Friday , June 23 2017
Home / اداریہ / تلنگانہ میں بی جے پی کے عزائم

تلنگانہ میں بی جے پی کے عزائم

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی
ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں
تلنگانہ میں بی جے پی کے عزائم
تلنگانہ میں بی جے پی اپنے حلقہ اثر کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے آئندہ انتخابات کی تیاریوں کا ابھی سے آغاز کردیا ہے ۔ اس نے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں اپنے کارکنوں کو سرگرم کرتے ہوئے عوام سے رابطے بنانے کا کام شروع کردیا ہے ۔ اس مہم کے ذریعہ مرکز کی نریندر مودی حکومت کے کارناموں کو اجاگر کیا جا رہا ہے تو ساتھ ہی ریاست کی کے چندر شیکھر راؤ حکومت کی مبینہ ناکامیوں اور انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کے مسئلہ کو بھی پیش کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت چاہتی ہے کہ ریاست میں بی جے پی ایک طاقت بن کر ابھرے ۔ اس کا ماننا ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست میں کانگریس پارٹی کمزور ہوگئی ہے اور فوری طور پر اس کے احیاء کی امید نہیں ہے ۔ اگر ایسے میں بی جے پی ‘ حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیوں کو تیز کریگی اور ان میں شدت پیدا کریگی تو وہ کانگریس کی متبادل بن کر ابھر سکتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے خاص طور پر ریاستی قیادت ریاست میں پارٹی کو مستحکم کرنے اور عوام کی تائید حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہوجانے کا مشورہ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ ریاست میں بھی رائے دہندوں میں نفرت کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ وہ سماج کے دو بڑے طبقات کے مابین دوریوں کو مزید ہوا دے رہی ہے ۔ اسی مقصد کے تحت اس نے ریاست میں مسلم تحفظات کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اسی منصوبے کے تحت نہ صرف اسمبلی میں مسلم تحفظات کی مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ اسمبلی کے باہر بھی اس مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر نہ صرف بیان بازیوں میں تیزی پیدا کردی ہے بلکہ وہ اب سڑکوں پر اتر کر احتجاج بھی کر نے لگی ہے ۔ اسی منصوبے کے تحت اس نے کئی احتجاجی پروگرامس کو قطعیت دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے ۔ یہ سب کچھ ریاست اپنے قدم جمانے کی کوشش کے علاوہ سماج میں نفاق پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ بی جے پی کو امید ہے کہ وہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر اکثریتی برادری میں حکومت کے خلاف برہمی پیدا کرسکتی ہے ۔
ریاست میں چندر شیکھر راؤ حکومت کے اقتدار پر آنے کے تقریبا تین سال مکمل ہو رہے ہیں ۔اس حکومت نے مسلمانوں کو چند مہینوں میں تحفظات فراہم کرنے کاو عدہ کیا تھا لیکن اس کی تکمیل نہیں کی گئی ہے ۔ جو وقت ٹالا گیا ہے اس کے بعد اس تعلق سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے خلاف اگر سیاسی مہم شروع کی جاتی ہے تو شائد حکومت بھی اس مسئلہ پر اس انداز میں پیشرفت نہیں کرپائیگی جیسی ہونی چاہئے ۔ بی جے پی اسی حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور خاموشی سے اس نے مہم بھی شروع کردی ہے ۔ اترپردیش ہو یا ملک کی دوسری ریاستیں ہوں وہاں بھی اسی طرح سے سماج میں زہر گھولنے کا کام کیا گیا تھا اور اسی طریقہ کار کو اب تلنگانہ میں بھی اختیار کرنے کے عزائم پائے جاتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے تلنگانہ اسمبلی میں خود حکومت کو خبردار کیا کہ وہ سنبھل جائے ورنہ ریاست میں بھی ایک یوگی آجائیگا ۔ اس سے بی جے پی کی سطحی سوچ اور حکمت عملی کا پتہ چلتا ہے ۔ وہ سماج میں نفاق اور دراڑ پیدا کرتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو وسعت دینا چاہتی ہے ۔ اس کے پاس عوام کو درپیش مسائل کے حل کے کوئی منصوبے نہیں ہے اور نہ سماج میں مساوات کو فروغ دینا اس کا مقصد ہے ۔ اس کا مقصد محض سماج میں نفرت او ر نفاق کی فضا کو ہوا دینا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے سیاسی عزائم اور منصوبوں کی تکمیل کرنا چاہتی ہے ۔ یہ روش جمہوریت کیلئے صحتمند نہیں ہوسکتی ۔
بی جے پی اگر واقعی اگر ریاست میں اپنی تائید میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور عوام تک پہونچنا چاہتی ہے تو جمہوریت میں یہ اس کا حق ہے لیکن اس کیلئے سماج میں نفرت اور نفاق پیدا کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ سماج کو ایک کرنے اور متحد کرنے کے منصوبوں کے ساتھ بھی مثبت طرز فکر کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے اور اس کے بھی اچھے نتائج حاصل ہوسکتے ہیں لیکن اس کیلئے کسی ایک مخصوص فرقہ اور برادری کو نشانہ بناتے ہوئے دوسروں کو ان سے متنفر کرتے ہوئے سیاست کرنا اچھی بات نہیں ہے ۔ یہ جمہوری عمل کیلئے ایک ایسی روایت بن رہی ہے جس سے خود جمہوریت کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ اس سے آمرانہ روش کو تقویت ملتی ہے ۔ اس سے سماج میں ہم آہنگی کی صورتحال متاثر ہوگی اور نراج کی کیفیت کسی بھی سماج یا معاشرہ کیلئے مناسب نہیں ہوسکتی ۔ بی جے پی کو اپنی اس طرح کی کوششوں اورعزائم سے باز آجانا چاہئے ۔ وہ ریاست اور عوام کو درپیش مسائل پر جدوجہد کرسکتی ہے ۔ ایک ذمہ دار جماعت کی حیثیت میں اسے نفرت کی سیاست سے گریز کرنا چاہئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT