Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام خوش آئند

تلنگانہ میں اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام خوش آئند

فیض محمد اصغر
تلنگانہ حکومت مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے سنجیدہ ہے اور اس سنجیدگی کا عملاً اظہار حکومت نے تقریباً 200کروڑ روپئے کے کثیر صرفہ سے 71 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرتے ہوئے ریاست کے سبھی 10 اضلا ع میں اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں جو ایک خوش آئند اقدام ہے اور اس جرأتمندانہ اقدام کی ستائش ضروری ہے۔ ان اسکولس کو کامیاب بنانا ساری ریاست کے اقلیتی عوام کی ذمہ داری ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس میں پانچویں تا انٹر میڈیٹ تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ان اسکولس کیلئے حکومت نے تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کی جائیدادوں کو منظوری دے دی ہے اور عنقریب ان پر تقررات ہوں گے۔ اسکول بلڈنگ کی تعمیر اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے فی اسکول 20کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔

اسکول کے فی طالب علم پر سالانہ 80ہزار روپئے ان کے قیام و طعام، تعلیم، میڈیکل، کتب اور یونیفارم جیسی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کئے جائیں گے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے بہترین تعمیری کوشش ہے تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف 71اقامتی اسکولس قائم کردینے سے مسلمانوں کے تعلیمی مسائل حل ہوجائیں گے۔ یا پھر تعلیمی ترقی ہوجائے گی؟ تواس سوال کا جواب نفی میں آتا ہے۔ کیونکہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی تعلیمی لائف لائن سرکاری اردو میڈیم اسکولس ہیں، جب تک ان کو درست و معیاری نہیں بنایا جائیگا، مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا خواب ادھورا رہ جائیگا۔ ریاست تلنگانہ میں مجموعی طور پر1623 سرکاری اردو میڈیم اسکولس ہیں۔ 1.60 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ضلع میدک میں 224اردو اسکولس میں 20200 طلباء ضلع نظام آباد کے 310 اردو اسکولس میں 2727 ضلع عادل آباد کے 192اردو اسکولس میں 8212 ضلع کریم نگر کے 94اردو اسکولس میں 8780 ضلع ورنگل کے 75 اردو اسکولس میں 5230 ضلع نلگنڈہ کے 35 اردو اسکولس میں 980 ، ضلع کھمم کے 9 اسکولس میں 409 اور ضلع محبوب نگر کے 205 اردو میڈیم اسکولس کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے مختلف مقامات پر 12کستوربا گاندھی اردو میڈیم گرلز اقامتی ہائی اسکولس میں جملہ 1482 طالبات اور اقامتی بوائز ہائی اسکولس میں 2220 طلباء و طالبات  زیر تعلیم ہیں۔ اقلیتی اقامتی بوائز ہائی اسکولس کو اب اردو سے انگلش میڈیم میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ سرکاری اردو میڈیم اسکولس کی حالت زار سے بھی واقف ہیں اس کو بطور خاص رقم کرنا ’’ سورج کو چراغ دکھانے‘‘ کے برابر ہوگا۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں زبان اردو اور سرکاری اردو میڈیم اسکولس کو بڑے منظم و منصوبہ بند انداز میں نقصان پہنچایا گیا، نقصان نہیں بلکہ تباہ کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا۔ ہماری اپنی ریاست تلنگانہ قائم ہوکر تقریباً 2سال کا عرصہ ہورہا ہے لیکن اس عرصہ میں حکومت نے زبان اردو کے فروغ اور سرکاری اردو میڈیم اسکولس کو بہتر و معیاری بنانے کوئی اقدام نہیں کئے۔ حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اقلیتی اقامتی اسکولس اور اقلیتی اسٹڈی سرکلس کے قیام جیسے خاص اقدامات کئے لیکن اس کے ساتھ اردو میڈیم اسکولس، جونیر و ڈگری کالجس پر بھی یکساں توجہ دینا ناگزیر ہے۔ سرکاری اردو میڈیم اسکولس کو علحدہ اسکول بلڈنگ، بیت الخلاء ، کچن شیڈ، پانی ، کمپاؤنڈ وال، فرنیچر، بروقت نصابی کتب کی فراہمی کے علاوہ کھیل کود کے لئے وسیع و عریض میدان کو یقینی بنایا جائے۔

اردو میڈیم اسکولس میں اساتذہ کی قلت عام مسئلہ ہے، تقریباً ہر اسکول میں ٹیچرس کی کمی ہے۔ ایک خانگی سروے میں رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون کے تناظر میں 10 ہزار سے زائد اردو اساتذہ کی ضرورت ظاہر کی گئی۔ حکومت اساتذہ کی قلت کو دور کرنے انتظامی اُمور کو بروئے کار لاتے ہوئے کم تعداد والے اسکولس کو قریبی اسکولس میں ضم کرنے ریشنلائزیشن اسکیم چلارہی ہے جس سے ٹیچرس کی قلت پر قابو تو نہیں پایا گیا لیکن اسکولس کی تعداد کچھ کم ہوئی ہے۔ تلنگانہ حکومت مسلمانوں کی تعلیمی ترقی پر سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے اسے اردو میڈیم اسکولس کو مضبوط و مستحکم اور معیاری بنانے کے اقدامات کرنے چاہیئے۔ اردو میڈیم اسکولس میں اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے 5 ہزار اردو ٹیچرس کی جائیدادوں کو منظور کرتے ہوئے اسپیشل اردو میڈیم ڈی ایس سی منعقد کیا جائے۔ اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادوں کو روسٹر سسٹم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے 2006 سے لیکر اب تک کی تمام بیک لاگ جائیدادوں پر فوری تقررات کے احکام جاری کرے، جس طرح 71اقامتی اسکولس پر فوری تقررات کے احکام جاری کئے۔ جس طرح 71اقامتی اسکولس کے لئے200 کروڑ روپئے کا علحدہ بجٹ مختص کیا گیا اسی طرح سرکاری اردو میڈیم اسکولس کو بھی بہتر اور معیاری بنانے علحد بجٹ مختص کیا جائے۔ اردو میڈیم جونیر و ڈگری کالجس کو انفراسٹرکچر اور لکچررس فراہم کئے جائیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کیلئے ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع میں اقلیتی اگریکلچر، وٹرنری اور انجینئرنگ کالجس پالی ٹیکنک قائم کریں۔ 71 اقلیتی اقامتی اسکولس کاراست اثر پہلے سے قائم اقلیتی بوائز اقامتی ہائی اسکولس اور کستوربا گاندھی اردو میڈیم گرلز اقامتی اسکولس پر پڑسکتا ہے جس کی اہم وجہ مسلم، سماجی و معاشرتی نظام  ہے۔ مسلمانوں میں جذباتی وابستگی کی بڑی اہمیت ہے اور ہمارے اپنے بچوں کو ہاسٹلس میں داخل کروانے کا مزاج بہت کم ہے، اس لئے پرانے اقلیتی اسکولس کو فنڈس بڑی مشکلوں سے ملتے ہیں۔ ان اسکولس کے اساتذہ دور دراز دیہاتوں میں جاکر والدین کی کونسلنگ کرتے ہوئے بچوں کی ذمہ داری اپنے سر لیکر اسکولس میں داخلے دلواتے رہے ہیں جبکہ نئے اقامتی اسکولس بڑے ہی زور و شور سے تشہیر کے ساتھ کھولے جارہے ہیں تو پرانے اقامتی اسکولس کا مستقبل سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے۔ حکومت نئے اقامتی اسکولس پرانے اقامتی اسکولس کے جی بی وی اقامتی اسکولس اردو میڈیم اسکولس کو جونیر و ڈگری کالجس سب پر یکساں و خصوصی توجہ دے تو مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی بیماری کا علاج ممکن ہے۔ ورنہ مرض ایک علاج الگ کے مترادف ہوگا۔ حکومت نے مسلمانوں کو مسابقتی امتحانات کیلئے تیار کرنے اسٹڈی سرکلس قائم کئے ہیں اور سی ای ڈی ایم بھی اپنے کوچنگ سنٹرس کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان دونوں سنٹرس کے اسٹڈی میٹریل ( تعلیمی مواد) اور کوچنگ کو معیاری بنانے کی سخت ضرورت ہے ورنہ حکومت کا پیسہ اور امیدواروں کا وقت ضائع ہونے کا امکان ہے۔ مذکورہ بالا اقدامات ہربرسراقتدار جماعت کیلئے سیاسی نقطہ نظر سے بے حد مفید اور ثمر آور ثابت ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT