Wednesday , October 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / تفکر سے نورمعرفت حاصل ہوتا ہے

تفکر سے نورمعرفت حاصل ہوتا ہے

فکر انفرادی بھی ہوتی اور اجتماعی بھی۔ جب کوئی قوم غوروفکر اور تفکر کو خیرباد کہہ دیتی ہے تو تباہ ہوجاتی ہے۔ خدا کا عذاب جو تاریخ میں مختلف قوموں پر آتا رہا ہے۔ زلزلہ، پتھروں کی بارش، طوفان بادوباراں، سیلاب، گروہی اختلاف کے بعد آپس کی قتل و غارت گری وغیرہ یہ سب یا اس کے علاوہ بھی عذاب الہٰی کی متعدد شکلیں ہیں لیکن خدا کا ایک بڑا عذاب وہ ہے جو قوموں پر ’’محرومی فکر‘‘ کی صورت میں نازل ہوتا ہے اور پوری قوم محروم الفکر اور فاترالعقل ہوکر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح فکر کا ایک طریق خوداحتسابی کا عمل بھی ہے یعنی اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا۔
ایک عرصہ دراز سے مسلمانوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ پوری امت مسلمہ بے فکر ہوکر بے شعور ہوچکی ہے۔ اب ان کے سارے کام بے عقلی کے ہورہے ہیں۔ من حیث المجموع  ملت اسلامیہ ایک ناسمجھ قوم بن کر رہ گئی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں جس طرف چاہتا ہے ہانک کر لے جاتا ہے۔ سوچ سے محرومی ہی کا نتیجہ ہے کہ نادانی، بے عقلی، علوم و فنون سے ناآشنائی، تاریخ سے ناواقفی، اقوام کی مزاج ناشناسی ان کی شناخت بن چکی ہے اور جذباتیت ہی ان کا مزاج بن چکا ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں ہی کو دیکھ لیں ان کی ہزار سالہ تاریخ نامعقولیت کی ایک طویل دستان ہے۔ جو قدم اٹھاتے ہیں غلط اٹھتا ہے، جذباتی مقرروں اور خطیبوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ خود فکر سے محروم ہوچکے ہیں۔ آج سے ۷۰، ۸۰  سال پہلے مفلوج العقل ہو کر انہوں نے جو فیصلے کئے، آج اس پر پچھتا رہے ہیں لیکن خرابی بسیار کے باوجود انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی ان کی روش میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی سوچ اوندھی ہوچکی ہے۔ یہ محض فکر سے محرومی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج وہ دنیا میں اقوام عالم سے ایک ہزار سال پیچھے ہوچکے ہیں۔ دین و مذہب سے بظاہر وابستہ ضرور ہیں لیکن رسمی طور پر ’’روح محمد صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ ان سے نکل چکی ہے۔ آج ان کے امام بے حضور ہیں اور نمازیں بے سرور۔ ان کے حج محض سیر و سیاحت، ان کا جہاد، فی سبیل اللہ فساد کی مکمل تصویر ہے اور ان کی سیاست حمایت کی پوٹ۔ یہ نیک کام بھی کرتے ہیں تو اس میں نیکی کی روح نہیں ہوتی۔ یہ ساری باتیں محرومی فکر کے تلخ ثمرات ہیں حالانکہ یہ جس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں وہ پکار پکار کر انہیں دعوت فکر دے رہی ہے۔ جس رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کو یہ اپنا ہادی برحق اور شافع مطلع مانتے ہیں اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی ہر بات حکیمانہ ہے۔ عقل و شعور، علم و آگہی کا بے مثال پیغام ہے لیکن آج مسلمان نہ قرآن میں تدبر کرتے ہیں نہ احادیث میں تفکر، نہ آفاق کا مشاہدہ ہے نہ انفس کا مطالعہ جبکہ صوفیا کرام نے بیسیوں مراقبات کی تعلیم دی ہے اور ہر مراقبہ کا طریقہ کار سمجھایا ہے۔ یہ دراصل خوداحتسابی کا ایک مثبت اور مستقل نظام ہے جو انہوں نے سالکان راہ طریقت کے نصاب میں شامل کرکے ’تفکر‘ کیلئے تمرینات فراہم کی ہیں لیکن آج صوفیا کا یہ سبق فراموش کردیا گیا ہے۔ خانقاہیں تفکر سے خالی ہوکر بے رونق ہوچکی ہیں۔ اس سبق کو ازسرنو یاد کرنے اور اس نظام کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حبس کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زندگی کی تازہ ہوا کا جھونکا آ سکے۔تفکر سے نورمعرفت حاصل ہوتا ہے۔ علم و آگہی کے دریچے کھلتے ہیں۔ اس سے انسان خداشناس اور خودی آشنا ہوتا ہے۔ اس سے انفس و آفاق کے حقائق ملوم ہوتے ہیں، اس سے اسرار و رموز کائنات کے دروازے وا ہوتے ہیں، اسی سے گردوں عالم بشریت کی زد میں آتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کا ارشاد ہے : ’ایک لمحہ کی فکر‘ ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے‘۔

یہ حدیث بجائے خود ایک عظیم دعوت فکر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک لمحہ کی فکر کو ایک سال کی عبادت سے بہتر فرمایا ہے۔ آخر اس میں کوئی تو رمز ہوگا۔ کوئی تو حکمت ہوگی لیکن پھر بھی آج ہم تفکر سے بے پرواہ ہوگئے ہیں، کیا یہ عقل کی ناقدری نہیں؟ کیا یہ کفرانِِ نعمت نہیں ہے۔ اللہ نے پھر عقل کس لئے دی ہے۔ ہم اس سے کام کیوں نہیں لے رہے ہیں۔ تفکر ناآشانا کیوں ہوگئے ہیں۔ ذرا سوچیں، ذرا سمجھیں۔ اللہ کی اس عظیم الشان نعمت کا عملاً انکار کرکے ہم کیا پھل پا رہے ہیں اور آئندہ ہمیں کیا ثمر حاصل ہوگا۔تفکر کا ایک عام طریقہ کار یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے بارے میں غور کریں، اس کے نظام پر غور کریں، اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر سامنے آئیں گے۔ اسرار و رموز اور حقائق کے دروازے کھلیں گے۔ حکمتیں آشکار ہوں گی تو انسان پکار اٹھے گا ربنا ماخلقت ھذا باطلا  ’’ اے ہمارے پروردگار ! یہ کائنات تو نے بیکار نہیں پیدا کی‘‘۔ یہ حق ہے اور سراسرحق۔
یہیں سے پھر انسان کو خوداحتسابی کی تحریک ہوتی ہے۔ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس نے کتنی نیکیاں کمائی ہیں اور کتنی برائیاں خریدی ہیں۔ اگر اسے نیکیاں نظر آئیں تو اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر برائیاں نظر آئیں تو توبہ و استغفار کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کرلینی چاہئے۔ موت، حیات، فنا، عذاب قبر، عذاب آخرت، سفرآخرت، جنت اور دوزخ کے بعد اسی طرح کے بیسیوں مراقبے ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔
خوداحتسابی کے عمل میں خدمت خلق کا جائزہ بھی ضرور لیتے رہنا چاہئے کہ آج میں نے خلق خدا کی کتنی خدمت کی اور خدمت خلق کے کتنے مواقع ضائع کردیئے۔ خدمت خلق کا جائزہ بھی روزانہ کے معمولات میں شامل رہنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنا کنبہ فرمایا ہے۔ بندوں کی بھوک پیاس کو اس نے اپنی بھوک پیاس قرار دیا ہے حالانکہ اس کی ذات بھوک پیاس سے منزہ ہے لیکن خدمت خلق کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے، یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیا کرام نے خدمت خلق کو اپنے مشن میں شامل کرلیا ہے۔ انشاء اللہ اس موضوع پر پھر کسی وقت گفتگو ہوگی۔ اس وقت میرا مقصود صرف نعمت عقل کے استعمال کی ترغیب دینا اور تفکر کی  اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ اللہ ہم سب کو تفکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

TOPPOPULARRECENT