Monday , May 1 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں اُردو دوسری سرکاری زبان ، عمل آوری ندارد

تلنگانہ میں اُردو دوسری سرکاری زبان ، عمل آوری ندارد

محکمہ پولیس میں امیدواروں کو اُردو میں امتحان تحریر کرنے کی اجازت نہیں
حیدرآباد۔11اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک محدود رہ گیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات کا اگر عملی جائزہ لیا جائے تو اس مسئلہ میں محکمہ جاتی کاروائیاں حکومت کے اعلانات کے برعکس ثابت ہوتی جا رہی ہیں۔ حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے سٹی پولیس میں خدمات انجام دینے والے ہیڈ کانسٹبل اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر آف پولیسکو سب انسپکٹر کے عہدہ پر ترقی کیلئے 17اور 18اپریل کو تحریری امتحانات منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس میں تلگو‘ انگریزی اور اردو زبان میں امتحان تحریر کرنے کی اجازت فراہم کی گئی تھی لیکن آج اچانک جاری کئے گئے احکام میں اس بات کا اعلان کردیا گیا ہے کہ امیدوار صرف تلگو یا انگریزی زبان میں تحریری امتحان لکھ سکتے ہیں اور انہیں اردو میں ترقی کیلئے امتحان تحریر کرنے کی اجازت حاصل نہیں رہے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے سٹی پولیس میں خدمات انجام دینے والے ان پولیس اہلکاروں کو ترقی کیلئے منعقد کئے جانے والے تحریری امتحانات میں 158امیدواروں نے شرکت کا فیصلہ کیا ہے جن میں 35امیدوار ایسے ہیں جنہوں نے اردو زبان میں امتحان تحریر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے درخواست فارم میں بھی اپنے انتخاب سے واقف کروادیا تھا لیکن محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اچانک فیصلہ ان امیدواروں کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے کیونکہ یہ امیدوار اردو زبان میں امتحان کی تیاری کر چکے ہیں اور انہوں نے اردو میں امتحان کرنے کا ذہن اس لئے بنایا تھا کیونکہ ریاست تلنگانہ میں اردو زبان کو دوسری زبان کا درجہ دیا گیا ہے اور خود سٹی پولیس کی جانب سے جاری کردہ امتحانات کیلئے اعلامیہ میں اردو کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہے ۔محکمہ پولیس کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کے متعلق کمشنر پولیس کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار نے اس بات کی توثیق کی کہ 17اور18 اپریل کو عنبرپیٹ میں منعقد ہونے والے امتحانات اردو میں منعقد نہیں کئے جائیں گے۔ اردو زبان میں امتحان تحریر کرنے کی اجازت دیئے جانے کے فوری بعد اچانک فیصلہ سے دستبرداری ناقابل فہم ہے ۔ شہر حیدرآباد جسے اردو ادب کی بستی کہا جاتا ہے اگر اس شہر میں اردو زبان کے ساتھ یہ سلوک وہ بھی محکمہ پولیس کی جانب سے اختیار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ریاست کے دیگر اضلاع میں اردو زبان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT