Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر سے پانی کے ہر خطرہ کی حفاظت

تلنگانہ آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر سے پانی کے ہر خطرہ کی حفاظت

زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کا منصوبہ ، وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ کا ادعا
حیدرآباد۔/3ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے ذریعہ پانی کے ہر قطرہ کی حفاظت اور زرعی مقاصد کیلئے استعمال کا منصوبہ رکھتی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال کے خاتمہ اور کسانوں کو زرعی مقاصد کیلئے پانی کی سربراہی کیلئے مختلف پراجکٹس کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی کے باوجود حکومت پراجکٹس کی مقررہ وقت پر تکمیل کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آبپاشی پراجکٹس کے خلاف بیان بازی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پراجکٹس کی تکمیل کے سلسلہ میں تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے پراجکٹس کی تکمیل میں مبینہ بے قاعدگیوں اور کرپشن کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ توٹہ پلی پراجکٹ کی تعمیر کو روکنے کیلئے گزشتہ حکومت میں اسوقت کی اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں حکومت کو مکتوب روانہ کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجکٹ کو منسوخ کرتے ہوئے حکومت 6 مواضعات کو غرقاب ہونے سے بچانا چاہتی ہے۔ پراجکٹ کے ذریعہ 6000 ایکر اراضی کو پانی سیراب کرنے کیلئے ڈیزائن میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے اس اقدام کی ستائش کرنی چاہیئے بجائے اس کے وہ تنقیدیں کررہی ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پراجکٹ کی تعمیر میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کانگریس پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ پراجکٹس کی تعمیر کی مخالفت کی وجوہات سے عوام کو واقف کرائیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پراجکٹس کے بنیادی اُمور سے عدم واقفیت کے سبب کانگریس قائدین بیان بازی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ترقیاتی پراجکٹ کو سیاسی رنگ دینا ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بائیں بازو کی جماعتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سابق میں مواضعات کو غرقاب ہونے سے بچانے کیلئے پراجکٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والے کمیونسٹ قائدین آج پراجکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی مخالفت کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT