Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / تلنگانہ میں اپوزیشن متحد ٹی آر ایس کے ناراض قائدین کو عہدوں کا لالچ

تلنگانہ میں اپوزیشن متحد ٹی آر ایس کے ناراض قائدین کو عہدوں کا لالچ

محمد نعیم وجاہت
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں پارلیمنٹ، راجیہ سبھا، اسمبلی اور کونسل کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ ان ایوانوں میں عوامی مسائل پر مباحث ہوتے ہیں، مختلف امور پر قانون سازی ہوتی ہے، ملک اور ریاستوں کا بجٹ منظور ہوتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں اپوزیشن کو ’’واچ ڈاگ‘‘ کا درجہ حاصل ہے، لیکن ایوانوں میں آج کل نیا طریقہ شروع ہوگیا ہے، یعنی حکمراں جماعتیں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے طرز پر عمل کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس اور دیگر جماعتوں کو لوک سبھا سے باہر کا راستہ دکھاکر اپوزیشن کے بغیر ایجنڈے کی کارروائی مکمل کی اور اسی کی تقلید تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں بھی دیکھنے کو ملی۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں تمام جماعتوں نے دس دن تک اسمبلی اجلاس کے انعقاد سے اتفاق کرتے ہوئے ایجنڈا ترتیب دیا اور پہلے دو دن وقفۂ سوالات اور وقفۂ صفر کے بغیر زرعی شعبہ کے بحران اور کسانوں کی خودکشی کے واقعات پر مباحث کا فیصلہ کیا۔ ایجنڈا کے مطابق پہلے دو دن کسانوں کے مسائل پر مباحث ہوئے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے جواب کے بعد اس بحث کو مکمل کردیا گیا، لیکن اپوزیشن جماعتیں اس سے مطمئن نہیں ہوئیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے تیسرے دن تلنگانہ میں 1400 کسانوں کی خودکشی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے تمام قرضہ جات یک مشت ادا کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور صرف سات منٹ کے احتجاج پر اسپیکر اسمبلی نے دن بھر کے لئے کارروائی ملتوی کردی۔ تین دن کی تعطیلات کے بعد جب اسمبلی کا آغاز ایک بار پھر ہوا تو تمام اپوزیشن جماعتوں نے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا، لیکن حکومت نے صرف اپنی حلیف مجلس کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو مانسون سیشن کے اختتام تک معطل کرتے ہوئے مقررہ مدت سے دو دن قبل ہی اسمبلی و کونسل کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردی۔

جمہوری نظام میں اس طرح کا رجحان نامناسب ہے، کیونکہ ایوانوں میں اگر عوامی مسائل موضوع بحث نہیں بنیں گے تو ان کا حل کیسے برآمد ہوگا۔ اسمبلی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ٹی آر ایس نے علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران کئی دن تک اسمبلی کا اجلاس نہیں چلنے دیا۔ اس وقت کے اسمبلی اسپیکرس نے ایوان کو باقاعدہ چلانے کے لئے وقفہ وقفہ سے ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لئے ملتوی بھی کی اور تمام جماعتوں کے فلور لیڈرس کو اپنے چیمبر میں طلب کرکے ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے بعد بھی جب مسئلہ حل نہیں ہوا تو انھیں ایک یا دو دن کے لئے معطل کردیا، مگر سیشن کے اختتام تک کے لئے کبھی معطل نہیں کیا گیا۔ اسپیکر اسمبلی کو ایوان کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے حد سے تجاوز کرنے والے ارکان کو معطل کرنے یا معطلی برخاست کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ ماضی میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ارکان کی معطلی برخاست کرکے انھیں اسمبلی کی کارروائی میں شرکت کی اجازت دی گئی۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے مانسون سیشن کے دوران ایک دوسرے کو گھیرنے کی جو منصوبہ بندی کی تھی، اس میں حکمراں ٹی آر ایس اپوزیشن جماعتوں کو مات دینے میں کامیاب ہوئی ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔ اپوزیشن نے ٹی آر ایس کی 15 ماہی حکومت میں 1400 کسانوں کی خودکشی کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف محاذ آرائی کا فیصلہ کیا تھا، تاہم حکومت نے کابینہ کے اجلاس میں ایکس گریشیا کی رقم ڈیڑھ لاکھ سے بڑھاکر 6 لاکھ روپئے کرکے اپوزیشن کے بڑھتے قدم کو روک دیا۔ علاوہ ازیں مباحث کے دوران علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل 2 جون سے اس پر عمل آوری کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن کے موقف کو مزید کمزور کردیا، جب کہ حکومت کی اسکیمات واٹر گرڈ اور مشن کاکتیہ پر تفصیلی روشنی ڈال کر عوام کے سامنے حکومت کے موقف کو واضح کیا گیا۔ اس طرح مقررہ وقت سے دو دن قبل طے پائے ایجنڈا کی تکمیل کرکے اسمبلی و کونسل کی کارروائی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا اور عوام کو یہ تاثر دینے میں حکومت نے کامیابی حاصل کی کہ حزب مخالف جماعتوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ساتھ ہی کسانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ قرضہ جات کو یک مشت معاف کرنے کے لئے مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈیڑھ سال کے دوران فلور کوآرڈینیشن کے قیام میں ناکام ہونے والی جماعتوں نے اسمبلی سے باہر ہونے کے بعد عوامی مسائل پر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس نے کسان بھروسہ یاترا اور تلگودیشم و بی جے پی اتحاد نے حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے، جب کہ کمیونسٹ جماعتیں بھی کسانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے میدان میں کود پڑی ہیں۔ یعنی تمام اپوزیشن جماعتیں ڈیڑھ سال میں پہلی مرتبہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر 10 اکتوبر کو تلنگانہ بند منانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حکومت کے خلاف اپوزیشن کا یہ اتحاد کتنے دن برقرار رہے گا؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

گزشتہ ایک ہفتہ سے اپوزیشن جماعتیں کسانوں اور عوام کی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں، انھیں عوامی تائید حاصل ہونے کی وجہ سے حکمراں ٹی آر ایس بے چین ہے، کیونکہ حکومت اپنے وعدوں کے مطابق عوامی توقعات پر پوری نہیں اُتر رہی ہے۔ برقی بحران پر قابو پانے کے علاوہ حکومت کوئی دوسرا وعدہ اب تک پورا نہیں کرسکی، لہذا حکمراں جماعت کے لئے عوامی برہمی اور خود ٹی آر ایس قائدین کی ناراضگی بہت بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔
فی الحال چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس طلب کرکے حکومت کی فلاحی و ترقیاتی اسکیمات کی زبردست تشہیر کے ذریعہ اپوزیشن جماعتوں کو منہ توڑ جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی قائدین اور ورکرس کی ناراضگی سے بچنے کے لئے دسہرا کے موقع پر کارپوریشن اور بورڈ کے عہدوں پر تقررات کا اعلان کرتے ہوئے ناراض قائدین کو عہدوں کی بھاگ دوڑ میں مصروف کردیا ہے۔
اسمبلی میں پہلے دن سخت تیور دکھانے والی مجلس نے سیشن کے اختتام سے قبل نرم رویہ اپناکر اپنے کاموں کی انجام دہی کے لئے کسی کو انچارج بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ ٹی آر ایس کی حلیف ہونے کے باوجود چیف منسٹر تلنگانہ مجلس کو ملاقات کا وقت نہیں دے رہے ہیں۔ مجلس نے اسمبلی میں آلیر اِنکاؤنٹر کو تو اٹھایا، مگر واقعہ کی سی بی آئی یا عدالتی تحقیقات کے لئے حکومت کو راضی نہیں کرسکی۔ مجلس نے 12 فیصد مسلم تحفظات کو یکسر نظرانداز کردیا اور اس مسئلہ پر بات چیت سے گریز کیا۔ کانگریس اور تلگودیشم ارکان کے سوالات کو وقفۂ سوالات میں شامل کیا گیا، تاہم معطلی کے باعث دونوں جماعتوں کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے، جب کہ مجلس کے ارکان بالکل خاموش رہے۔ یہ تو مسلمانوں کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود مجلس نے نظرانداز کردیا، یہاں تک کہ بہبود سے متعلق مباحث کے دوران مسلم تحفظات کا کوئی تذکرہ بھی نہیں کیا۔چیف منسٹر تلنگانہ نے بہبود مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی ذمہ دار کانگریس اور تلگودیشم حکومتیں ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے سدھیر کمیٹی تشکیل دی ہے، جیسے ہی کمیٹی کی رپورٹ وصول ہوگی، اسمبلی میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی قرارداد منظور کرکے مرکز کو روانہ کردی جائے گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرکز کی بی جے پی حکومت مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے راضی ہوگی؟ کیا چیف منسٹر تلنگانہ کو یہ نہیں معلوم کہ بی جے پی مسلم تحفظات کے خلاف ہے؟ جب ریاست میں کانگریس حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو تحفظات دیئے جا رہے تھے، کیا بی جے پی نے مخالفت یا اس کے خلاف عدالت میں پیروی نہیں کی تھی؟ جب ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تو بی جے پی نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی؟۔ ان سوالوں کے جوابات بالکل واضح ہیں کہ مسلم تحفظات کو بی جے پی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔
سارے تلنگانہ میں روزنامہ سیاست کی تحریک کامیابی سے جاری ہے۔ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلم قائدین جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، تحصیلداروں اور کلکٹرس کو بڑے پیمانے پر یادداشتیں پیش کر رہے ہیں۔ دونوں ڈپٹی چیف منسٹرس کے علاوہ کے سی آر کے ارکان خاندان ہریش راؤ، کے ٹی آر اور مسز کویتا کو بھی یادداشتیں پیش کی گئی ہیں۔ تحریک کے تعلق سے حکومت کو انٹلی جنس کی رپورٹ بھی وصول ہو رہی ہے، تاہم بی سی کمیشن تشکیل دے کر وعدہ پورا کرنے کی بجائے اسمبلی میں منظورہ قرارداد مرکز کو روانہ کرنے کا اعلان کرکے چیف منسٹر نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT