Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کے اضافہ کیلئے آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں ترمیم پر زور

تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کے اضافہ کیلئے آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں ترمیم پر زور

نئی ریاست میں نشستوں میں اضافہ کی گنجائش ، مرکزی حکومت کو مکتوب ، ٹی آر ایس ایم پی بی ونود کمار
حیدرآباد۔25 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے اسمبلی نشستوں میں اضافے کے لئے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں ترمیم کے لئے مرکز سے نمائندگی کی ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے اس سلسلہ میں منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ ہنس راج گنگارام آہیر کو مکتوب روانہ کیا جس میں اس بات کی خواہش کی گئی کہ دستور کی دفعہ 170 میں ترمیم کے بجائے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں ترمیم کرتے ہوئے تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ نئی ریاست کے قیام کے بعد اسمبلی نشستوں میں اضافے کا تیقن تنظیم جدید قانون میں دیا گیا ہے۔ اسمبلی کی نشستوں کو 119 سے بڑھاکر 153 کرنے کے لئے سیکشن 26 میں گنجائش موجود ہے۔ اس سیکشن میں عمل آوری کرتے ہوئے مرکزی حکومت نشستوں میں اضافے کو یقینی بناسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے لئے دستوری ترمیم ضروری نہیں ہے بلکہ تنظیم جدید قانون کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ نے بھی واضح کیا تھا کہ ریاستوں کو دستوری ترمیم کے بغیر اسمبلی نشستوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ریاستوں کے قیام کے وقت آرٹیکل 4 کے تحت نشستوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کی نظائر موجود ہیں ۔ واضح رہے کہ رکن راجیہ سبھا ٹی جی وینکٹیش نے نے اس سلسلہ میں 23 نومبر کو پارلیمنٹ میں سوال کیا تھا۔ مرکزی مملکتی وزیرداخلہ ہنس راج گنگارام نے اس کے جواب میں وضاحت کی تھی کہ دستور کی دفعہ 170 میں ترمیم تک نشستوں کی تعداد میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے 2026 تک دونوں ریاستوں میں اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ ٹی آر ایس نے مرکز کے اس موقف کے بعد اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے تاکہ جلد سے جلد اسمبلی نشتسوں میں اضافہ کے منصوبے پر عمل آوری ہوسکے۔ ونود کمار نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ملک میں جو نئی ریاستیں تشکیل دی گئی ہیں، ان میں اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں بہتر حکمرانی کے لئے اضلاع کی تعداد کو 10 سے بڑھاکر 31 کیا گیا۔ اس اعتبار سے اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اسمبلی حلقوں کے ذریعہ عوام ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر موثر انداز میں عمل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کی جانب سے اسمبلی نشستوں میں اضافہ کا مطالبہ حق بجانب ہے اور مرکز کو چاہئے کہ وہ تنظیم جدید قانون کی دفعہ 26 میں ضروری ترمیم کو جاریہ لوک سبھا اجلاس میں ہی منظوری حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات 2019 میں ہوں گے لہٰذا مرکزی حکومت کو مزید وقت ذائع کئے بغیر نشستوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقوں کی ازسر نو حدبندی کے لئے وقت لگ سکتا ہے لہٰذا 2019 کے ا سمبلی انتخابات سے قبل اس مرحلہ کی تکمیل کی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT