Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں معاشی بحران

تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں معاشی بحران

کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا منفی اثر ، تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ریاستوں کی جدوجہد
حیدرآباد ۔ 16۔  نومبر  (سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلہ نے تلنگانہ کے ساتھ آندھراپردیش حکومت کو بھی معاشی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ دونوں ریاستیں اپنے ملازمین کو نومبر کی تنخواہ ادا کرنے کے سلسلہ میں جدوجہد کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نوٹوں کی تنسیخ سے دونوں نئی ریاستوں کو بھاری نقصان ہوا اور ماہانہ ایک ہزار کروڑ کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ آندھراپردیش کے سرکاری ذرائع کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ماہانہ 2,500 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ اس میں ریٹائرڈ ملازمین کا وظیفہ بھی شامل ہیں۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ نے جو اندازہ کیا ہے ، اس کے مطابق آئندہ 4 ماہ تک آندھراپردیش کو ماہانہ ایک ہزار کروڑ کا نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے بھی ٹیکس کی حصہ داری میں ریاستوں کا حصہ کم کیا ہے ۔ نومبر میں آندھراپردیش کو 790 کروڑ روپئے ٹیکس کم جاری کیا گیا جبکہ صرف 410 کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست کو ٹیکس میں حصہ داری کے تحت 1760 کروڑ اور آمدنی میں فرق میں کم کرنے کیلئے 410 کروڑ روپئے جاری کئے جائیں تو تنخواہوں کی ادائیگی بہ آسانی ممکن ہوپائے گی۔ جاریہ مالیاتی سال کے تیسرے سہ ماہی تک ریاستی حکومت نے 5000 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی حد کو پار کردیا ہے۔ ریاستی حکومت کی قرض حاصل کرنے کی حد 18,000 کروڑ روپئے ہے اور آندھراپردیش حکومت نے گزشتہ 7 ماہ میں 13,000 کروڑ کا قرض حاصل کرلیا ہے ۔ حکومت آخری سہ ماہی کے اختتام سے قبل مزید 5,000 کروڑ کا قرض حاصل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال ابھی تک واجب الادا بلز 2000 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں اور حکومت یہ رقم جاری کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے معاشی صورتحال کا عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد ہدایت دی کہ سرکاری ملازمین کو نومبر کی تنخواہ بہرصورت جاری کی جائے۔ عہدیدار ملازمین کو دو اقساط میں تنخواہ جاری کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تاہم چیف منسٹر نے اس تجویز کی مخالفت کی کیونکہ اس سے سرکاری ملازمین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT