Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی تشکیل مزید طوالت کا شکار ہونے کا امکان

تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی تشکیل مزید طوالت کا شکار ہونے کا امکان

شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل پر عدالت کے احکامات کے بعد حکومت حصول رائے میں مصروف
حیدرآباد۔20 جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ کی جانب سے شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں حکومت کو عبوری احکامات کے بعد وقف بورڈ کی تشکیل کا مسئلہ مزید طوالت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت ایک طرف بورڈ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کوشش کررہی ہے تو دوسری طرف ہائی کورٹ نے اندرون چھ ہفتے شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس طرح نامزد ارکان کے تقرر کے ذریعہ بورڈ کی تشکیل کا مرحلہ آگے بڑھ چکا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے پر قانونی رائے حاصل کرے گی تاکہ اندرون چھ ہفتے ہائی کورٹ میں جواب داخل کیا جاسکے۔ علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل کے لیے جو دلائل پیش کیئے گئے اس پر بھی بورڈ سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ وقف ایکٹ کے مطابق علیحدہ وقف بورڈ کی تشکیل کے لیے 15 فیصد شیعہ اوقافی جائیدادیں ہونی چاہیے جبکہ ہائی کورٹ میں پیش کردہ استدلال کے مطابق وقف بورڈ کی 33 فیصد جائیدادیں شیعہ فرقہ کی ہیں۔ 33900 اوقافی جائیدادوں میں 11056 عاشور خانے ہیں جو مجموعی جائیدادوں کا 33 فیصد ہوتے ہیں۔ اس طرح ہائی کورٹ کے عبوری احکامات میں بورڈ کی تشکیل میں عملاً رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ حکومت کو اندرون چھ ہفتے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے عدالت کو واقف کرانا ہے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق چھ ارکان کا انتخاب مکمل ہوچکا ہے۔ رکن پارلیمنٹ، ارکان مقننہ، متولی و منیجنگ کمیٹی اور رکن بار کونسل کے زمرے میں چھ ارکان کا متفقہ طور پر انتخاب عمل میں آیا۔ حکومت کو مزید 4 یا 5 ارکان کو نامزد کرتے ہوئے بورڈ کی تشکیل کا اعلامیہ جاری کرنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے 10 رکنی بورڈ کے بجائے 11 رکنی بورڈ کی تجویز رکھی ہے تاکہ بورڈ میں حکومت کے تائیدی ارکان کو مساوی طور پر شامل کیا جاسکے۔ حکومت اپنی حلیف جماعت کو بورڈ پر کنٹرول دینا نہیں چاہتی۔ وہ کم سے کم 5 ارکان کے ساتھ مساوی موقف رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابتداء میں 4 نامزد ارکان کی تجویز تھی جو اب بڑھ کر 5 ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کی صدارت کے مسئلہ پر بھی حکومت اور حلیف جماعت میں اتفاق رائے ابھی باقی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے تازہ ترین فیصلے سے بورڈ کی تشکیل کا عمل قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی شروع کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT