Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے حکومت ذمہ دار

تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے حکومت ذمہ دار

دو برسوں کے دوران وقف بورڈ امور کی جانچ کا مطالبہ : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔/12 فبروری، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا اور گزشتہ دو برسوں میں وقف بورڈ کے اُمور کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ 19ماہ کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتی بہبود کے تمام اداروں کو من مانی کی اجازت دے دی ہے اور اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہونے کے باعث عہدیداروں پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔ چیف منسٹر ایک طرف اقلیتی بہبود میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے اقلیتی بہبود کے محکمہ کو نظرانداز کردیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ کسی وزیر کو اقلیتی بہبود کا قلمدان حوالے کرتے تاکہ وہ وقتاً فوقتاً اسکیمات پر عمل آوری اور عہدیداروں کے فیصلوں کا جائزہ لیتے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے کئے گئے لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں کی جانب سے منشائے وقف اور وقف ایکٹ کے خلاف فیصلے کئے جارہے ہیں جس سے وقف بورڈ کو فائدہ کے بجائے نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق فائیلوں میں اُلٹ پھیر کے ذریعہ ناجائز قابضین کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز نے کئی متنازعہ فیصلے کرتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے متولیوں اور قابضین کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیدار قابضین کے حق میں فیصلے کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے موجودہ عہدیدار مجاز کی جانب سے کئے گئے تمام فیصلوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا تاکہ اوقافی جائیدادوں کو نقصان سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں دیانتدار اور ایماندار عہدیداروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور قابضین دولت کے استعمال کے ذریعہ وقف بورڈ کی کارروائیوں کو روکنے میں کامیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس دور حکومت میں وقف بورڈ سے متصل کھلی اراضی کو نئے حج ہاوز کی تعمیر کیلئے حاصل کیا گیا تھا۔ حکومت نے تعمیر کیلئے بجٹ بھی جاری کیا لیکن آج تک تعمیری کام کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئے حج ہاوز کی تعمیر کے مسئلہ پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ محمد علی شبیر نے حج ہاوز سے متصل اراضی کو لیز پر دینے کی کوششوں پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت میں شامل افراد کے دباؤ کے تحت عہدیدار یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے حالانکہ اس ہمہ منزلہ عمارت کو خانگی اداروں کے حوالے کرتے ہوئے وقف بورڈ مناسب آمدنی حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی میں حکومت کے تغافل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جاریہ سال بجٹ میں 1130 کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن صرف 30 فیصد رقم ہی جاری کی گئی۔ حکومت ایک طرف مختلف نئی اسکیمات پر عمل آوری کے دعوے کررہی ہے لیکن حقیقت حال برعکس ہے۔ جب تک حکومت بجٹ جاری نہیں کرتی اس وقت تک اسکیمات پر عمل آوری کس طرح ممکن ہے۔ محمد علی شبیر  نے چیف منسٹر کو ہتھیلی میں جنت دکھانے والی شخصیت قرار دیا اور کہا کہ اسمبلی انتخابات کی طرح بلدی انتخابات میں بھی صرف کھوکھلے وعدوں کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کی کوششیں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں کیونکہ عوام وعدوں کی عدم تکمیل کے بعد حکومت کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT