Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی کارکردگی بری طرح متاثر

تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی کارکردگی بری طرح متاثر

آندھرا پردیش و تلنگانہ کے لیے بورڈ کی تقسیم کے بعد عہدیداروں کا فقدان
حیدرآباد ۔ 9۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی تلنگانہ اور آندھراپردیش میں تقسیم کے بعد عہدیداروں کی کمی کے باعث تلنگانہ میں بورڈ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری طرف آندھراپردیش میں بھی عہدیدار کم ہے لیکن اسپیشل آفیسر کی خصوصی دلچسپی سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے سلسلہ میں کئی قدم اٹھائے گئے۔ تلنگانہ جہاں اوقافی جائیدادوں کی تعداد آندھراپردیش سے زیادہ ہے ، وہاں اعلیٰ عہدیدار موجود نہیں ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ دو ماہ سے بورڈ کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ بورڈ کی کار کردگی میں سیاسی مداخلت اور غیر متعلقہ افراد کے اثر انداز ہونے سے روز مرہ کا کام متاثر ہونے کی شکایات ملی ہیں۔ حکومت نے 19 اکتوبر کو اقلیتی بہبود کے سکریٹری سید عمر جلیل کو وقف بورڈ کا عہدیدار مجاز مقرر کیا تھا اور اس عہدہ پر خدمات انجام دینے والے جلال الدین اکبر کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا ہے۔ سید عمر جلیل کو سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کی زائد ذمہ داری اگرچہ حکومت نے بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے دی لیکن سکریٹریٹ میں زائد فرائض کے سبب وہ اس عہدہ کی ذمہ داری کیلئے زائد وقت دینے سے قاصر ہے۔ حکومت نے حال ہی میں انہیں اقلیتی بہبود کے لئے چیف ویجلنس آفیسر مقرر کیا ہے۔ اس طرح سکریٹری اقلیتی بہبود کو تین ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔

بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ میں فائلوں کی یکسوئی کی رفتار انتہائی سست ہے اور روز مرہ کی فائلوں کے علاوہ کئی اہم فائلیں یکسوئی کی منتظر ہیں۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ سینکڑوں فائلیں گزشتہ دو ماہ سے یکسوئی کا انتظار کر رہی ہیں۔ دوسری طرف بعض سیاسی گوشوں کے دباؤ میں اضافہ ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں ان کی دلچسپی سے متعلق امور کی یکسوئی کی شکایات مل رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیدار مجاز سے قربت رکھنے والے بعض غیر متعلقہ افراد بھی وقف بورڈ کے امور میں روزانہ مداخلت کر رہے ہیں اور ان کی مرضی کے متعلق فیصلوں کیلئے عہدیداروں پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں بورڈ کی جانب سے کئے گئے دو فیصلے تنازعہ کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ شہر کی ایک مشہور درگاہ کیلئے متولی کا انتخاب اور ایک اوقافی ادارے کے ساتھ وقف بورڈ کے معاہدہ پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دونوں فیصلے وقف ایکٹ کے مطابق نہیں ہے اور سیاسی دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا۔ ایک اوقافی ادارہ کے برائے نام ٹرسٹ اور وقف بورڈ کے نام پر مشترکہ اکاؤنٹ کھولتے ہوئے سڑک کی توسیع میں حاصل کی گئی زمین کا معاوضہ اس اکاؤنٹ میں جمع کیا جارہا ہے ۔ وقف بورڈ کے لیگل آفیسر نے اس فیصلہ کی مخالفت کی تھی ،

اس کے باوجود اعلیٰ عہدیداروں کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ وقف بورڈ میں روزانہ مسائل کی یکسوئی کیلئے شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے مساجد اور درگاہوں سے متعلق مسائل کی کثرت دیکھی جارہی ہے لیکن حالیہ عہدیدار کی  عدم موجودگی کے سبب عوام کو مایوسی کا سامنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مستقل عہدیدار مجاز کی عدم موجودگی کے سبب ماتحت عہدیداروں کے کام کاج پر نگرانی کم ہوچکی ہے ۔ مقامی سیاسی جماعت کے قائدین اعلیٰ عہدیداروں پر دباؤ بناتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ دوسری طرف بورڈ کی عدم کارکردگی کی ایک مثال ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہے۔ ملازمین کو نومبر کی تنخواہ ابھی تک جاری نہیں کی گئی جبکہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہیں جاری کردی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھرا کے درمیان حسابات اور فنڈز کی تقسیم کے نام پر تلنگانہ ملازمین کو تنخواہ جاری نہیں کی گئی جس سے ملازمین میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ آندھراپردیش حکومت نے اپنے وقف بورڈ کے ملازمین کو تنخواہیں جاری کردی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT