Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مختلف محکمہ کے مطالبات زر پر مباحث کا آغاز

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مختلف محکمہ کے مطالبات زر پر مباحث کا آغاز

اہم شعبہ جات میں حکومت کی ناکامی: کانگریس، ترقی میں حکومت سے تعاون ضروری : برسراقتدار پارٹی کی اپیل

حیدرآباد۔/18 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج 9 مختلف محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کا آغاز ہوا۔ اپوزیشن کانگریس نے اہم شعبہ جات میں حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا جبکہ برسر اقتدار پارٹی کے رکن نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ریاست کی ترقی میں حکومت سے تعاون کریں۔ کانگریس کے ڈپٹی لیڈر ڈاکٹر جی چنا ریڈی نے مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت زرعی شعبہ کی ترقی کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن حقیقت میں اس شعبہ کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان حکومت کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے سبب پریشان ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں تلنگانہ میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ چنا ریڈی نے کہاکہ بجٹ میں زرعی شعبہ کیلئے 6000 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جو ناکافی ہیں۔ جاریہ سال بھی زرعی شعبہ کیلئے بجٹ میں مختص کردہ رقم خرچ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسان بہتر مانسون کے باوجود بہتر پیداوار سے محروم ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے انہیں مناسب امدادی رقم فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ریاست کی ترقی اور خوشحالی میں اہم رول ادا کرتا ہے لیکن افسوس کہ ٹی آر ایس حکومت نے اس شعبہ کو نظرانداز کردیا۔ انہوں نے کسانوں کی رہنمائی کیلئے ہر ضلع میں اراضی کی جانچ سے متعلق یونٹ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے چنا ریڈی نے کہا کہ زیر التواء پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کے اقدامات کئے جانے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے حصول میں تاخیر اور دیگر وجوہات کا بہانہ بناکر حکومت نے کئی اہم پراجکٹس کی تعمیر کو موخر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن پراجکٹس کی تکمیل کے بغیر یہ کس طرح ممکن ہوپائے گا۔ انہوں نے سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں اپوزیشن کے تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپوزیشن کی تعمیری تجاویز کو قبول کرے اور جارحانہ جوابی حملوں کے انداز میں تبدیلی لائے۔ ٹی آر ایس کے سرینواس گوڑ نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ریاست کی ترقی میں حکومت سے تعاون کریں۔ کے سی آر کی قیادت میں ٹی آر ایس حکومت سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کی سمت گامزن ہے اور اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت سے مکمل تعاون کرے۔ سرینواس گوڑ نے کہا کہ حکومت نے جن ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا ہے ان میں اپوزیشن کو رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے زرعی شعبہ کو نظرانداز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں میں محکمہ پولیس کے امیج کو بھی متاثر کردیا گیا تھا تاہم کے سی آر نے پولیس نظام میں بہتری لاتے ہوئے اسے دنیا بھر میں مثالی تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے ذریعہ امن و ضبط کی صورتحال پر نظر رکھنے میں مدد ملی ہے۔ ایک سی سی ٹی وی کیمرہ 100 ملازمین پولیس کے برابرہے، کسی بھی واقعہ کے رونما ہوتے ہی پولیس گھنٹوں میں سی سی فوٹیج کی مدد سے خاطیوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرینواس گوڑ نے محکمہ اکسائیز کی آمدنی سے گوڑ طبقہ کو حصہ داری دینے کی سفارش کی۔ مجلس کے احمد پاشاہ قادری نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ہوم گارڈز کے مسائل کی عاجلانہ یکسوئی، سرکاری دفاتر میں اردو کے استعمال کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسی ندی میں برسوں سے غیرمجاز قبضے ہیں جن کی برخواستگی کے قدم اٹھائے جانے چاہیئے۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ، سرکاری قبضہ میں موجود اوقافی اراضیات کی واپسی، فٹ پاتھ کے چھوٹے کاروباریوں کو ہراسانی کا سلسلہ بند کرنے اور غریبوں کو نئے راشن کارڈز کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT