Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کی شراب پالیسی پر مخالفت میں اضافہ

تلنگانہ حکومت کی شراب پالیسی پر مخالفت میں اضافہ

خواتین و رضاکارانہ تنظیموں کی مہم ، سنہرے تلنگانہ کی تعمیر میں رکاوٹ ، مزید ایک تحریک کا آغاز
حیدرآباد  /27 اگست ( سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ کی نئی شراب پالیسی پر مخالفت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں و خواتین تنظیموں کے بعد اب دیگر رضاکارانہ تنظیمیں بھی اس مہم سے جٹ رہے ہیں ۔ ریاستی حکومت کی نئی شراب پالیسی کو تلنگانہ عوام کیلئے ایک عذاب اور سنہرے تلنگانہ کی تعمیر میں اہم روکاوٹ قرار دیتے ہوئے تحریک کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اب ایسے علاقوں میں شراب خانے قائم ہونے کے خدشات ہیں جہاں پہلے کبھی شرابی نہیں ہوا کرتے تھے ۔ حکومت تلنگانہ شدید مخالفت کے باوجود اپنی نئی شراب پالیسی پر عمل آوری کیلئے اٹل ہے اور مخالفین کے خلاف سخت موقف رکھتی ہے اور کسی بھی حال اس نئی لکر پالیسی کو عمل میں لانا چاہتی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کو اس نئی شراب پالیسی سے تقریباً 30 کروڑ کا فائدہ ہوگا ۔ لائیسنسوں کی اجرائی اور منظوری کے ذریعہ حکومت خزانہ بھرنے کی فکر کر رہی ہے تاہم اس کے مضر اثرات صرف شراب نوشی کرنے والے پر ہی نہیں بلکہ پورے سماج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور حکومت اس خوف سے بھی بے خوفہے کہ شراب کی پالیسی کے مضر اثرات حکومت کو بھی پریشان کردیں گے ۔ ہر 13 ہزار افراد کی آبادی میں ایک شراب خانے کی منظوری عوام میں تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ بالخصوص خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت گھر بسانے کی آس بتاکر شراب پالیسی سے گھر اجاڑ رہی ہے ۔ شادی مبارک ، کلیانہ جیوتی جیسے اسکیمات کو متعارف کرنے والے چیف منسٹر سے خواتین کا سوال ہے کہ کیا وہ اپنے سہاگ کو اجاڑکر اپنے گھر کو تباہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کا گھر بسائیں گی ۔ حکومت کی اس نئی شراب پالیسی سے امن و ضبط کی صورتحال بھی بگڑنے کے کافی خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ عوام کو اس بات کا بھی خوف ہے کہ نئی پالیسی سے قائم ہونے والے شراب خانے بے دریغ کھول دئے جائیں گے اور اسکولی عمارتوں ، عبادت گاہوں کے قریب شراب خانے کھولنے کے کافی خطرات پائے جاتے ہیں ۔ جس سے امن و سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی سستی شراب پالیسی کے خلاف نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن نے شراب کے خلاف مہم میں آواز بلند کردی ہے ۔ فیڈریشن کے ریاستی صدرچھایہ دیوی نے اس اجلاس کی صدارت کی ۔ جبکہ اجلاس میں فیڈریشن کے جنرل سکریٹری کلاوتی قائد لوک ستہ پارٹی پانڈو رنگا راؤ سی پی آئی ایم ایل لیڈر جھانسی و دیگر موجود تھے ۔ مقررین نے حکومت تلنگاہ کو سستی شراب پالیسی کو سنہری تلنگاہن ریاست کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ۔ اس اجلاس میں چیف منسٹر تلنگانہ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT