Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں آج نئے اضلاع کا افتتاح ‘ بڑے پیمانے پر تقاریب

تلنگانہ میں آج نئے اضلاع کا افتتاح ‘ بڑے پیمانے پر تقاریب

کے سی آر سدی پیٹ کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیں گے ‘ تمام اضلاع میں جشن کا ماحول ‘ 21اضلاع کے ساتھ جملہ تعداد 31ہوگئی
حیدرآباد ۔ 10اکٹوبر ( پی ٹی آئی ) بدی پر نیکی کی فتح کے تہوار وجئے دشمی کے موقع پر تلنگانہ میں 11اکٹوبر کو تقریباً 21نئے ضلعوں کا وجود عمل میں آئے گا جس کے ساتھ ہی اس ریاست میں اضلاع کی تعداد 31 تک پہنچ جائے گی ۔ ہندوستان کی 29ویں ریاست کی حییثت سے 2جون 2014ء کو تلنگانہ کا وجود عمل میں آیا تھا ‘ اُس وقت اس کے 10اضلاع تھے ۔ چیف منسٹر کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤ نے کہا ہے کہ بہتر نظم ون سق کیلئے اضلاع کی تنظیم جدید کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ انتظامیہ کو ان اضلاع میں مختلف سرکاری پروگراموں پر موثر عمل آوری کیلئے مقامی عوام کے بارے میں جامع معلومات حاصل کرہیں گے کیونکہ ہر ضلع کی مجموعی آبادی چند لاکھ نفوس پر مشتمل ہوگی ۔ چنانچہ ریسات میں کل منگل کو نئے اضلاع کے افتتاح کیلئے بڑے پیمانے پر تقاریب منعقد ہوں گے ۔ اسمبلی اسپیکر کے علاوہ وزراء کو بھی اضلاع کے افتتاح یا اختتامی تقاریب میں شرکت کیلئے نامزد کیا جاچکا ہے ۔ چیف منسٹر اپنے طاقتور قلعہ میدک کی تقسیم کے ذریعہ تشکیل شدہ نئے ضلع سدی پیٹ کا افتتاح کریں گے اور ضلع میں ان کا حلقہ انتخاب بھی واقع ہے ۔ چیف منسٹر کے دفتر ( سی ایم او) سے جاری اعلامیہ کے مطابق نئے اضلاع کی فہرست میں سدی پیٹ ‘ جنگاؤں ‘ جیاشنکر ‘ جگتیال ‘ ورنگل ( دیہی) یادادری ‘ پداپلی ‘ کاماریڈی ‘ میدک ‘ منچریال ‘ وقارآباد ‘ راجنا ‘ آصف آباد ‘ سوریا پیٹ ‘ کتہ گڑم ‘ نرمل ‘ ونپرتی ‘ ناگر کرنول ‘ محبوب آباد ‘ جوگو لمبا اور میڑچل / ملکاجگری شامل ہیں ۔ انتظامی یونٹوں کی نئی صورت گری دراصل ایک اہم مساعی کے حصہ کے طور پر اضلاع کی تنظیم جدید کی گئی ہے ۔ کے سی آر کی ٹی آر ایس حکومت منڈلوں اور دیگر انتظامی یونٹوں کی تنظیم جدید بھی کررہی ہے ۔ قبل ازیں حکومت نے اس مقصد کیلئے چیف سکریٹری راجیو شرما کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ بعد ازاں ٹی آر ایس رکن راجیہ سبھا کے کیشو راؤ کی قیادت میں دوسری اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ اضلاع کی تنظیم جدید کے عمل کے دوران کے سی آر حکومت کو عوامی احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ اپوزیشن جماعتوں کانگریس ‘ تلگودیشم اور بی جے پی نے حکومت پر فیر سائنس اور یکطرفہ انداز میں اضلاع  کی تنظیم جدید کرنے کا الزام عائد کیا ۔ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے اس مسئلہ پر حکومت کی جانب سے دوسری مرتبہ کُل جماعتی اجلاس طلب نہ کئے جانے پر سخت اعتراض کیا ۔ تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کے کارگذار صدر اور رکن اسمبلی اے ریونت ریڈی نے اضلاع اور منڈلوں کے قیام کے ضمن میں چندر شیکھر راؤ حکومت پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ریونت ریڈی نے یہ الزام بھی عائد کیا ۔ ٹی آر ایس حکومت کے اقدامات قبائلی ‘ عوام اور سماج کے دیگر طبقات کے مفادات کے خلاف ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT