Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تقررات میں مسلم امیدواروں کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کی ہدایت

تقررات میں مسلم امیدواروں کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کی ہدایت

خوشحال طبقہ کے سرٹیفیکٹ کی اجرائی میں تاخیر نہ کریں‘ عہدیداروں کے اجلاس سے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 26۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ضلع کلکٹرس اور تحصیلداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسلم امیدواروںکو کریمی لیر(خوشحال طبقہ) سرٹیفکٹ کی اجرائی میں تاخیر نہ کریں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تمام ضلع کلکٹرس اور تحصیلداروں کو احکامات جاری کئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تقررات میں مسلم امیدواروں کو بی سی ای سرٹیفکٹ کے علاوہ نام کریمی لیر سے متعلق سرٹیفکٹ پیش کرنے کی شرط پر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس سلسلہ میں محکمہ بی سی ویلفیر سے معلومات حاصل کیں اور بتایا کہ کریمی لیر سے متعلق سرٹیفکٹ کا لزوم صرف بی سی ای طبقہ کیلئے محدود نہیں ہے بلکہ بی سی زمرہ کے تمام طبقات کو یہ سرٹیفکٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے احکامات اور متحدہ آندھراپردیش میں جاری کردہ جی او کی تفصیلات سے واقف کرایا گیا ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد تلنگانہ حکومت نے اس جی او پر عمل آوری کو برقرار رکھا جس کے تحت سالانہ 6 لاکھ روپئے آمدنی رکھنے والے خاندان کے طلبہ کو نان کریمی لیر کا سرٹیفکٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ اس سلسلہ میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے صدرنشین اور سکریٹری سے بات چیت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں تقررات کے موقع پر مسلم امیدواروں سے ہرگز ناانصافی نہیں ہونی چاہئے ۔ حکومت تقررات میں 4 فیصد موجودہ تحفظات پر بہرصورت عمل کرے گی۔ محمد محمود علی نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی ویب سائیٹ پر صرف مسلم طلبہ کیلئے کریمی لیر سرٹیفکٹ کے لزوم کا جائزہ لیں اور اگر یہ صرف مسلم طلبہ کیلئے لازمی کیا گیا ہے تو اس میں ترمیم کی جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں روزنامہ سیاست میں شائع شدہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں اقلیتی امیدواروں سے ناانصافی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ سید عمر جلیل نے بتایا کہ وہ پبلک سرویس کمیشن کے ذمہ داروں سے بات چیت کریں گے۔ اگر بی سی کے تمام زمروں کیلئے یہ سرٹیفکٹ لازمی ہے تو کلکٹرس اور ایم آر اوز کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ امیدواروں کو مذکورہ سرٹیفکٹ جلد جاری کرے۔ تاکہ تقررات میں ان سے کوئی ناانصافی نہ ہو۔ پبلک سرویس کمیشن نے منتخب مسلم امیدوارں کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ بی سی ای (کاسٹ) سرٹیفکٹ کے علاوہ نان کریمی لیر سرٹیفکٹ پیش کریں۔ تحصیلداروں کے پاس حکومت کی جانب سے اس سرٹیفکٹ کا کوئی نمونہ روانہ نہیں کیا گیا جس کے باعث عہدیدار اس سرٹیفکٹ کی اجرائی سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پبلک سرویس کمیشن نے اپنی ویب سائیٹ پر نان کریمی لیر سرٹیفکٹ کا نمونہ پیش کیا ہے تاکہ امیدواروں کو سہولت ہو لیکن ایم آر اوز کی جانب سے اسے قبول نہ کئے جانے سے امیدواروں اور ان کے سرپرستوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے پہلی مرتبہ ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے اور پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ پہلے مرحلہ کے تقررات کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اچانک مسلم امیدواروں کیلئے کریمی اور نان کریمی لیر کے بارے میں سرٹیفکٹ طلب کرنے سے اندیشہ ہے کہ مسلم امیدوار تقررات میں 4 فیصد تحفظات سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے یقین دلایا کہ ضرورت پڑنے پر شرائط میں ترمیم کرتے ہوئے مسلم امیدواروں کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلم امیدوار 4 فیصد تحفظات کے حق سے  محروم نہیں رہے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT