Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اراضیات کے سروے کا عنقریب آغاز

تلنگانہ میں اراضیات کے سروے کا عنقریب آغاز

ریکارڈس کو ڈیجیٹلائز کرنے پر توجہ ، 150 کروڑ روپئے کے مصارف
حیدرآباد۔10جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں موجود تمام اراضیات کے ازسر نو سروے کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس کام کا بہت جلد آغاز ہو جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مرکزی فنڈز کی امداد حاصل کرتے ہوئے ریاست میں موجود تمام اراضیات بشمول محکمہ جنگلات کی اراضیات کے از سر نو سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تمام اراضیات اور مواضعات کے ریکارڈس کو ڈیجٹلائز کیا جا سکے۔ ریاست میں 1930میں کئے گئے اراضیات کے سروے کے بعد سے کوئی سروے نہیں کیا گیا جبکہ ہر 30سال میں اراضیات کے سروے کی تکمیل کی جنی چاہئے لیکن ایسا نہ کئے جانے کے سبب اراضیات کے ریکارڈس میں کئی مسائل پیدا ہونے لگے ہیں اور جو ریکارڈس محکمہ کے پاس موجود ہیں وہ انتہائی خستہ حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ اراضیات کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کئے جانے سے نہ صرف ریکارڈس محفوظ ہوں گے بلکہ ان ریکارڈس کو ضرورت پڑنے پر بہ آسانی حاصل کیا جا سکے گا۔ حکومت تلنگانہ کو تمام اراضیات کے ریکارڈس کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے 150کروڑ خرچ کرنے ہوں گے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے چلائے جا رہے ڈیجیٹل انڈیالینڈ ریکارڈس ماڈرنائزیشن پروگرام کے ذریعہ 150کروڑ روپئے حاصل ہونے کا امکان ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اراضیات کے ریکارڈس کو ڈیجیٹلائز کرنے کے اقدامات کے آغاز کیلئے فوری طور پر 64کروڑ روپئے درکار ہوں گے اور اس کے لئے عصری معلومات سے واقف عملہ بھی درکار ہوگا۔ چیف کمیشن لینڈ اڈمنسٹریشن کی زیر نگرانی شروع کئے جانے والے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے محکمہ مال کے علاوہ متعلقہ محکمہ جات میں موجود مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرنے کے علاوہ ڈیجیٹلائزیشن کے کام کی تکمیل کے لئے کمپیوٹر اور دیگر عصری علوم سے واقف عملہ کے تقررات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ محکمہ کے ذرائع کے بموجب ریاست تلنگانہ میں 10ہزار760مواضعات ہیں جن میں صرف 400تا500مواضعات کے مکمل ریکارڈس موجود ہیں اور 2000تا2500مواضعات کے اہم ریکارڈس دستیاب نہیں ہیں لیکن اس سروے سے تمام ریکارڈس یکجا ہونے کی صورت میں تمام اراضیات کی تفصیل میسر آجائے گی اور اس کے بعد اراضیات کی خرید و فروخت کی معاملتوںاور اراضیات پر قبضوں کے واقعات میں کمی واقع ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ بھو بھارتی محکمہ کی جانب سے کئے جانے والے اس از سر نو سروے میں تمام سرکاری و خانگی اراضیات کے ریکارڈس کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ گمشدہ دستاویزات کو دیگر محکمہ جات سے حاصل کرنے کی کوشش بھی جائے گی۔ نظام کے دور حکومت کے اراضیات کے کلیدی دستاویزات جو گمشدہ تصور کئے جا رہے ہیں انہیں بازیاب کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس کیلئے آرکائیوز اور دیگر محکمہ جات کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔حکومت کی جانب سے اراضیات کے ازسر نو سروے کی صور ت میں زرعی‘ خانگی‘ سرکاری ‘ اوقافی ‘ پٹہ اور دیگر تمام اراضیات کے علحدہ ریکارڈس بن سکتے ہیں اور اراضیات کی خرید و فروخت کے معاملات جو عدالت میں زیر دوراں ہیں ان کے عاجلانہ فیصلے ممکن ہو پائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT