Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / تقوے کی برکتیں

تقوے کی برکتیں

اللہ سبحانہ و تعالی دنیا و آخرت کا مالک ہے، جو قادر مطلق ہے، کل جہانوں کا پالنہار ہے، ساری انسانیت کو اس نے اپنی عبادت و معرفت کے لئے پیدا کیا اور دیگر مخلوقات پر فضیلت و فوقیت عطا کی۔ انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اس نے پیغمبران کرام و رسولان عظام کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنے مقدس کلام کو نازل فرمایا اور تا قیامت ساری انسانیت کی رشد و ہدایت کے لئے پیغمبر آخر الزماں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو کل جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا اور آپ کے ساتھ ایک عالمگیر و آفاقی کتاب بھی نازل فرمائی، جو زندگی کے ہر گوشہ پر محیط ہے اور ہر موڑ پر انسان کی رہنمائی کرنے والی ہے۔ یہ کتاب بھٹکی ہوئی انسانیت کو اپنے خالق و مالک سے ملانے والی ہے۔ اللہ تعالی نے اس کے ذریعہ سے اپنی مخلوق کو مخاطب کیا اور اپنی مرضی و ناراضگی کو ظاہر کیا، پسند و ناپسند کو آشکار کیا، مختلف احکامات دیئے اور کئی امور سے باز رہنے کی تلقین کی۔ ایک چیز کا اللہ تعالی نے بطور خاص ذکر کیا۔ قرآن مجید میں ۲۵۰ سے زائد مقامات پر اللہ تعالی نے اہل ایمان بلکہ ساری انسانیت سے ایک ہی چیز کا مطالبہ کیا ہے اور اگر انسان وہ جوہر حاصل کرلے تو دین و دنیا کی سعادت اس کے لئے ہے، وہ اس دنیا کا سکندر اور آخرت میں کامران ہے۔ وہی جوہر ایمان اور عبادات کا مقصود ہے، اسی کو معاملات میں پیش نظر رکھنے کا حکم ہے، وہی ساری انسانیت سے مطلوب ہے، جو دونوں جہاں میں کامیابی و کامرانی، خوشحالی اور سعادت مندی کی کلید ہے۔ وہ کوئی اور چیز نہیں تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔
اللہ تعالی ساری انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’’اے لوگو! تم اس رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پیشتر لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۱) اور اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے ’’اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘ (سورہ آل عمران۔۱۰۲) تقویٰ دین و دنیا میں کامیابی کا ضامن ہے۔ ارشاد فرمایا ’’اور اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، یقیناً تم (دین و دنیا میں) کامیاب ہو جاؤ گے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۱۸۹) تقویٰ سے اللہ تعالی کی خصوصی معیت اور قربت خاص ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا ’’اور اللہ تعالی سے تقویٰ اختیار کرو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالی متقین کے ساتھ ہے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۱۹۴ ) تقویٰ کے بغیر کوئی چارہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز سے باخبر ہے، وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ قلب و دماغ میں آنے والے وساوس و خطرات سے واقف ہے، دن کے اجالے اور رات کے اندھیرے میں کئے جانے والے اعمال اس سے پوشیدہ نہیں، ساری انسانیت اس کی طرف لوٹنے والی ہے، وہ ہرچھوٹی بڑی چیز کا حساب لینے والا ہے، انسان کا ہر قول و عمل اس کے پاس محفوظ ہے، اس کی گرفت سخت ہے، اس کا عذاب شدید ہے۔ ارشاد فرمایا ’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۳۱ ) ’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ تعالی جو تم عمل کرتے ہو اس کو دیکھنے والا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۳۳ )  ’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اس کی طرف جمع کئے جاؤ گے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۰۳ ) ’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اس سے ملاقات کرنے والے ہو‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۲۳ )  ’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اس کا عذاب شدید ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۱۹۶ )
تقویٰ عربی لغت کے اعتبار سے ’’وقایۃ‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی بچنے کے آتے ہیں۔ تقویٰ کی اصطلاحی تعریف و توضیح میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی اطاعت کی جائے، اس کی نافرمانی نہ ہو، اس کا ذکر کیا جائے اور نسیان نہ ہو اور تشکر کیا جائے اس کی ناشکری نہ ہو‘‘ (حاکم، مستدرک )
امام فخر الدین رازی نے تقویٰ کی تعریف ’’الخشیۃ‘‘ سے کی ہے، یعنی وہ خوف الہی کا نام ہے۔
حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ سے تقویٰ کی تعریف اس طرح منقول ہے کہ ’’تقویٰ اللہ بزرگ و برتر سے ڈرنے اور قران و سنت پر عمل کرنے اور دار آخرت کی تیاری کا نام ہے۔ جس اس طرح کرتا ہے اس نے حقیقت میں اللہ سے تقویٰ اختیار کیا‘‘۔ امام قشیری نے اپنے رسالہ میں تقویٰ کی فضاحت اس طرح کی ہے کہ ’’اللہ تعالی کے سواء ہر چیز سے بچنے کا نام تقویٰ ہے‘‘ (الرسالہ)
جلیل القدر محدث حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ’’دنیا اور آفات دنیا سے بچنا تقویٰ ہے‘‘۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں ’’تقویٰ ہر مشکوک چیز سے صرف نظر کا نام ہے‘‘ اور یہ تعریف بھی آپ کی طرف منسوب کی گئی ہے کہ ’’بلاشبہ متقی وہ ہے، جب وہ گفتگو کرے تو اس کا کلام اللہ تعالی کے لئے ہو اور جب وہ خاموش رہے تو اس کی خاموشی اللہ تعالی کے لئے ہو اور جب وہ ذکر کرے تو اس کا ذکر اللہ تعالی کے لئے ہو‘‘۔
حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اس وقت تک متقی نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے دوست اور دشمن اس سے مامون و محفوظ نہ ہوں۔ علامہ بیضاوی نے لغوی معنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقویٰ کے مراتب و درجات بیان کئے ہیں: (۱) ایمان لاکر کفر و شرک سے بچنا (۲) نیک اعمال کرنا اور برائیوں سے بچنا (۳) اللہ تعالی کے ذکر میں فنا و مستغرق ہو جانا اور غیر خدا کے تصور و خیال سے بچنا۔
جدید علماء نے قرآن مجید میں تقویٰ کے استعمال کو پیش نظر رکھتے ہوئے تقویٰ کی تعریف ’’احساس ذمہ داری‘‘ سے کی ہے کہ بندہ جب تک اپنے تئیں اللہ تعالی اور مخلوق کی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے صحیح اندام میں نہیں نبھائے گا، اس وقت تک وہ متقی نہیں کہلائے گا۔ علماء نے عمومی طورپر صحابہ کرام اور سلف صالحین کی تعریفات کی روشنی میں تقویٰ کو ایمان، خوف اور عمل سے تعبیر کیا ہے۔
غرض تقویٰ ایسی ڈھال ہے، جو انسان کو ہر وقت نفس اور شیطان کے حملوں سے بچاتی ہے، جس کے بلند قامت فیصلوں میں محفوظ ہوکر انسان دشمن کے ہر وار سے بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے نہ صرف اس امت کو بلکہ سابقہ امتوں کو بھی تقویٰ کا حکم دیا اور ہر نبی نے اپنی امت کو تقویٰ کی تلقین کی ہے۔ ارشاد الہی ہے: ’’تحقیق کہ ہم نے ان لوگوں کو وصیت کی ہے جو تم سے پہلے تھے اور تم کو بھی وصیت کی ہے کہ تم صرف اور صرف اللہ سے ڈرو (اس کا تقویٰ اختیار کرو)‘‘ (سورۃ النساء۔۱۳۱) ’’یاد کیجئے جب کہ ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرو گے‘‘ (سورۃ الشعراء۔۱۹)
’’یاد کیجئے جب کہ ھود نے ان سے کہا کہ تم تقویٰ اختیار نہیں کرو گے‘‘ (سورۃ الشعراء۔۱۲۴) ’’یاد کیجئے اس وقت کو جب کہ صالح نے ان سے کہا کیا تم نہیں ڈرو گے‘‘ (سورۃ الشعراء۔۱۴۲) ’’یاد کیجئے جب کہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم نہیں ڈروگے‘‘ (سورۃ الشعراء۔۱۶۱)
’’یاد کیجئے جب کہ شعیب نے ان سے کہا کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرو گے‘‘ (سورۃ الشعراء۔۱۷۷) ’’اور ابراہیم کو یاد کریں جب انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو‘‘۔ (سورۃ العنکبوت۔۱۶)
غرض مختلف انبیاء کرام نے اپنی امتوں کو تقویٰ کی تلقین کی ہے۔ یہی تخلیق کا مقصود ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کو نہ صرف تقویٰ کی تلقین کی، بلکہ اپنے عمل کے ذریعہ ساری امت کو تاحیات اللہ تعالی سے تقویٰ کی دعاء کرنے کی ترغیب دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے کہ ’’اے پروردگار! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور بے نیازی کی دعاء کرتا ہوں‘‘۔ ان شاء اللہ تعالی آئندہ تقویٰ کے فوائد و برکات اور دین و دنیا میں اس سے حاصل ہونے والے منافع و ثمرات کا تذکرہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT