Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ سے تلگو دیشم پارٹی کا مکمل صفایا ہوگیا

تلنگانہ سے تلگو دیشم پارٹی کا مکمل صفایا ہوگیا

عوام نے پارٹی کو دھتکارا ، قومی پارٹی کا دعویٰ چھوٹی جماعت میں تبدیل ، ٹی آر ایس ایم پی سمن کی کھری کھری
حیدرآباد۔/11فبروری، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی کا تلنگانہ سے مکمل صفایا ہوچکا ہے اور عوام نے اسے مسترد کردیا۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمن نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی بظاہر ایک قومی پارٹی کی طرح خود کو ظاہر کررہی ہے حالانکہ اصلیت میں وہ ایک چھوٹی علاقائی جماعت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تلگودیشم پارٹی صرف آندھرا پردیش تک محدود ہوجائیگا اور تلنگانہ میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آندھرائی جماعتوں کیلئے تلنگانہ میں کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی عوام ایسی جماعتوں کی تائید کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر انتخابات میں تلگودیشم کا صفایا کرتے ہوئے رائے دہندوں نے واضح طور پر پیام دے دیا ہے۔ ورنگل انتخابات میں بھی عوام نے تلگودیشم امیدوار کی ضمانت بھی نہیں بچائی۔ سمن نے کہا کہ بہار سے جھارکھنڈ کی علحدگی کے بعد راشٹریہ جنتا دل صرف بہار تک محدود ہوگئی اور جھارکھنڈ میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے اسی طرح آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلگودیشم پارٹی آندھرا پردیش تک محدود ہوچکی ہے۔انہوں نے تلگودیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیں اور تلنگانہ میں تلگودیشم کے استحکام کی اُمیدیں چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام اہم قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں اور ریونت ریڈی چاہے لاکھ کوشش کرلیں وہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کو نہیں بچاپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی تو کیا ان کے آباء و اجداد بھی تلگودیشم کے زوال کو روک نہیں پائیں گے۔ انہوں نے تلگودیشم پارٹی پر قائدین کو لالچ دیتے ہوئے پارٹی میں برقرار رکھنے کا الزام عائدکیا اور کہا کہ سابق میں دیگر جماعتوں کے قائدین کو لالچ دیتے ہوئے تلگودیشم میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو خود کانگریس میں شامل تھے اور بعد میں تلگودیشم سے وابستہ ہوگئے۔ سمن نے کہا کہ ریونت ریڈی اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ تلگودیشم میں کس لالچ کی بنیاد پر برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی دیگر جماعتوں کے قائدین کو لالچ دینے کا ریکارڈ رکھتی ہے اور ٹی آر ایس کو اس طرح کے لالچ کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم کے جن قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی وہ اپنے طور پر شامل ہوئے نہ کہ انہیں پارٹی کی جانب سے کوئی لالچ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر دیگر جماعتوں کے قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں اور اس طرح کے قائدین کی شمولیت پر تلگودیشم کا اعتراض غیر ضروری ہے۔ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کئی قائدین کو تلگودیشم میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں آزاد رکن اسمبلی اسٹیفن سن کو تائید کیلئے ریونت ریڈی کے ذریعہ رقم کا لالچ دیا گیا تھا اور اس اسکام میں ریونت ریڈی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی سے متاثر ہوکر قائدین ٹی آر ایس کا رُخ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT