Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت خانگی دواخانوں کو 200 کروڑ روپئے ادا شدنی

تلنگانہ حکومت خانگی دواخانوں کو 200 کروڑ روپئے ادا شدنی

آروگیہ شری کے تحت مریضوں کا مزید علاج ممکن نہیں، بقایا جات کی ادائیگی پر زور
حیدرآباد 15 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں آروگیہ شری کے تحت حکومت کی جانب سے خانگی دواخانوں کو 200 کروڑ روپئے کے قریب اخراجات ادا شدنی ہیں۔ خانگی دواخانوں کے ذمہ داران کسی بھی وقت آروگیہ شری کے تحت مریضوں کو شریک کرنے کا سلسلہ بند کرسکتے ہیں چونکہ حکومت کی جانب سے ایک سے زائد مرتبہ دیئے گئے تیقنات کے باوجود مثبت اقدامات نہ کئے جانے پر تلنگانہ خانگی دواخانوں کے انتظامیہ میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ آروگیہ شری ہیلت کیر ٹرسٹ کو تلنگانہ پرائیوٹ ہاسپٹلس اور اینڈ نرسنگ ہومس کی جانب سے دو ہفتے قبل ایک یادداشت حوالے کرتے ہوئے فوری طور پر بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنانے کی نمائندگی کی گئی تھی اور بعدازاں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے ملاقات کے لئے وقت طلب کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی دواخانوں کے انتظامیہ بالخصوص کارپوریٹ ہاسپٹلس نے اس بات پر رضامندی ظاہر کردی ہے کہ وہ آروگیہ شری کے تحت دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کو شریک نہیں کریں گے لیکن اس کے لئے تاحال کوئی قطعی تاریخ متعین نہیں کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب آروگیہ شری خدمات کو ابتدائی طور پر مفلوج کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ لیکن بعض دواخانوں کے ذمہ داران کا یہ احساس ہے کہ اس طرح کے احتجاج سے حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اسی لئے تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے مریضوں کے علاج کا سلسلہ بند کرنے کا اعلان کیا جانا چاہئے۔ فی الحال ریاست تلنگانہ میں 170 خانگی دواخانے موجود ہیں جہاں آروگیہ شری کے تحت غریب عوام کا علاج کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی میں 105 خانگی دواخانے ہیں، جبکہ 26 دواخانے ورنگل میں موجود ہیں جن میں آروگیہ شری کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اسی طرح کریم نگر میں 17 ، کھمم میں 9، نظام آباد میں 8 اور محبوب نگر میں 5 کے علاوہ ضلع میدک میں 4 خانگی دواخانے ہیں جوکہ آروگیہ شری کے تحت مریضوں کا علاج کررہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے وقت پر بقایا جات کی عدم ادائیگی کے سبب دواخانوں کا انتظامیہ اس بات کا دعویٰ کررہا ہے کہ وہ مالی مشکلات کا شکار ہورہے ہیں جس کے اثرات دواخانوں کی کارکردگی پر مرتب ہورہے ہیں اسی لئے حکومت کو ایک مرتبہ پھر متوجہ کروانے کی کوشش کی جائے گی لیکن کسی بھی وقت علاج و معالجہ کا سلسلہ بند کرنے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT