Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ ریاست غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمات میں سرفہرست

تلنگانہ ریاست غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمات میں سرفہرست

رنگاریڈی کے تلگو دیشم قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت ، وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 16 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت فلاحی حکومت ہے اور ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ تلنگانہ غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمات میں سرفہرست ہے۔ کے ٹی راما راؤ آج ضلع رنگا ریڈی میں تلگو دیشم پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین اور مجالس مقامی کے عوامی نمائندوں کی ٹی آر ایس میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ میڑچل سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم کے سینئر قائدین ایم پی ٹی سی ارکان اور کارکنوں کی بھاری تعداد میں آج کے ٹی آر کی موجودگی میں ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کیا ۔

اس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی موجود تھے۔ کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ فلاحی اسکیمات میں ملک بھر میں ریکارڈ رکھتا ہے اور 18 ماہ کے دوران حکومت نے مختلف اسکیمات کے ذریعہ عوام کا دل جیت لیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات سے عوام کی خوشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ورنگل کے ضمنی انتخابات میں رائے دہندوں نے اپوزیشن امیدواروں کی ضمانت ضبط کردی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور تلگو دیشم جو حکومت کے خلاف مہم چلا رہی ہیں ، انہیں عوام نے منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مجالس مقامی کی 12 ایم ایل سی کیلئے انتخابات میں 6 نشستوں پر ٹی آر ایس کو  بلا مقابلہ کامیابی حاصل ہوئی اور یہ ملک میں ایک ریکارڈ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر تلگو دیشم اور کانگریس امیدواروں نے اپنے پرچہ جات نامزدگی سے دستبرداری اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور پارٹی کی کامیابی کا تسلسل آئندہ بھی جاری رہے گا ۔ گریٹر حیدآباد کے مجوزہ انتخابات میں ٹی آر ایس اکثریت حاصل کرے گی اور کارپوریشن پر ٹی آر ایس پرچم لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اپوزیشن جماعتوں کا عملاً صفایا ہوچکا ہے۔

ہر ضلع میں تلگو دیشم اور کانگریس کے قائدین ٹی آر ایس م یں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اپوزیشن قائدین کی شمولیت کسی دباؤ کا لالچ کا نتیجہ ہے بلکہ حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رنگاریڈی ضلع جو سابق میں تلگو دیشم کا مضبوط گڑھ تھا ، اب وہ ٹی آر ایس کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے ۔  ضلع میں تلگو دیشم پا رٹی کا صفایا ہوگیا ۔  مجالس  مقامی کے عوامی نمائندوں کے علاوہ اہم قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام نے یہ ثابت کردیا کہ تلگو دیشم  پارٹی دراصل آندھرائی پارٹی ہے اور اس کے لئے تلنگانہ میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی مخالف حکومت مہم کا عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے بیواؤں اور ضعیفوں کو پنشن کی رقم کو 200 روپئے سے بڑھاکر 1000 روپئے کردیا ہے، اس طرح 4400 کر وڑ روپئے ہر سال وضائف کی اجرائی پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر غریب خاندان کے فرد کو 6 کیلو چاول کی سربراہی عمل میں آرہی ہے جبکہ سابق میں ہر خاندان کیلئے 20 کیلو چاول کی حد مقرر تھی ۔ انہوں نے کلیان لکشمی  اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ غریب خاندانوں میں شادی کا مسئلہ حکومت نے حل کردیا ہے۔ مہیندر ریڈی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کے مزید قائدین ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT