Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی و خرچ کی صورتحال مایوس کن

تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی و خرچ کی صورتحال مایوس کن

حکومت نے نصف فیصد بجٹ بھی جاری نہیں کیا ، حکومت کے جاری کردہ بجٹ پر عہدیدار عمل سے قاصر
حیدرآباد ۔ 15۔  فروری  (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں جاریہ سال بجٹ کی اجرائی اور خرچ کی صورتحال انتہائی مایوس کن رہی۔ حکومت نے مقررہ بجٹ کا 50 فیصد حصہ بھی تاحال جاری نہیں کیا اور جو کچھ بھی بجٹ جاری کیا گیا ، محکمہ اقلیتی بہبود کے ادارے اسے خرچ کرنے میں ناکام رہے۔ عہدیدار اس مایوس کن کارکردگی کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جبکہ محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہناہے کہ بجٹ کے حصول کے سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی نمائندگی موثر نہیں رہی اور چیف منسٹر کے دفتر سے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ ریاست کی کمزور معاشی صورتحال کے سبب حکومت نے کئی محکمہ جات کا مکمل بجٹ جاری نہیں کیا جبکہ فلاحی اسکیمات کیلئے زیادہ سے زیادہ بجٹ جاری کیا گیا۔ بتایا جاتاہے کہ اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سست ہونے کے سبب اقلیتی ادارے زیادہ سے زیادہ بجٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاریہ سال حکومت نے 1130 کروڑ روپئے مختص کئے تھے جسے بعد میں بڑھا کر 1150 کروڑ کیا گیا۔ اب جبکہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے، محکمہ فینانس نے 530 کروڑ روپئے کی اجرائی کے احکامات جاری کئے، تاہم 425 کروڑ روپئے ہی اقلیتی بہبود کو حاصل ہوئے ہیں۔ باقی رقم کے بلز ابھی بھی زیر التواء ہیں۔ جاری کردہ 425 کروڑ میں سے صرف 384 کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے اور مالیاتی سال کے اختتام تک یہ رقم 400 کروڑ ہوسکتی ہے۔ اس اعتبار سے جاریہ سال اقلیتی بہبود کے مختص کردہ بجٹ میں 700 کروڑ روپئے سرکاری خزانہ میں واپس ہوجائیں گے ۔ حکومت ایک طرف اقلیتوں کی فلاح و بہبود میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے لیکن اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سے خود چیف منسٹر بھی مطمئن نہیں۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے آئندہ سال کیلئے 1237 کروڑ بجٹ کی تجاویز محکمہ پلاننگ کو پیش کی ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اقلیتی بہبود کی جانب سے پیش کردہ بجٹ تجاویز بظاہر خوش کن دکھائی دے رہی ہیں لیکن جاریہ سال بجٹ کے خرچ کی صورتحال کو دیکھیں تو آئندہ سال خرچ میں اضافہ کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جن اسکیمات کیلئے رقم خرچ کی گئی، ان میں شادی مبارک اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم شامل ہیں جبکہ دیگر اہم اسکیمات کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے درخواستوں کے حصول کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور جاریہ سال کی یہ اسکیم شائد آئندہ سال عمل کی جائے گی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے 2014-15 ء کیلئے سبسیڈی اسکیم کو ابھی تک مکمل نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ٹریننگ اور ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت مختلف پیشہ ورانہ کورسس میں ٹریننگ اور ملازمتوں کی فراہمی کے بلند بانگ اعلانات تو برقرار ہیں لیکن زمینی حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ سابق میں ٹریننگ و ایمپلائمنٹ اسکیم میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایت ملی ہے۔ چیف منسٹر نے بطور خاص دلچسپی لے کر حیدرآباد و رنگا ریڈی  میں 1700 غریب اقلیتی خاندانوں کو آٹو رکشا فراہم کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن آج تک اس اسکیم پر عمل نہیں کیا گیا حالانکہ چیف منسٹر 11 نومبر یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر آٹو رکشا جاری کرنا چاہتے تھے۔

TOPPOPULARRECENT