Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی و کونسل ٹی آر ایس لیجسلیچر آفس میں تبدیل

تلنگانہ اسمبلی و کونسل ٹی آر ایس لیجسلیچر آفس میں تبدیل

چیف منسٹر کا جمہوریت پر ایقان نہیں، کانگریس رکن کونسل سدھاکر ریڈی کا الزام
حیدرآباد /7 اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی نے اسمبلی اور کونسل کو ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی آفس کے اجلاس میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو جمہوریت پر بھروسہ نہیں ہے، تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کے لئے اپوزیشن کی تجاویز کے احترام کا وعدہ کیا، لیکن جب اپوزیشن جماعتیں تجاویز اور مشورے دے رہی ہیں تو انھیں برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرنے والی کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ایوان سے باہر کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کے ارکان ایوانوں میں عوامی مسائل کو موضوع بحث بنانے کی بجائے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید اور چیف منسٹر کی تائید میں مصروف ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں کے خودکشی کے واقعات کی روک تھام کے لئے یک مشت قرضہ جات ادا کرنے کے مطالبہ پر دونوں ایوانوں کے اپوزیشن ارکان کو معطل کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کی ابتر صورت حال، کسانوں کی اموات اور دیگر مسائل کو حکمراں ٹی آر ایس ماضی کی حکمراں جماعتوں کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ اگر موجودہ حالت کی ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں تو چیف منسٹر کے بشمول ٹی آر ایس کابینہ کے نصف وزراء مستعفی ہو جائیں، کیونکہ ماضی کی حکومتوں میں وہ وزات کے علاوہ دیگر اہم عہدوں پر فائز تھے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے کسانوں کو ٹی آر ایس حکومت مکمل نظرانداز کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT