Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کا بجٹ ’’آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ ‘‘کے مترادف

تلنگانہ حکومت کا بجٹ ’’آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ ‘‘کے مترادف

آمدنی اور خسارہ کو یکساں بتاکر فاضل آمدنی والے بجٹ کی پیشکشی پر کئی سوالیہ نشان
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔14مارچ ۔’’آمدنی اٹھنی ‘ خرچہ روپیہ‘‘ اور شیخی بگھارنا جیسے محاورے حیدرآباد میں عام ہیں لیکن جب حکومت ہی اس طرح کی حرکتوں پر اتر آئے تو اس کا خمیازہ کون بھگتے گا اور حکومت کی اس طرح کی کاروائی عوام کو دھوکہ دہی کے مترادف ثابت ہوتی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے 13مارچ کو ریاست تلنگانہ کا تیسرا بجٹ پیش کیا جس میں ریاست کے اخراجات کا موازنہ 1لاکھ 49 ہزار 646کروڑ رکھا گیا ہے اور حکومت نے مالی سال 2017-18کے لئے 4571 کروڑ 30لاکھ کی فاضل آمدنی اور 26ہزار 96کروڑ 31لاکھ کا مالی خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر فینانس کی بجٹ تقریر میں کئے گئے اس دعوے سے سب محو حیرت ہیں کیونکہ خسارہ اور آمدنی دونوں یکساں نہیں ہو سکتے اور جب ریاست خسارہ میں ہے تو فاضل آمدنی والی بجٹ کس طرح پیش کیا جا سکتا ہے؟ ریاست تلنگانہ نے بجٹ2017-18 کے لئے جو رقم مختص کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے منصوبہ تیار کیا ہے وہ رقم ریاست پر عائد قرض کے بوجھ سے 30ہزار کروڑ زیادہ ہے۔ ریاست تلنگانہ پر جملہ 1لاکھ 85ہز ار کروڑ کے قرض کا بوجھ ہے جس میں کچھ حصہ ریاست کی تقسیم کے وقت ریاست کے حصہ میں آیا تھا لیکن اس کے بعد گذشتہ تین برسوں میں ریاستی حکومت نے جو قرض حاصل کئے ہیں یا مختلف کارپوریشن و اداروں کو قرض کیلئے ضمانت دی ہے اس کی رقم 1لاکھ 85 ہزار کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ حکومت کی جانب سے محصولات سے پاک اور فاضل آمدنی کے بجٹ کے طور پر یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے لیکن اس بجٹ میں اخراجات کی تفصیلی نشاندہی نہ کئے جانے کے سبب بجٹ کو اعداد و شمار کا کھیل ہی قرار دیا جانا درست ہے۔ ریاستی حکومت کے بیشتر محکمہ جات بشمول محکمہ اقلیتی بہبود گذشتہ مالی سال کے بجٹ کی عدم اجرائی کی شکایات کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ بجٹ کی عدم دستیابی کے سبب کئی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری نہیں ہو پائی ہے اور اس صورت میں حکومت کی جانب سے فاضل بجٹ کی پیشکشی باعث حیرت ہے۔ ریاستی وزیر فینانس کی بجٹ تقریر میں جو ادعا جات پیش کئے گئے ہیں ان کا اور مختلف محکمہ جات کو جاری کردہ بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوگا کہ حکومت کا خزانہ خالی ہے لیکن صرف منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے وقت ٹالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کے عہدیدار خود اس بات کی توثیق کررہے ہیں کہ ریاست معاشی بدحالی کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود فاضل بجٹ کی پیشکشی کا اعلان کیا جانا گمراہ کن تصور کیا جا رہا ہے۔ریاست تلنگانہ جو کہ مختلف بینکوں اور قومی اداروں سے 1لاکھ 40ہزار کروڑ سے زائد کا خرچ حاصل کرچکی ہے اور 45ہزار کروڑ تک کے قرضہ جات کے لئے ضمانت دی گئی ہے جو کہ مختلف محکمہ جات‘ کارپوریشن اور ادارہ جات کو جاری کئے گئے ہیں۔جاریہ مالی سال کے دوران جن محکمہ جات کو بجٹ جاری نہیں کیا گیا ہے ان محکمہ جات کے ذمہ دار بھی فاضل بجٹ کی پیشکشی سے حیرت زدہ ہیں کیونکہ قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ریاست قرض کے سود کی ادائیگی کیلئے ہزاروں کروڑ کی تخصیص کرنے پر مجبور ہے تو ایسی صور ت میں کس طرح فاضل بجٹ پیش کرنا ممکن ہے۔ریاستی حکومت کے محکمہ جات کی آمدنی میں کرنسی تنسیخ کے سبب آئی گراوٹ کی شکایات کے ساتھ فاضل بجٹ کی پیشکشی ناقابل فہم تصور کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعداد و شمار کے کھیل کے ذریعہ عوامی بہبود کے محکمہ جات میں بھاری رقومات کی تخصیص کے اعلانات کے ذریعہ عوام کو اس بات کا احساس دلوایا جائے کہ حکومت پسماندہ طبقات کے لئے کس حد تک سنجیدہ ہے اور ریاست کو ویلفیر اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کے عہد کی پابند ہے۔ریاستی حکومت کے بجٹ کا جائزہ لینے کے بعد کئی سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں کی جانب سے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت مقروض ہے اورریاست کے عوام کو مقروض بناتے ہوئے حکومت گمراہ کن اعداد و شمار کے ذریعہ بجٹ پیش کر چکی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومرت نے جاریہ سال بہبود کے کاموں میں تیزی لانے اورجاریہ اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے لیکن اس بجٹ میں تجویز کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے درکار رقوما ت کے حصول کے ذرائع سے بھی واقف نہیں کروائے جانے پر شبہات میں اضافہ ہونے لگا ہے کہ آخر مالی خسارہ اور فاضل آمدنی کے امکانات کس طرح ظاہر کئے جا سکتے ہیں اور فاضل آمدنی کے متعلق یہ بھی کہا جا رہا کہ 4571کروڑ کی جو فاضل آمدنی دکھای جا رہی ہے وہ خزانہ کی موجودہ صورتحال ہے اور خسارہ کا جو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اس کی بنیاد ریاست کی جانب سے حاصل کردہ قرض ہیں جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے ا س خسارہ کا گمان کیا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT