں دو بار بچوں کی صحت کی جانچ کرانے کی صلاح دی ہے ۔ یہ مسئلہ یو پی ، بہار ، بنگال ، جھارکھنڈ ،چھتیس گڑھ ، آسام جیسی صرف کمزور ریاستوں کا نہیں ہے بلکہ گجرات ، مہاراشٹرا میں بھی تغذیہ کی کمی اتنی بھیانک شکل میں موجود ہے ۔ مہاراشٹرا کے امراوتی جیسے کئی اضلاع کی غذائی کمی والے ضلع کے طور پر نشان دہی کی ہے تاکہ ان اضلاع پر خصوصی توجہ دی جاسکے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گجرات میں یہ مسئلہ اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے ، دیہی ہندوستان میں یہ مسئلہ جسمانی و ذہنی نشو ونما سے آگے بڑھ چکا ہے ۔ کئی بچے کمزوری کی وجہ سے موت کے کگار تک پہنچ چکے ہیں ۔ بل اینڈ ملنڈ اگٹیس فاؤنڈیشن کے ماہر غذائیت شان بیکر کہتے ہیں کہ گاؤں کے دورے کی بدولت مجھے ایسے اہم مدوں کو سمجھنے کا موقع ملا جن کی طرف عموماً لوگ کم دھیان دیتے ہیں ۔ جب لاکھوں بچے بغیر کسی وجہ کے غذائیت کی کمی کے شکار ہورہے ہوں تب ان کی زندگی بچانا دنیا کی ترجیح ہونی چاہئے ۔ بچوں میں تغذیہ کی کمی کے معاملے میں ہندوستان کی خراب حالت کی وجہ کیا ہے ؟ اس سے لے کر دو طرح کی باتیں سامنے آئی ہیں ۔ اول یہ کہ سماج میں خواتین کی خراب حالت کا رحم میں پل رہے بچے پر زیادہ اثر پڑتا ہے جتنا اب تک مانا جاتا تھا ۔ ہندوستان کے زیادہ تر خاندانوں میں خواتین آخر میں کھانا کھاتی ہیں ۔ روایت یہ ہے کہ بچے مردوں اور لڑکوں کو پہلے کھانا دیا جاتا ہے ان سے بچا ہوا کھانا خواتین اور لڑکیاں کھاتی ہیں ۔ کئی مرتبہ کھانا کم پڑنے کی صورت میں خواتین پیٹ بھر کھانا نہیں کھاپاتیں ۔ اس میں دوبارہ کھانا بنانے کی کاہلی اور بڑے بزرگ کیا کہیں گے یہ بھی وجہ شامل ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ سے 42  فیصد ہندوستانی عورتوں کا وزن حمل ٹھہرنے سے پہلے کافی کم ہوتا ہے ۔ یہی نہیں حمل کے دوران عورتوں کاجتنا وزن ہونا چاہئے ہندوستان کی خواتین اس کے آدھے تک ہی پہنچ پاتی ہیں ۔ حمل کے آخری مرحلہ میں ہمارے ملک کی عورتوں کا وزن سے کم ہوتا ہے جتنا کہ برصغیر افریقہ کی اوسط خاتون کا حمل کی شروعات میں ہوتا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر بہت سے ہندوستانی بچے رحم میں ہی غذائیت کی کمی کے شکار ہوجاتے ہیں جس سے وہ کبھی باہر نہیں نکل پاتے ۔ یہ اس وقت ہے جب کہ ہندوستان کے آئین نے دفعہ 21 میں جینے کے حق کا بھروسہ دلایا ہے ۔ سرکار نے فوڈ سیکورٹی بل لا کر عوام کے اس حق کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی  ۔ اسکولوں میں بچوں کو مڈ ڈے میل دینے کی شروعات بھی اسی کا حصہ ہے ۔ بلاشبہ اس سے فائدہ ہوا اور اسکولوں میں بچوں کی حاضری بڑھی یہ عمل بچوں میں غذائیت کو دور کرنے میں معاون ہوتا لیکن اس اسکیم کو لاگو کرنے میں کئی سطح پر کمیاں پائی جاتی ہیں ۔ اس لئے اس اسکیم کا خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آسکا ۔ فوڈ بل میں ایسے لوگوں کو کھانا مہیا کرانے کا ذمہ لیا گیا تھا جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ پھر بھی کروڑوں لوگ بھوکے یا آدھا پیٹ رہنے کو مجبور ہیں ۔ 40 سے 45 فیصد بچے غذائیت کی کمی کے شکار ہیں ۔ کم خوراک کی دوسری وجہ صفائی کی کمی یعنی کھلے میں رفع حاجت مانا جاتا ہے ۔ تقریباً آدھا ہندوستان کھلے میں رفع حاجت کرتا ہے ۔

غور طلب ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں میں نوزائیدہ اموات کم ہیں باوجود اس کے مسلمان زیادہ غریب ہیں  ۔ اس کی ایک وجہ مسلمانوں میں بیت الخلا کا زیادہ استعمال کرنا ہوسکتی ہے ، اس مسئلہ کو زندگی اور موت کے سوال ایسا سنجیدہ ماننا ہوگا ۔ اپنے لوگوں کو حفاظت دینے کے لئے سرکاریں ٹینکوں اور لڑاکا جہازوں میں سرمایہ لگاتی ہیں مگر ان کو سب سے بڑا خطرہ بیت الخلاء نہ ہونے سے ہے ۔ پوری دنیا میں بیت الخلاء کے مقابلہ موبائل فون تک لوگوں کی پہنچ زیادہ آسان ہے ۔ صفائی کی کمی کی وجہ سے لاکھوں لوگ ایسے امراض سے موت کے شکار ہوجاتے ہیں جن کا علاج آسانی سے ممکن ہے ۔ گاؤں والوں کے پاس اپنا موبائل فون تو ہے لیکن ایسے لوگ کم ہیں جن کے گھر میں بیت الخلاء کا انتظام ہے اور بیت الخلاء استعمال کرنے والے اس سے بھی کم ہیں ۔ ہندوستان کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بچوں میں غذائیت کی کمی کو ’قومی شرم‘ بتایا تھا لیکن اس سے بچاؤ کے لئے سیاسی عزائم کی اب بھی کمی ہے ۔ اس معاملہ میں جو ہورہا ہے وہ ٹھیک الٹا ہے ۔ مدھیہ پردیش سرکار نے بچوں کے مڈڈے میل میں انڈوں کو شامل کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ اس سے غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ۔ اس سے ایک مضبوط دیش خود کو کمزور کررہا ہے ، ہونا تو یہ چاہئے ک اس قومی کلنک کو دور کرنے کے لئے مہم چلائی جائے تاکہ بچوں کو طاقتور بنایا جاسکے۔ نئی نسل مضبوط ہوگی تبھی کل ملک طاقتور بنے گا ۔

TOPPOPULARRECENT