Tuesday , June 27 2017
Home / اداریہ / تلنگانہ بجٹ

تلنگانہ بجٹ

رُخ پر اس کے ردِ عمل کچھ پڑھ نہ سکا
میں نے اس کو حال سنا کر دیکھ لیا
تلنگانہ بجٹ
تلنگانہ کے بجٹ سال 2017-18 میں ٹی آر ایس حکومت نے سال 2019 کے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھ کر فنڈس مختص کئے ہیں مگر مسلمانوں یا اقلیتوں کی بہبود کا دَم بھرنے والی حکومت کو ان کی فلاح و بہبود کے لئے صرف معمولی رقم مختص کرنے کی توفیق ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے لئے جو بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ گذشتہ کے مقابل یا موجودہ تصارف و تقاضوںکے تناسب سے بہت ہی کم ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بظاہر مسلمانوں کے نہایت ہی ہمدرد اور بہی خواہ ہونے کا اظہار کرتے ہیں مگر بجٹ سے ان کی بہی خواہی ظاہر ہوچکی ہے۔ بجٹ میں جب دیگر شعبوں پر توجہ دی گئی ہے اس سے صرف دیہی علاقوں میں ترقی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ شہروں کو ترقی دینے کیلئے بجٹ میں خاص فنڈس کا نہ ہونا ترقیات کی رفتار کو سُست کردینے کے مترادف ہے۔ دیہاتوں پر توجہ دینے کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ حکومت جانتی ہے کہ دیہی عوام کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا کہ حکومت نے ان پر کتنی رقم خرچ کی ہے۔ دیہی عوام کو آسانی سے ’’ ٹال دینے ‘‘ کی حکمت عملی میں کامیابی مل جاتی ہے، اس لئے بجٹ کا سارا زور دیہی علاقوں کی جانب دیکھا جارہا ہے۔ وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے ترقی و بہبود پر مبنی 1,49,446 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا اس میں زراعت، برقی اور مختلف بہبودی اقدامات کے بشمول کئی شعبوں کا ذکر اور رقومات کے مختص کرنے کی تفصیلات درج ہیں۔ بہبودی و ترقی کے لئے حکومت نے سال 2016-17 میں جو بجٹ تیار کیا تھا اس مرتبہ اس مد میں اضافی بجٹ پیش کرنا ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیر فینانس نے تنخواہوں کی ادائیگی، قرضہ جات اور وظائف کے بشمول تصارف کے تحت 61,607,20 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ بجٹ تخمینہ برائے 2017-18 سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت نے فاضل آمدنی 4,571.30 کروڑ روپئے کا اندازہ کیا ہے جبکہ مالیاتی خسارہ 26,096,31 کروڑ روپئے بتایا گیا جو تخمینہ جی ڈی پی کا 3.4% ہے۔ تلنگانہ کی اقلیتوں کے حق میں اس بجٹ سے خاص انصاف نہیں کیا ہے۔ بجٹ میں اقلیتوں کیلئے محض 1,249,66 کروڑ روپئے مختص کئے گیء ہیں یعنی اس میں گذشتہ کے مقابل صرف 45کروڑ روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے دیگر طبقات کیلئے بجٹ میں پوری طرح خیال رکھا گیا ہے جبکہ گذشتہ سال 2016-17 کے بجٹ سے اس سال کے بجٹ کا اقلیتی تخصیص کا جائزہ لیا جائے تو اس میں صرف 3.5 فیصد ہی اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب آنے والے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کو اقلیتوں سے زیادہ ریاست کے دیگر طبقات کے ووٹوں سے دلچسپی ہے۔ مسلمانوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی پسماندگی پر آنسو بہانے والی پارٹیاں جب عمل کے مظاہرہ کا وقت آتا ہے تو اپنا سخی داتا کا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ ٹی آر ایس سے کافی اُمیدیں وابستہ رکھنے والی اقلیتوں کو اس بجٹ سے مایوسی ہوگی۔ مہنگائی اور مسائل کے تناظر میں یہ بجٹ بہت کم ہے۔ ریاست میں تقریباً 50 لاکھ اقلیتیں ہیں ان میں مسلمان، عیسائی، سکھ، جین، بدھسٹ اور پارسی شامل ہیں۔اِفراطِ زر کے برعکس اقلیتوں کیلئے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں جس طرح تلنگانہ کو پسماندگی کی ہی حالت میں چھوڑ ے رکھنے کیلئے آندھرائی تسلط والی قیادت سالانہ بجٹ مختص کرتی تھی اب یہی نظریہ تلنگانہ میں مسلمانوں کے ساتھ ٹی آر ایس حکومت نے اختیار کرلیا ہے یعنی مسلمان اگر پسماندہ ہیں تو یہ ان کی قسمت ہے، اس لئے ان کے حق میں صرف معمولی بجٹ ہی لکھا ہے۔ ٹی آر ایس نے اپنی اصل شناخت ظاہر کرنا شروع کیا ہے۔ آندھرائی قیادت میں تربیت حاصل کرنے والی ٹی آر ایس کی قیادت تلنگانہ کے مسلمانوں کے ساتھ وہی معاملہ اور رویہ اختیار کیا ہے جو ماضی میںمتحدہ آندھرا پردیش کی قیادت نے تلنگانہ علاقہ کے لئے رکھتی تھی۔ ٹی آر ایس قائدین کی ایسی سوچ اور اقلیتی بہبود کی پالیسی صرف آندھرائی قیادت کے تجربات کی مرہون منت ہے یعنی’’ اپنے کو آپ دوسروں کو تُو ‘‘ کہنے کا مزاج آشکار ہورہا ہے، یہ روش جلد سے جلد بدلنی ہوگی۔حکومت کے فلاحی اسکیمات میں صرف ان شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی جو سرِدست حکمراں پارٹی کے آئندہ انتخابی امکانات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ آگے چل کر اس طبقہ میں ناراضگی کو ہوا دے گا۔ اس نئی ریاست کی اقلیتوں کی بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے جس اُمید کے ساتھ حکمراں پارٹی کا ساتھ دیا تھا اسے صرف رمضان کی افطاری اور موذنین و ائمہ کرام کے مشاہیرہ میں اضافہ کے اعلانات تک ہی محدود کرکے رکھا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ حکومت اپنے فلاحی اسکیمات کادائرہ وسیع کرے ، سالانہ بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس بجٹ کے تحت ہی مصارف کو یقینی بناتی مگر حکومت کابجٹ ہاتھی کے دانت ثابت ہوں تو پھر عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT