Sunday , April 30 2017
Home / مضامین / تلنگانہ قرض کے دلدل میں

تلنگانہ قرض کے دلدل میں

اپوزیشن کمزور ، میڈیا بے بس
اقلیتوں کیلئے وعدوں کے لالی پاپ

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ حکومت نے سال 2017-18 ء کے بجٹ میں پسماندہ طبقات کے لئے اُمید کی نئی کرن پیدا کی ہے وہی اقلیتی بجٹ میں اضافہ کے بجائے 56 کروڑ کم کرتے ہوئے اقلیتوں کو مایوس کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک طرف سماجی انصاف کا نعرہ دیا جارہا ہے دوسری جانب ریاست تلنگانہ کو ویلفیر اسٹیٹ قرار دیا جارہا ہے۔ جبکہ ان دونوں دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ سال 2016-17 کے لئے حکومت تلنگانہ نے سماج کے تمام طبقات ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کی ترقی و بہبود اور دوسری سبسیڈی اسکیمات کے لئے 35 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ حقیقت میں یہ بہت بڑا بجٹ تھا مگر سال کے ختم ہونے تک ویلفیر پر 20 ہزار کروڑ روپئے بھی خرچ نہیں کئے گئے۔ رہا سوال ایس سی ایس ٹی بی سی اور اقلیتوں کے فلاح و بہبود کے بجٹ مصارف کا صرف 40 تا 50 فیصد ہی منظورہ بجٹ ہی خرچ کیا گیا ہے۔

قرض میں مبتلا ریاست حصول قرض کو اعزاز سمجھنے لگے اور عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ ترقی کے لئے قرض حاصل کرنے سے اجتناب کرنا حماقت ہوگی تو ایسی صورت میں ریاست بلکہ ریاست کے عوام بھی قرض کے دلدل میں اُترتے چلے جاتے ہیں کیونکہ حکومتیں جو قرض حاصل کرتی ہیں اس کی ادائیگی عوام سے وصول ہونے والے ٹیکس وغیرہ سے ادا کی جاتی ہے۔ جب ریاست ضرورت سے زیادہ قرض حاصل کرلے تو حکومت پریشان نہیں ہوتی بلکہ اپنی پریشانی کا سارا بوجھ عوام پر لاد دیتی ہے۔ انتخابات کے موقع پر اپنے اپنے منشور جاری کرتے ہوئے عوام کی حمایت حاصل کرنے والی حکومت پر ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں۔ لیکن حکمراں طبقہ عوام کو راحت اور سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے انھیں مقروض بنانے میں اپنی دلچسپی دیکھانے لگے تو سمجھ لینا چاہئے کہ حکومت کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنی ساکھ متاثر ہونے سے بچانے کے لئے ہزاروں کروڑ کے قرض حاصل کئے جارہی ہے۔ جس کی ادائیگی کا کوئی منصوبہ ہے اور نا ہی آمدنی کی کوئی راہیں ہیں۔ 4 افراد پر مشتمل خاندان اگر کوئی منصوبہ بندی کرتے ہوئے 10 لاکھ روپئے قرض حاصل کرنے پر غور کرتا ہے تو اپنی آمدنی اور خرچ کو ملحوظ رکھتے ہوئے بطور قرض حاصل کی گئی رقم کی ادائیگی کے لئے حساب کتاب کرتا ہے۔ 4 کروڑ آبادی پر مشتمل ریاست تلنگانہ کے لئے حکمران طبقہ 2 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کررہا ہے لیکن اس کی ادائیگی کے لئے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی تیار نہیں ہے تو یہ قابل سرزنش ہے۔ 2 جون 2014 ء کو جب آندھراپردیش کی تقسیم ہوئی تھی تو تب ورثہ میں دوسرے اثاثہ جات کے ساتھ تلنگانہ کو 60 ہزار کروڑ کا بجٹ ملا تھا۔ واضح رہے کہ آزادی کے بعد سے علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل تک کا قرض تھا۔ تاہم نئی ریاست تلنگانہ میں پہلی حکومت تشکیل دینے والی ٹی آر ایس نے صرف ڈھائی سال میں ریاست کے قرض کے بوجھ کو بڑھاکر 1.40 لاکھ کروڑ تک پہونچادیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے مختلف کارپوریشن نے بھی حکومت کی ضمانت سے مزید 45 ہزار کروڑ روپئے کے قرض حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی نئی اسکیم کے تحت برقی بورڈ نے بھی مرکز سے 9 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کیا ہے۔ اس طرح ریاست پر جملہ تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کا بوجھ عائد ہے۔ جبکہ ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے 13 مارچ 2017 ء کو اسمبلی میں تقریباً دیڑھ لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا ہے۔ مجموعی بجٹ سے 50 ہزار کروڑ کا ریاست پر قرض ہے۔ مگر تعجب اس بات کا ہے کہ وزیر فینانس نے 5 ہزار کروڑ روپئے کا فاضل بجٹ پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر یہ فاضل آمدنی والا بجٹ ہے تو پھر محکمہ اقلیتی بہبود کے منظورہ بجٹ میں43  فیصد ہی بجٹ کیوں خرچ کیا گیا ماباقی 57 فیصد بجٹ کیوں خرچ نہیں کیا گیا۔ ایس سی ۔ ایس ٹی اور بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے منظورہ 40 تا 50 فیصد بجٹ کیوں خرچ نہیں کیا گیا۔ بلدی نظم و نسق کے لئے مختص کردہ بجٹ میں 49 فیصد فنڈز جاری کیوں نہیں کئے گئے۔ ریاست کے تمام محکمہ جات کے مختص کردہ بجٹ جاری کردہ بجٹ کی یہی صورتحال ہے۔ ایسی صورت میں تلنگانہ کو ویلفیر اسٹیٹ قرار دینا مناسب ہے۔ کوئی بھی ریاست صرف سماج کے تمام طبقات اور دوسری شعبوں کے لئے سبسیڈی کے لئے رقص مختص کردینے سے ویلفیر اسٹیٹ نہیں بن جاتی۔ ویلفیر اسٹیٹ کہلانے کے لئے مختص کردہ فنڈز خرچ بھی کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی سے حاصل کردہ قرض کو حسب وعدہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہوتا تو کوئی نا کوئی نیا بہانہ بنالیتا یا پھر ادائیگی کے لئے مزید مہلت طلب کرتا لیکن ٹی آر ایس حکومت کی بے حسی کی کوئی حد نہیں ہے اور نا ہی بڑے پیمانے پر قرض حاصل کرنے پر وہ شرمندہ ہے اور نا ہی منظور کردہ بجٹ کی مکمل عدم اجرائی پر کسی قسم کا افسوس ہے بلکہ وہ اپنے ہر فیصلے کو کارنامہ قرار دیتے ہی اپنی پیٹھ خود تھپتھپا رہی ہے۔ اس پر اپوزیشن اور میڈیا کی بے حسی اور نظرانداز کرنے کی پالیسی جمہوری نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہورہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے مرکز میں ہی نہیں بلکہ تلنگانہ میں بھی آمرانہ طرز کی حکمرانی جاری ہے۔ اور یہ عمل سیکولر ملک کی جمہوریت کے لئے بہت بڑا چیلنج بن رہا ہے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تو سنگین نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ مالیاتی بحران کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تنلگانہ پر عائد قرض پر ہر سال تقریباً 20 ہزار کروڑ روپئے کا سود ادا کیا جارہا ہے اور فی الحال ریاست کے ہر شہری پر تقریباً 38 ہزار روپے کے قرض کا بوجھ عائد ہے۔

رہی بات اقلیتی بجٹ کی سال 2016-17 ء کے لئے ریاست کے مجموعی بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لئے 1204 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ بعد میں 101 کروڑ کا اضافہ کرتے ہوئے بجٹ کو 1305 کروڑ کردیا گیا تھا۔ لیکن وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کی جانب سے پیش کردہ بجٹ 2017-18 ء میں 1249 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اقلیتی بجٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے گزشتہ سال کے بہ نسبت 56 کروڑ روپئے کی کمی کردی گئی۔ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے 80 فیصد سبسیڈی کے تحت اقلیتی بے روزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ تا 10 لاکھ روپئے تک قرض فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے درخواستیں طلب کی تھی۔ جس پر بھروسہ کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں نے 1.67 لاکھ درخواستیں پیش کیں، حکومت کی جانب سے ان درخواستوں پر قرض کی ادائیگی کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جس سے سینکڑوں نوجوان مرد و خواتین قرض کے لئے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ نئے بجٹ میں بینکوں سے مربوط قرض فراہمی اسکیم کے لئے صرف 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ 1.67 لاکھ درخواستوں کی یکسوئی پر تین ہزار کروڑ روپئے کے مصارف ہوں گے۔ دوسرے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو بینکوں سے مربوط قرض کی فراہمی اسکیم کے معاملے میں بڑے پیمانے پر جانبداری دونوں طرف حکومت اور بینکوں کی جانب سے کی جارہی ہے۔ امتیازی سلوک کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ایس سی ۔ ایس ٹی اور بی سی طبقات کے لئے کارپوریشن اور بینکوں سے جب قرض حاصل ہوتے ہیں تو اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کیوں ہورہی ہے اس کا ازالہ کب ہوگا۔ حکمراں طبقہ کی جانب سے تلنگانہ کو سارے ملک میں دولتمند ریاست کا درجہ حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ مگر اقلیتی نوجوانوں کو 3 ہزار کروڑ قرض فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔

اسلامک سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ عدلیہ کے سپرد ہوگیا ہے۔ شادی مبارک اسکیم کی مالی امداد کو 51 ہزار روپئے سے بڑھاکر 75 ہزار روپئے کردیا گیا ہے۔ یہ قابل ستائش اقدام ہے۔ تاہم شادی مبارک اسکیم کی کئی درخواستیں زیرالتواء ہیں جو درخواستیں حکومت کے پاس زیرغور ہیں۔ انھیں بھی فی کس 75 ہزار روپئے دیا جائے گا یا نئے مالیاتی سال سے اس پر عمل آوری ہوگی اس کی حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ فیس ریمبرسمنٹ اسکیم کے تقریباً چار ہزار کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں مگر افسوس کہ بجٹ میں صرف 1900 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے حکومت طلبہ اور ان کے کیرئیر سے کتنی دلچسپی رکھتی ہے۔ انجینئرنگ و دیگر پروفیشنل کورسیس کی تکمیل کرنے والے طلبہ روزگار اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں کیونکہ کالجس حکومت کی جانب سے فیس بقایا جات جاری نا ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے سرٹیفکٹس کی اجرائی سے انکار کررہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی میں اس مسئلہ پر حکومت کو توجہ دلائی۔ طلبہ تنظیموں نے اپنا احتجاج درج کرایا مگر حکومت نے فیس بقایا جات کی ادائیگی کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے لئے ٹی آر ایس حکومت نے غریب عوام کو بڑے بڑے خواب دیکھائے انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیا مگر 33 ماہی دور حکومت میں صرف 1400 مکانات تعمیر کئے گئے جبکہ چیف منسٹر کے بلڈ پروف بنگلہ اور ارکان اسمبلی کے لئے فی کس ایک کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر ہونے والے مکانات کا منشور میں کوئی وعدہ نہیں کیا گیا مگر ان کے لئے تیزی سے مکانات تعمیر ہورہے ہیں۔ بجٹ میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے لئے خاطر خواہ فنڈز مختص نہیں کئے گئے۔ حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں نمس کے طرز پر تین بڑے ہاسپٹلس تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر بجٹ میں فنڈز کی کوئی گنجائش فراہم نہیں کی گئی۔ ریاست کے ہر منڈل میں 30 بستروں پر مشتمل اسمبلی حلقوں میں 100 بستروں پر مشتمل ہاسپٹلس اضلاع ہیڈ کوارٹرس پر نمس کے طرز پر ہاسپٹلس قائم کرنے کا ٹی آر ایس نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے مگر ابھی تک پیش کردہ بجٹ میں ان ہاسپٹلس کی تعمیرات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کسی قسم کا بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 43 فیصد اضافہ کیا گیا مگر بقایا جات ہنوز جاری نہیں کئے گئے۔ ایل کے جی تا پی جی تک مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر اس کی ابھی کوئی شروعات نہیں ہوئی۔ ریذیڈنشیل اسکولس کے قیام کو اس کی شروعات قرار دی جارہی ہے جبکہ ریزیڈنشیل اسکولس میں پانچویں جماعت سے قبل اور دسویں جماعت کے بعد کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہے۔ ٹی آر ایس کے منشور میں ایک لاکھ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر ابھی تک صرف 27 ہزار ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسمبلی اور کونسل میں حکومت کو ٹی آر ایس کے وعدوں کی یاد دہانی کرنے پر حکمراں جماعت کے ارکان شور شرابہ کرتے ہوئے کانگریس اور تلگودیشم حکومتوں میں انجام دیئے گئے کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی آواز دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT