Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ ریاستی کابینہ کے اہم فیصلے

تلنگانہ ریاستی کابینہ کے اہم فیصلے

حیدرآباد ۔ 2 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ ریاستی کابینہ نے اضلاع کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا اپنی نوعیت کا پہلا ’ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کارڈ ‘ ( ڈی ڈی سی ) سسٹم کو رائج کرنے کے علاوہ مزید کئی بشمول حیدرآباد میٹرو ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( ایچ ایم ڈی اے ) کے حدود میں واقع راموجی فلم سٹی کے عقبی حصہ ’ راج کنڈہ پہاڑی ‘ علاقہ اور شاہ میر پیٹ علاقوں میں شہر حیدرآباد کے مستقل طور پر سربراہی آب کو یقینی بنانے کے لیے 40 ، 40 ٹی ایم سی پانی کا ذخیرہ کرنے کی گنجائش والے دو نئے بڑے ذخائر آب تعمیر کرنے اور ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی میں مزید بہتری پیدا کرنے کے لیے فی الفور 80 عہدیداروں کے تقررات عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آج یہاں سکریٹریٹ میں 11 بجے شب اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے زائد از دس گھنٹوں تک منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے واقف کرواتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مذکورہ بات بتائی اور کہا کہ آج منعقدہ کابینہ کے طوفانی اجلاس میں ریاست کے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس تفصیلی جائزہ میں State Own Tax Revenue اور State Own Revenue پر غور و خوص کرنے کے بعد تمام شعبہ جات کے بجٹ میں 15 فیصد گروتھ کا انکشاف ہوا ہے اور یہ آمدنی محکمہ جات کمرشیل ٹیکسیس مائنس ، اکسائز و دیگر محکمہ جات کے ذریعہ حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ 15 فیصد گروتھ ریاست تلنگانہ کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کارڈ سسٹم کے ذریعہ کس محکمہ کو کتنا بجٹ مختص کیا گیا اور کس نوعیت کے ترقیاتی پروگرامس انجام دئیے گئے اور کتنے پروگرامس باقی ہیں اس کا صاف طور پر اندازہ ہوگا اور ڈسٹرکٹ سنٹر انچارج اور ضلع کلکٹر کو بھی آسانی کے ساتھ وقت بہ وقت جائزہ لینے میں مدد حاصل ہوگی ۔ علاوہ ازیں اس نئے سسٹم کے ذریعہ کس محکمہ کو کتنی رقومات منصوبہ جاتی اور غیر منصوبہ جاتی مصارف کے تحت مختص کی گئیں اور کتنی خرچ کی گئی اس کا بھی بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو ماہ جنوری کے اختتام سے قبل باقاعدہ بنانے کے اقدامات کرنے کی ریاستی کابینہ نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے ۔ علاوہ ازیں آوٹ سورسنگ ملازمین جو فی الوقت ماہانہ 6700 روپئے تنخواہ حاصل کررہے ہیں ان کی تنخواہ کو بڑھاکر 12000 روپئے کرنے ، 8400 روپئے ماہانہ تنخواہ یاب ملازمین کی تنخواہ بڑھاکر 15000 روپئے اور ماہانہ 10,000 روپئے تنخواہ پانے والے آوٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہ بڑھا کر 17000 روپئے کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس پر یکم جنوری 2016 سے ہی عمل آوری ہوگی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس اضافہ سے حکومت پر 400 تا 500 کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 15628 اساتذہ بشمول 1225 اردو میڈیم اساتذہ کے تقررات عمل میں لانے ، سال 1989 سے جی ایچ ایم سی و دیگر بلدیات کے حدود میں پانی کے بلوں کے بقایہ جات کو معاف کرنے ، سالانہ 1200 روپئے جائیداد ٹیکس ادا کرنے والے مالکین جائیداد کو اب صرف 101 روپئے جائیداد ٹیکس ادائیگی ( 3.12 ) لاکھ مالکین جائیداد کو فائدہ پہونچے گا ۔ ) ریاست تلنگانہ میں 1800 ہیر ڈریسنگ سیلون شاپس کو کمرشیل برقی بل سے استثنیٰ دیتے ہوئے ڈومیسٹک برقی بل وصول کرنے ، ٹھیلہ بنڈی رانوں وغیرہ کو شناختی کارڈز کی فراہمی کے علاوہ انہیں خصوصی طور پر جگہ فراہم کرتے ہوئے انہیں ہراسانی سے دوچار ہونے سے بچاتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے ، ٹریفک پولیس ڈیوٹی انجام دینے والے ملازمین پولیس کو ان کی بنیادی یافت میں مزید 30 فیصد اضافہ کر کے پولیوشن الاونس فراہم کرنے کا بینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ایم جی ایم ہاسپٹل ورنگل میں 147 ڈاکٹروں کے جائیدادوں پر تقررات کرنے ، محبوب نگر میڈیکل کالج میں 462 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے ، آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے 60 اقلیتی گروکرلا ( اقامتی ) اسکولس قائم کرنے کی کابینہ کے اجلاس نے منظوری دی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد حدود میں ہمہ منزلہ عمارتوں ( ڈبل بیڈ روم فلیٹس ) کی تعمیر کر کے ان عمارتوں میں لفٹس کی تنصیب عمل میں لانے کے مقصد سے ڈبل بیڈ روم فلیٹ کی مالیت کو 5.30 لاکھ روپئے سے بڑھاکر 7 لاکھ روپئے کرنے ، 92 اربن ہیلت سنٹرس کو پرائمری ہیلت سنٹر (PHCS) درجہ پر ترقی دینے ، ضلع کھمم کے کتہ گوڑم منڈل میں انڈین ریزرو بٹالین کا قیام عمل میں لانے ، ریاست میں رئیل اسٹیٹ بزنسمینوں کے لیے مختلف ترغیبات دینے کا بھی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فینانس کی جانب سے ہر محکمہ کو کتنی رقومات بجٹ میں مختص کی جائے گی اس کی تفصیلات بہت جلد محکمہ جات کو فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنے ترقیاتی پروگراموں کے لیے منصوبہ جاتی و غیر منصوبہ جاتی پروگراموں کو قطعیت دے سکیں ۔ اس موقعہ پر ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری ، وزیر داخلہ ین نرسمہا ریڈی ، وزیر زراعت پی سرینواس ریڈی اور وزیر اکسائز وغیرہ بھی موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT