Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسمبلی کا بجٹ سشن مارچ کے دوسرے ہفتے میں

تلنگانہ اسمبلی کا بجٹ سشن مارچ کے دوسرے ہفتے میں

اپوزیشن کیلئے ایوان میںہنگامہ آرائی کی گنجائش نہیں۔ وزیر پارلیمانی امور ہریش راؤ
حیدرآباد 21 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس ماہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں منعقد ہوگا ۔ ریاستی وزیر پارلیمانی امور ٹی ہریش راؤ نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے ٹی آر ایس مقننہ پارٹی آفس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس برائے 2016 – 17 ماہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں منعقد ہوگا اور امکان ہے کہ اس کو مزید ایک ہفتہ آگے بھی بڑھایا جاسکے تاکہ آندھرا پردیش ریاست کا بجٹ اجلاس اسی عمارت میں منعقد ہوسکے ۔ آندھرا پردیش حکومت نے پہلے اپنا بجٹ اجلاس وجئے واڑہ یا گنٹور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعد میں ارادہ بدلتے ہوئے حیدرآباد میں ہی بجٹ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اس بار اسمبلی میں برقی مسئلہ پر یا کسی دوسرے مسئلہ کسی طرح کی ہنگامہ آرائی کا امکان نہیں ہے کیونکہ حکومت نے اپوزیشن پر قابو پالیا ہے ۔ ریاستی حکومت نے مسلسل برقی بحران پر قابو پانے کیلئے خطیر رقم خرچ کی ہے اور برقی کی پیداوار میں ریاست کا موقف بہتر ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس بار اسمبلی میں کسی طرح کی ہنگامہ آرائی نہیں ہوگی کیونکہ حکومت اپوزیشن کو ایسا کرنے کا موقع دینا نہیں چاہتی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بجٹ سشن میں برقی کی صورتحال یا پھر پینے کے پانی کے مسئلہ پر بھی کوئی مباحث نہیںہونگے ۔ حکومت نے پینے کے پانی کے مسئلہ پر قابو پانے کئی احتیاطی اقدامات کئے ہیں اور اب ان پر اسمبلی میں کوئی مباحث نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اہم پروبرامس جیسے مشن کاکتیہ ‘ جھیلوں کی بحالی اور مشن بھاگیرتا کو اب قومی سطح پر بھی تسلیم کیا جانے لگا ہے اور ان پروگرامس کی بین الاقوامی سطح پر ستائش ہو رہی ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ انڈیا ٹوڈے میگزین کے ایک سروے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ عوام کے پسندیدہ چیف منسٹر اور انتہائی مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ حقائق پر مبنی ہوگا اور اس میں اعداد و شمار کی الٹ پھیر نہیں ہوگی ۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس بار تلنگانہ حکومت 1.54 لاکھ کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کریگی ۔ تمام شعبہ جات کو ترجیحی بنیادوں پر ان کی ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کئے جائیں گے ۔ اس بار منصوبہ جاتی شعبہ کیلئے بجٹ میں 60,000 کروڑ روپئے کی رقم فراہم کی جاسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT