Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کیلئے انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کے قیام پر غور و خوض

تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کیلئے انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کے قیام پر غور و خوض

محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا اجلاس ، ایم ڈی فینانس کارپوریشن کو اسکولس کے قیام کی ذمہ داری
حیدرآباد۔ 18 ۔ نومبر (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کیلئے 60 انگلش میڈیم اقامتی مدارس کے قیام کے سلسلہ میں تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ بی سی ریزیڈنشیل اسکولس سوسائٹی کی طرز پر میناریٹریز ریزیڈنشیل اسکولس سوسائٹی کے قیام کے سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں نے آج اجلاس منعقد کیا ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ آئندہ تعلیمی سال جون سے اقلیتی طلبہ کیلئے 30 اور طالبات کیلئے 30 اقامتی اسکولس کے قیام کی ہدایت دے چکے ہیں اور انہوں نے فوری طور پر کرایہ کی عمارتوں کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا تاکہ پہلے سال یہ اسکولس کرایہ کی عمارت میں کام کریں جبکہ دوسرے تعلیمی سال تک تمام اسکولوں کی ذاتی عمارتیں تعمیر کرلی جائیں

اور انہیں منتقل کردیا جائے۔ اقامتی اسکولس کی سوسائٹی کے سکریٹری کی حیثیت سے مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ذمہ داری دی گئی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے بی سی سوسائٹی کے عہدیداروں سے مشاورت کے بعد اقلیتی سوسائٹی کی تفصیلات کو قطعیت دی ہیں اور اس کی  ذمہ داریوں اور کارکردگی پر مشتمل نمونہ رپورٹ تیار کی گئی جس کی بنیاد پر سوسائٹی کو رجسٹرڈ کرایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کے تمام 119 اسمبلی حلقوں میں اقلیتی طلبہ و طالبات کیلئے اقامتی اسکولس کے قیام کی ہدایت دی ہے اور پہلے مرحلہ میں 60 اسکولس کا آغاز کیا جائے گا ۔ حکومت نے ان اسکولس کیلئے 2100 اسٹاف کو بھی منظوری دی ہے جن میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف شامل ہیں۔ حیدرآباد میں اقامتی اسکولس کے قیام کیلئے چونکہ وسیع اراضی قلب شہر میں موجود نہیں لہذا چیف منسٹر نے چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کو منتقل کرتے ہوئے یہ اراضی اقلیتی تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے آج منعقدہ اجلاس میں آئندہ تعلیمی سال سے اسکولس کے آغاز کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ محکمہ کیلئے 60 اقامتی اسکولس کی کرایہ کی عمارتیں حاصل کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے کیونکہ اقامتی اسکولس میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جاتی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے عمارتوں کے حصول کیلئے متعلقہ ضلع کلکٹرس سے تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

 

مستقل عمارتوں کی تعمیر کیلئے ضلع کلکٹرس سے خواہش کی گئی کہ ضلع ہیڈکوارٹر پر موزوں اراضی کا انتخاب کریں۔ سرکاری اراضی کی عدم موجودگی کی صورت میں اوقافی اراضی حاصل کی جائے گی ۔ تاہم اس کے حصول کے سلسلہ میں منشائے وقف کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے ایک اقامتی اسکول کی تعمیر کیلئے 12 کروڑ روپئے مختص کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبودکی جانب سے رپورٹ کی پیشکشی اور اراضی کی نشاندہی کے بعد حکومت بجٹ جاری کرے گی۔ اقامتی مدارس کیلئے طلبہ و طالبات کا حصول محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ ہر ضلع میں درکار تعداد میں اقلیتی طلبہ کا دستیاب ہونا آسان نہیں ہے ۔ اس کیلئے رضاکارانہ تنظیموں سے  تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چونکہ تمام اسکولس انگلش میڈیم رہیں گے، لہذا معیاری اساتذہ کے انتخاب پر توجہ کی جانی چاہئے ۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد سے جلد 60 اسکولوں کے آغاز کا منصوبہ تیار کرلیں تاکہ چیف منسٹر کے وعدہ کے مطابق آئندہ تعلیمی سال سے مدارس کا آغاز ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ہر اسمبلی حلقہ میں دو اقامتی اسکولس قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی دور کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT