Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عظیم کارنامہ، مسلمانوں کا تابناک مستقبل

تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عظیم کارنامہ، مسلمانوں کا تابناک مستقبل

دفتر سیاست میں اسکول داخلہ پر شعور بیداری اجلاس، جناب شفیع اللہ، جناب ظہیرالدین علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔8مئی(سیاست نیوز)معاشی طور پر پسماندہ اقلیتی طبقات کی فلاح وبہبود اور ناخواندگی کو دور کرنے کی غرض سے حکومت تلنگانہ کی معلنہ اقامتی اسکولس اسکیم ایک عظیم کارنامہ ہے اور تلنگانہ میں مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے لئے مذکورہ اسکیم کی کامیابی ضروری ہے ۔ جناب ظہیر الدین علی خان ادارے سیاست کے زیر اہتمام محبوب حسین جگر ہال میںتلنگانہ میناریٹی ریسڈینشل اسکول ایجوکیشن سوسائٹی کے متعلق شعور بیداری مہم اجلاس سے صدارتی خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ او ایس ڈی ٹی ایم آر ائی ای ایس جناب محمد شفیع اللہ آئی ایف ایس‘پراجکٹ مینجرس ٹی ایم آر ایس ای ایس منیجر اعجاز احمد‘عبدالطیف ‘ جناب عثمان شہید ایڈوکیٹ‘ جناب میجر قادری ‘ جناب خلیق الرحمن‘سید ہ عقیلہ خاموشی صدر تنظیم بنت حرم کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔جناب ظہیرالدین علی خان نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کی گنجان آبادی والے علاقوں بالخصوص سلم بستیوں میںحکومت تلنگانہ کے اقامتی اسکولس کے متعلق شعور بیداری ضروری ہے ۔ انھوں نے سیاسی پارٹیوںسے بالاترہوکر تمام مسلم قیادتوں اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کو اقامتی اسکولس کے اس اسکیم کو کامیاب بنانے کی اپیل کی تاکہ تلنگانہ سے مسلمانو ں کی ناخواندگی کودور کیاجاسکے۔

جناب ظہیرالدین علی خان نے ریسڈینشل اسکولس میںبنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آئی آئی ٹی میںخدمات انجام دے رہے طلبہ کی بھی اس موقع پر مثال پیش کی ۔ انہوں نے کہاکہ ریسڈینشل اسکولس میںتعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں ائی اے ایس بنیں اور پائیلٹ کی خدمات بھی انجام دی رہی ہیں۔ جبکہ نے مسلم نونہالوں کے بہتر مستقبل کے لئے ریسڈینشل اسکولس میں داخلوں کو یقینی قراردیا۔اجلاس میںموجودرضاکارانہ تنظیموںکے ذمہ داران او رمحاذی تنظیموں کے سربراہان سے ریسڈینشل اسکولس کے متعلق کی جارہی شعور بیداری مہم کو ریاست تلنگانہ کے تمام دس اضلاع کے مسلم گھروں تک پہنچانے کی بھی انھوں نے اپیل کی۔اقامتی اسکول اسکیم کے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے آئی ایف ایس و او ایس ڈی محمد شفیع اللہ نے بتایاکہ ریاست میں جملہ ایک سو بیس اقامتی اسکولس قائم کرنے کے لئے حکومت نے منظور ی دی ہے او رپہلے مرحلے میں 71اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ پانچویں چھٹی اور ساتویں جماعت میںداخلوں کا آغا ز کیاجارہا ہے جس کے لئے بناء کسی صداقت نامے کے لڑکا یالڑکی کی تفصیلات آن لائن رجسٹریشن کروانے کی ضرورت ہے ۔حکومت نے اس عظیم کام کے لئے چا ر ہزار کروڑ کا بجٹ مختص کیاہے ۔ ان اقامتی اسکولس میں بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینیات بھی پڑھائی جائے گی۔حکومت ایک طالب علم پر سالانہ 80ہزار روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔

جناب شفیع اللہ نے بتایا کہ ان اقامتی اسکولس میں مفت تعلیم کے ساتھ یونیفارم ‘ طعام اور تہذیبی سرگرمیوں کا بھی انتظام رہے گا۔ جس طرح سوشیل ویلفیر کے تحت پسماندہ طبقات کے لئے قائم کئے گئے ایس سی ‘ ایس ٹی اقامتی اسکولس مذکورہ طبقات کی ترقی کا ذریعہ ثابت ہورہے ہیں اسی طرز پر حکومت تلنگانہ اقلیتوں کے لئے بھی اقامتی اسکولس قائم کررہی ہے ۔ ان اقامتی اسکولس میںتعلیم حاصل کرنے والے مستقبل میںسرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہونگے ۔ سرکاری محکموں میںمسلم اقلیت کے کم تناسب کا سبب مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی قراردیا۔انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ معاشرہ اور قوم تلنگانہ ریاست کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔جناب شفیع اللہ نے کہاکہ پہلے مرحلے کے اسکولس میں داخلوں کے لئے چودہ ہزار طلبہ کے داخلہ کا نشانہ مقرر کیاگیاہے جس میںتین ہزار سات سو طلبہ کا آن لائن رجسٹریشن ہوچکا ہے انہوں نے مزید دس ہزار طلبہ کے آن لائن رجسٹریشن کے لئے دینی اداروں‘ سیاسی جماعتوں ‘ سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے آگے آنے کی اپیل کی ۔ انہوںنے کہاکہ دینیات کے نصاب کے لئے سوسائٹی ریاست کے ممتاز علماء کرام کی خدمات سے استفادہ کررہی ہے ۔ اقامتی اسکولس کے نصاب میںاُردو زبان کو بھی شامل کیاگیا ہے جبکہ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اُردو بھی مذکورہ اقامتی اسکولس میں پڑھائی جائے گی۔ جناب شفیع اللہ نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو ریاست کے تمام طبقات اور قوموںکو یکساں تعلیم اورترقی کے مواقع فراہم کرنے میںسنجیدہ ہیں او ریہی وجہہ ہے کہ جناب اے کے خان کی نگرانی میں ایک سوسائٹی قائم کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے حکومت کی اقامتی اسکولس اسکیم کی ستائش کی اور اسکیم کو کامیاب بنانے میںہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔بعدازاں سوسائٹی کے ذمہ داران اور شرکاء کے درمیان میں اسکیم کے متعلق شکوک وشبہات پر سوال جواب کا سلسلہ چلا اور جناب شفیع اللہ کے علاوہ مینجرس پراجکٹ نے بھی تشفی بخش جوابات کے ذریعہ ثابت کیاکہ معلنہ اسکیم مسلمانوں کے لئے فائدہ مند رہے گی۔ ریاست کے مختلف اضلاع بشمول حیدرآباد کے مختلف مذہبی ‘ سماجی ‘ سیاسی تنظیموں کے سینکڑوں ذمہ داران نے بھی شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT