Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام

تلنگانہ حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام

2 اگست کو رنگا پور تا ابراہیم پٹنم پدیاترا نکالنے رعیتو سنکشما سمیتی کا اعلان
حیدرآباد ۔ 29 جولائی (سیاست نیوز) کسان اپنی محنت شاقہ سے غذائی اجناس کی تیاری اور اس کے ذریعہ ملک و ریاست کے مالیہ کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اس بات کا ایقان تھا کہ ٹی آر ایس حکومت کسانوں کو ہر سطح سے مدد کرتے ہوئے انہیں ایک سورنا روپ دے گی لیکن حکومت کی کسانوں کو دیئے جانے کے پیکیج کے اعلان کے بعد ان تک بیچ اور دوسری سہولیات کے نہ پہنچنے کی وجہ سے انہیں خودکشی کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ حکومت کی کسانوں اور انہیں ہر طرح سے سہولیات پہنچانے کی سردمہری کو مدنظر رکھتے ہوئے تلنگانہ رعیتو سنکشما سمیتی نے اعلان کیا کہ 2 اگست 2017ء کو ریاست بھر کے کسانوں کے مسائل اور ان کی تکالیف اور دوسرے امور کو حکومت اور عوام سے واقف کروانے کیلئے پدیاترا منظم کی جائے گی جس میں کسان اور ان کے خاندانوں کی بڑی تعداد رنگاپور تا ابراہیم پٹنم (رنگاریڈی) تک پدیاترا میں حصہ لے گی جس کا آغاز 9 بجے دن سے ہوگا۔ آج یہ بات جسٹس بی چند کمار صدر تلنگانہ سماج کا جے اے سی نے پریس کلب سوماجی گوڑہ میں اخباری نمائندوں کو بتائی۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست ہی کسانوں کے مسائل اور یہاں بڑھتی ہوئی اموات سے متاثر ہے جبکہ پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کا حال بھی وہی ہوا ایک تو پانی اور حکومت کی سردمہری نے مسائل کے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریالی کے ذریعہ کسانوں میں شعور کو بیدار کیا جائے گا اور بتایا کہ خودکشی ہی مسائل کا حل نہیں ہے جبکہ شب و روز کھیتی باڑی پر محنت کررہے ہیں انہیں اسی طرح مقابلہ کرنے کی صفت پیدا کرنا چاہئے اور یہ بھی بتایا جائے گا کہ ان کی موت سے خاندان کا خاندان متاثر ہوگا۔ اس لئے سمیتی نے طئے کیا کہ ریاست بھر کے اضلاع اور دیہاتوں کے دورے کئے جائیں گے اور جو لوگ متاثر ہوکر خودکشی کئے ہیں اور جو متاثر ہیں ان سے ملاقات بھی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اب تو منصوبہ ہے غریبوں اور کسانوں کو بے دخل کرتے ہوئے صنعتیں قائم کی جائیں گی اور کسانوں کو اسٹائینڈ اراضی کے معاوضہ کی بات کرتی ہے مگر اس میں بھی وہ ناکام ہے۔ سابق حکومتوں کے دور میں بھی کسانوں کے وہی مسائل تھے جو اب ہیں۔ انہیں کھاد اور بیج کے حصول کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی تھی۔ اب یہ ہیکہ تلنگانہ علاقوں میں بہتری بارش ہورہی ہے مگر چیف منسٹر کے وعدہ کے مطابق کسانوں کے مکمل قرضہ جات معاف کئے گئے ہیں لیکن وہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اس بات کا تیقن بھی دیا تھا کہ رنگاریڈی ضلع میں اراضیات کو سیراب کرتے ہوئے اسے سرسبز و شاداب بناتے ہوئے کھیتی باڑی کو فروغ دیا جائے لیکن پانی کی سربراہی کا ہمارا مطالبہ جوں کا توں باقی ہے۔ 2 اگست کو ابراہیم پٹنم میں ہونے والی پدیاترا میں انہوں نے کسانوں اور کھیتی باڑی سے تعلق رکھنے والے سماجی جہدکاروں، بیج کے فروخت کرنے والوں اور اس امو رکے تمام سے خواہش کی کہ وہ اس دھرنے میں شامل ہوں۔ اس پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ٹی وی راماسوامی، صغریٰ بیگم، ہنگلی رج کمار، موہن راجو، کاسالی سرینواس راؤ، دیواکنڈ ناگراج، بھارت واگنار، کملاشور راؤ، اے کرشنا اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT