Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ کے دوران خلل اندازی کا شاخسانہ

تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ کے دوران خلل اندازی کا شاخسانہ

تلگودیشم قائدین ریونت ریڈی و وینکٹ ویریا اختتام اسمبلی تک معطل، اپوزیشن جماعتوں کا احتجاجی بائیکاٹ
حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں تلگودیشم کے 2 ارکان ریونت ریڈی اور ایس وینکٹ ویریا کو گورنر کے خطبہ کے دوران نعرہ بازی پر بجٹ سیشن کے اختتام تک ایوان سے معطل کردیا گیا۔ کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم ارکان نے حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔آج صبح اسمبلی کی کارروائی کا آغاز ہوتے ہی اسپیکر مدھوسدن چاری نے کہا کہ دونوں ایوانوں سے گورنر کے خطاب کے سلسلہ میں تعاون کرنے کیلئے انہوں نے اپوزیشن قائدین سے اپیل کی تھی۔ نئی ریاست تلنگانہ میں ایوان کی کارروائی بہتر انداز سے چلانے کی روایت موجود ہے جسے برقرار رکھا جانا چاہیئے۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بھی گورنر کے خطبہ کے موقع پر پُرسکون ماحول رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسپیکر نے کہا کہ کانگریس ارکان نے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ تلگودیشم ارکان آغاز سے خطبہ کے اختتام تک مسلسل رکاوٹ پیدا کرتے رہے۔ ان کا یہ رویہ مناسب نہیں ہے۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے فون پر درخواست کرنے کے باوجود تلگودیشم اور کانگریس ارکان کا رویہ اسپیکرکی توہین کے مترادف ہے۔ تلگودیشم ارکان خطبہ کے دوران مسلسل نعرے لگاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمائی سیشن زائد دن تک چلانے کا تلنگانہ اسمبلی کا ریکارڈ ہے اور ملک بھر میں تلنگانہ اسمبلی کی ستائش کی جارہی ہے۔ انہوں نے تلگودیشم ارکان کے خلاف کارروائی کی اسپیکر سے اجازت طلب کی۔ مدھو سدن چاری کی اجازت ملنے پر ہریش راؤ نے ریونت ریڈی اور ایس وینکٹ ویریا کی معطلی کی تحریک پیش کی جسے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔ تحریک کی منظوری کے ساتھ ہی ایوان میں موجود ریونت ریڈی ہال سے باہر چلے گئے۔ کانگریس ارکان نے اس فیصلہ پر احتجاج کیا۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہا کہ ایوان کے وقار کو بحال کرنے کیلئے فیصلہ کرنے سے قبل برسر اقتدار پارٹی کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں آج کی برسراقتدار پارٹی کے ارکان نے گورنر کے خطبہ کے موقع پر کیا کچھ نہیں کیا لیکن اس وقت کی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ معطلی کے ذریعہ ارکان کو دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ غیر جمہوری اور غیر دستوری ہے۔ اس فیصلہ سے قبل اپوزیشن کی رائے حاصل نہیں کی گئی۔ انہوں نے معطلی کے احکامات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی نے کہا کہ سابق میں گورنر کے خطبہ کے موقع پر اسمبلی میں گڑبڑ اور شورو غل کی کئی مثالیں موجود ہیں، ٹیبل اور کرسی تک پھینک دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی نشست پر بیٹھ کر احتجاج درج کرانا ارکان کا حق ہے۔ سی پی ایم کے رکن ایس راجیا نے کہا کہ تلگودیشم ارکان اپنی نشست سے احتجاج درج کرارہے تھے انہوں نے بھی معطلی کے فیصلہ کی مخالفت کی۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے معطلی کی تائید کی اور کہا کہ ایوان میں صحتمند روایات کے قیام کیلئے یہ کارروائی ضروری تھی ۔ اگر ارکان غیر مشروط معذرت خواہی کرلیں تو حکومت معطلی واپس لے گی۔ ہریش راؤ کے موقف کے بعد کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم ارکان نے معطلی کے احکامات کو غیر جمہوری اور غیر دستوری قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

TOPPOPULARRECENT