Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ جے اے سی میں پھوٹ ، تین قائدین کی بغاوت

تلنگانہ جے اے سی میں پھوٹ ، تین قائدین کی بغاوت

ٹی آر ایس حکومت سے جے اے سی کو کمزور کرنے سرگرمیوں کا آغاز
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مارچ (سیاست نیوز) برسر اقتدار ٹی آر ایس نے پروفیسر کودنڈا رام کی زیر قیادت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کمزور کرنے کیلئے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین کو کودنڈا رام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتے ہوئے روزانہ الزام تراشی کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ پروفیسر کودنڈارام کی قیادت کے خلاف جے اے سی میں شامل 3 قائدین نے بغاوت کردی اور بتایا جاتا ہے کہ وہ برسر اقتدار پارٹی اور حکومت کے اشارہ پر جے اے سی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ اگرچہ مذکورہ قائدین کو تلنگانہ عوام میں کوئی خاص شناخت حاصل نہیں ہے لیکن جے اے سی پر اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کودنڈا رام کے امیج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ بیروزگار نوجوانوں کی ریالی کے سلسلہ میں کودنڈا رام نے حکومت سے ٹکراؤ کا جو راستہ اختیار کیا تھا، اس سے خوفزدہ ہوکر برسر اقتدار پارٹی نے جے اے سی کو کمزور کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ اگرچہ اس سلسلہ میں جے اے سی کے کئی دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی لیکن کودنڈا رام کی قیادت پر قائدین کی اکثریت نے مکمل بھروسہ جتایا ہے ۔ جن تین قائدین نے کودنڈا رام کے خلاف بغاوت کی ، ان میں پی رویندر ، تنویر سلطانہ اور پراہلاد شامل ہیں۔ جے اے سی نے اپنے اجلاس میں ان تین قائدین کو تحریک سے خارج کردیا ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے برسر اقتدار پارٹی کی سرپرستی میں یہ قائدین کودنڈارام کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جسے حکومت کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اہمیت کے ساتھ تشہیر کی جارہی ہے ۔ عالمی یوم خواتین کے موقع پر تنویر سلطانہ کے ذریعہ کودنڈارام پر الزام عائد کیا گیا کہ جے اے سی میں خواتین کو نظر انداز کردیا گیا۔ انہیں جے اے سی میں مناسب مقام نہیں دیا گیا ۔ تنویر سلطانہ نے کودنڈا رام پر ان کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس صورتحال سے عاجز آکر انہوں نے کنوینر کے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام قا ئدین کی مدد سے ہی کودنڈا رام کی قیادت کھڑی ہوئی تھی لیکن وہ آج یکطرفہ طور پر فیصلے کر رہے ہیں۔ پراہلاد نے الزام عائد کیا کہ بیروزگار نوجوانوں کی ریالی کے سلسلہ میں کودنڈا رام نے یکطرفہ فیصلے کئے ہیں۔ پی رویندر نے کہا کہ کودنڈا رام نے تلنگانہ تحریک کے جذبہ کی توہین کی ہے اور انہیں جے اے سی سے نکالنے کی سازش کی گئی۔ جے اے سی کے باغی قائدین کے الزامات کا عوام پر کیا اثر پڑے گا اس کا اندازہ کودنڈا رام کے آئندہ پروگراموں سے ہوگا۔ برسر اقتدار پارٹی عوامی مسائل کے سلسلہ میں کودنڈا رام کی مہم سے سخت ناراض ہے۔ خاص طور پر 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ کی تکمیل کیلئے جے اے سی نے جس مہم کا آغاز کیا ، اسے کمزور کرنا حکومت کا اولین مقصد دکھائی دے رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT