Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ حکومت کے ڈھائی سال مکمل ، نامزد عہدوں پر عدم تقررات

تلنگانہ حکومت کے ڈھائی سال مکمل ، نامزد عہدوں پر عدم تقررات

صرف وعدے اور اعلانات ، اقلیتی قائدین کے صبر کا پیمانہ لبریز
حیدرآباد۔/9 فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن پارٹی کے اقلیتی قائدین اور کارکنوں کو سوائے وعدوں اور اعلانات کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ نامزد سرکاری عہدوں پر تقررات کے خواہشمند اقلیتی قائدین کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پارٹی کے ناراض اقلیتی قائدین حکومت کے موقف کے خلاف اجلاس منعقد کریں۔ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تقریباً 10 سے زائد مرتبہ اقلیتی قائدین کو سرکاری عہدوں پر نامزد کرنے کا تیقن دیا اور ہر بار یہی کہا گیاکہ اندرون ایک ہفتہ تقررات کا عمل شروع ہوگا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ گزشتہ دسہرہ کے موقع پر چیف منسٹر نے اقلیتی قائدین کو لنچ پر مدعو کرتے ہوئے ناموں کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت دی لیکن آج تک تقررات کے معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین اس امید کے ساتھ دن کاٹ رہے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی دن حکومت کی جانب سے خوشخبری ملے گی لیکن ان کی مایوسی میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ پارٹی کے کئی ایسے اقلیتی قائدین ہیں جو ٹی آر ایس کے قیام کے دن سے پارٹی سے وابستہ ہیں اور انہوں نے پارٹی کے استحکام اور تلنگانہ جدوجہد میں کئی قربانیاں دیں۔ اقلیتوں میں پارٹی کو مقبول بنانے کیلئے اضلاع کے دورے کئے گئے اور اقلیتوں کے اجلاس منعقد کئے گئے۔ انہیں یہ تیقن دیا گیا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی ان کے ساتھ مناسب انصاف کیا جائے گا اور نامزد عہدوں پر تقررات میں ترجیح حاصل رہے گی۔ ٹی آر ایس نے حکومت تو تشکیل دے دی اور ڈھائی سال بھی مکمل ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی بھی اہم سرکاری ادارہ پر اقلیتی قائدین کا تقرر نہیں کیا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے سرکاری اداروں پر تقررات نہیں کئے بلکہ کئی کارپوریشنوں کے صدور نشین اور ڈائرکٹرس کی نامزدگی عمل میں آئی لیکن تمام کا تعلق غیر اقلیتی طبقہ سے ہے۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے چند ایک افراد کو مارکٹ کمیٹیوں میں جگہ دی گئی لیکن ان کی میعاد صرف ایک سال بتائی جاتی ہے جس کے گذرنے میں کوئی وقت نہیں لگتا۔ کسی بھی اہم ادارے حتیٰ کہ اقلیتوں سے متعلق اداروں پر تقررات نہیں کئے گئے جبکہ چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ مسلم قائدین کو اقلیتی اداروں کے علاوہ عام زمرے کے اداروں میں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ اقلیتی قائدین آخر کار وزراء اور قائدین کے مکانات کے چکر کاٹتے ہوئے تھک چکے ہیں اور ان کی زبان پر یہ جملہ آچکا ہے’’ آخر انتظار کب تک‘‘۔ قائدین کو شکایت ہے کہ پارٹی میں نوزائیدہ اور چند دولتمند افراد کو اہمیت دی جارہی ہے اور 2001 سے خدمات انجام دینے والے نظر انداز کردیئے گئے۔ قائدین نے ایک سے زائد مرتبہ چیف منسٹر اور ان کے فرزند اور بھانجے سے تقررات کے سلسلہ میں نمائندگی کی لیکن انہیں سوائے تسلی کے کچھ نہیں ملا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ سرکاری عہدے تو کجا گزشتہ ڈھائی سال میں پارٹی اقلیتی سیل کی تجدید نہیں کی گئی۔ کم سے کم پارٹی کے اقلیتی سیل کو متحرک کرتے ہوئے قائدین کو اہم عہدے دیئے جاسکتے تھے۔ اقلیتی قائدین کو شکایت ہے کہ انہیں نہ ہی پارٹی اور نہ ہی حکومت میں کوئی مقام حاصل ہوا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آئندہ سال تقررات کے بجائے الیکشن کی تیاری کا بہانہ بناکر دوبارہ حکومت بننے پر عہدوں کا لالچ دیتے ہوئے معاملہ کو ٹال دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ حکومت نے ڈپٹی چیف منسٹر اور مختلف وزراء سے اقلیتی اداروں اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، اقلیتی کمیشن اور حج کمیٹی کے عہدوں کیلئے ناموں کی فہرست طلب کی تھی لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT