Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / !تقاریر کی سی ڈی اور مسلکی اختلافات کام کر گئے 

!تقاریر کی سی ڈی اور مسلکی اختلافات کام کر گئے 

حیدرآباد۔13مارچ (سیاست نیوز) اترپردیش انتخابات میں اکثریتی ووٹوں کے متحد ہونے کے سبب بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل کامیابی کے متعلق کانگریس قائد مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے اپنے ٹوئٹر پر مجلس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’یہ جیتے تو نہیں ہیں لیکن بی جے پی کو جیتنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں‘‘ ملک بھر میں بی جے پی کی اترپردیش میں کامیابی پر تشویش کا اظہارکیا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسی دوران بعض علاقوں سے عیسائیوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ملنی بھی شروع ہو گئی ہیں۔ 11مارچ کو انتخابی نتائج کے بعد سے تمام سیاسی جماعتیں اپنی ناکامی کا جائزہ لے رہی ہیں لیکن کامیاب ہونے والی جماعت کے قائدین اب بھی متفکر ہیں جس کا کارکنوں پر کوئی اثر نہیں ہے بلکہ کارکن پارٹی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہو چکے ہیں ۔ اتر پردیش میں ووٹوں کے فیصد کا جائزہ لینے کے بعد کامیابی کی نشستوں کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہورہی ہے کہ 2012میں سماج وادی پارٹی نے جو ووٹ حاصل کرتے ہوئے 224نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اس مرتبہ سماج وادی اور کانگریس میں اتحاد کے بعد بھی کیوں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائے؟ اترپردیش کے عوام اور وہ جو رائے دہی میں حصہ لے چکے ہیں ان میں نتائج سے بے اطمینانی کی کیفیت پائی جاتی ہے کیونکہ انہیں یہ نتائج ہضم نہیں ہو رہے ہیںاور اس بات کا انکشاف بی بی سی کی رپورٹ میں بھی ہوا جو اترپردیش کے گلی کوچوں میں گھوم کر عوام سے بات کرتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ انتخابی نتائج کے متعلق جاری برہمی کا شکار نہ صرف مسلم سیاسی جماعتوں کو بننا پڑ رہا ہے بلکہ بخاری اور دیگر مذہبی شخصیتوں کے مختلف جماعتوں کو کی جانے والی تائید پر بھی سیکولر اور مسلم گوشوں سے شدید برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں سیکولر اور عوامی رائے کو منقسم کرنے والی طاقتوں میں مسلکی اختلافات بھی اہم عنصر ہونے کے ساتھ ساتھ انصاری‘ شیخ ‘ سید ‘ بخاری اور دیگر طبقاتی اختلافات نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر جاری تبصروں میں جو بات کہی جا رہی ہے ان میں ایک حقیقت پسندانہ تبصرہ یہ کیا جا رہا ہے کہ ’’ہزاروں کو ماننے والے ایک ہو گئے اور ایک کو ماننے والے ہزاروں خانوں میں منقسم ہو گئے ‘‘ انہیں منقسم کرنے کی جو سازش کی گئی اسے ہوا دینے کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی کیونکہ ہزاروں کو ماننے والوں کو اشتعال انگیز تقاریر بالخصوص سماج وادی قائد اعظم خان اور مجلسی قائد مقننہ مقامی جماعت کی تقاریر کی سی ڈی کی تقسیم نے انہیں ایک کردیا جن کے پاس ذات پات کا نظام موجود ہے لیکن وہ جو بکھرے ہوئے ہیں انہیں دی گئی اتحاد کی دعوت نے اثر تو نہیں کیا مگر حزب مخالف کی کامیابی آپسی انتشار کے سبب ممکن ہو گئی۔ اسی طرح بی جے پی کے بعض قائدین نے دیوبند سے کامیابی کی صورت میں دیوبند میں کرفیو لگوا دوں گا جیسے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ اکثریتی رائے دہندوں کو متحد کیا۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اترپردیش کے عوام کہتے ہیں کہ وہ بولتے اچھا ہیں اور سچ بولتے ہیں جوبات ان کے دل میں اتر جاتی ہے لیکن بی جے پی کو روکنے کیلئے انہیں ووٹ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس اعتراف کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کو اترپردیش کے سیاسی مبصرین سیاسی غیر دانشمندی قرار دے رہے ہیں اور واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی کامیابی کیلئے حیدرآباد بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد رکن پارلیمنٹ کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اترپردیش کے ایک سیاستداں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں اس بات کا احساس تھا تو پھر انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہی کیوں ؟ اسی طرح کے سوالات اب اترپردیش کے گلی کوچوں میں کئے جانے لگے ہیں اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ آئندہ جو کچھ حالات پیدا ہوں گے ان کیلئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے۔ ان انتخابی نتائج نے فرقہ پرستوں کے حوصلوں میں اضافہ کیا ہے اور اس کے اثرات اب نظر آنے لگے ہیں اور عیسائی مشنری کے ایک چرچ کو جو کہ خوشی نگر شاملی میں اس پر حملہ کیا گیا اور پادری کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس علاقہ کی عیسائی آبادی 150نفوس پر مشتمل ہے اور اس چرچ پر کافی عرصہ سے فرقہ پرستوں کی نگاہیں مرکوز تھیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT