Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کی ’شادی مبارک ‘ اسکیم بے حد مقبول و کارآمد

تلنگانہ حکومت کی ’شادی مبارک ‘ اسکیم بے حد مقبول و کارآمد

حکومت کی فراخدلی ، بجٹ سے زائد رقم جاری، مزید 50کروڑ روپئے کیلئے جناب محمود علی کی مساعی کامیاب
حیدرآباد۔/8ڈسمبر، ( سیاست نیوز) یوں تو عوامی بھلائی سے متعلق حکومت کی کئی اسکیمات پر عمل آوری کی جاتی ہے لیکن شاید ہی کوئی ایسی اسکیم ہو جس کیلئے حکومت نے مقررہ بجٹ سے زائد رقم جاری کی ہو۔ اقلیتی بہبود کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی اسکیم کیلئے مختص کردہ بجٹ کو مکمل طور پر خرچ کیا گیا اور حکومت نے اسکیم کی اہمیت اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مزید بجٹ جاری کردیا۔ غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے شروع کی گئی ’ شادی مبارک ‘ اسکیم نے ریاست میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جبکہ اسی کے مماثل شروع کی گئی ’ کلیان لکشمی ‘ اسکیم کا مکمل بجٹ تاحال خرچ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے مالیاتی سال 2015-16 کے بجٹ سے دیگر اسکیمات میں فاضل بجٹ حاصل کرتے ہوئے ’ شادی مبارک‘ کیلئے مزید 50کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں آج محکمہ فینانس نے احکامات جاری کردیئے۔ اس طرح شادی مبارک اسکیم کی مزید 5000 سے زیر التواء درخواستوں کیلئے امدادی رقم کی اجرائی ممکن ہوپائے گی۔ حکومت سے مزید 50کروڑ روپئے کا حصول ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی مساعی کا نتیجہ ہے جنہوں نے چیف منسٹر اور وزیر فینانس سے اس سلسلہ میں کامیاب نمائندگی کی تھی۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے ڈپٹی چیف منسٹر کو واقف کرایا تھا کہ شادی مبارک اسکیم کیلئے جاریہ سال الاٹ کردہ 100کروڑ کا بجٹ مکمل طور پر خرچ ہوچکا ہے جس کے تحت 25800 سے زائد خاندانوں کو فی کس 51000 روپئے کی امداد جاری کی گئی۔ امداد کی اجرائی کے سلسلہ میں جو نشانہ مقرر کیا گیا تھا اس سے زائد خاندانوں کو امداد جاری کی گئی۔ 100کروڑ کے خرچ کے بعد محکمہ فینانس نے اسکیم کیلئے بجٹ کی اجرائی کو روک دیا تھا چونکہ یہ اسکیم گرین چینل میں شامل ہے لہذا مقررہ بجٹ کے خرچ کے ساتھ ہی اجرائی از خود بند ہوگئی۔ اس صورتحال سے پریشان اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے ڈپٹی چیف منسٹر کو تفصیلات سے واقف کرایا اور کہا کہ مزید 5000 سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں اور انہیں امداد جاری کرنے کیلئے مزید بجٹ کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی اور بتایا کہ شادی مبارک اسکیم اقلیتوں میں غیر معمولی مقبولیت اختیار کرچکی ہے اور مزید 5ہزار خاندان حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔ (سلسلہ صفحہ 8)

TOPPOPULARRECENT