Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں جمہوریت اور شفافیت کا خون

تلنگانہ میں جمہوریت اور شفافیت کا خون

جی اوز اجرائی کے ویب سائٹ کے بلاک ہونے پر تلنگانہ پی سی سی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے جی اوز جاری ہونے والے ویب سائٹ کو بلاک کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کرتے ہوئے جمہوریت اور شفافیت کا خون کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ مسٹر شرون کمار نے کہا کہ کانگریس نے سرکاری نظم و نسق میں شفافیت لانے اور حکومت کے ہر فیصلے سے عوام کو واقف کرانے کے لیے 2005 میں حق معلومات قانون نافذ کیا لیکن ٹی آر ایس حکومت ایک منظم سازش کے تحت جی اوز کی اجرائی سے متعلق ویب سائٹ کو بلاک کرتے ہوئے ایسے سینکڑوں جی اوز جاری کرچکی ہے ۔ جس میں کروڑہا روپئے کی بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہیں وہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے وضاحت طلب کررہے ہیں کہ کیوں سرکاری ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے اور ویب سائٹ بلاک کرنے کے بعد کتنے جی اوز جاری کئے گئے ہیں ۔ اس کی تمام تفصیلات کو منظر عام پر لایا جائے ۔ ساتھ ہی آر ٹی اے ایکٹ کے تحت چیف منسٹر آفس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تین سوال کیے گئے ہیں کہ کونسے قانون اور اختیارات کے تحت سرکاری ویب سائٹ کو بند کیا گیا ہے ۔ کیا ویب سائٹ بلاک کرنے سے قبل اپوزیشن جماعتوں سے کوئی مشاورت کی گئی ۔ وہ کونسا قانون ہے جس کے تحت حکومت کی جانب سے چند جی اوز کو کانفیڈنشیل رکھنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ مسٹر شرون کمار نے کہا کہ تالابوں کے احیاء ، واٹر گرڈ ، آبپاشی پراجکٹس کے تعمیر ڈیزائن میں تبدیلی ، ڈبل بیڈ رومس فلیٹس کے علاوہ دوسرے کئی اہم اسکیمات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہیں جس کے ڈر و خوف کی وجہ سے ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے تاکہ اس کو صحافت اور عدلیہ دونوں سے حکومت کے فیصلوں کو محفوظ رکھا جاسکے ۔ جس کی کانگریس حکومت سخت مذمت کرتی ہے ۔ حکومت کی غلطی پر نشاندہی کرنے کے بجائے اعلیٰ عہدیدار غلاموں کی طرح کام کررہے ہیں ریاست کے پہلے شہری گورنر ، چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے قدم چھونے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ریاست تلنگانہ میں جمہوری نظام خطرے میں پڑ جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT