Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں حصول اقتدار بی جے پی کا اہم نشانہ : پرکاش جاوڈیکر

تلنگانہ میں حصول اقتدار بی جے پی کا اہم نشانہ : پرکاش جاوڈیکر

حکومت کی اسکیمات کی تائید و عوام دشمن پالیسیوں پر مخالفت، مرکزی وزیر کا جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد 9 اپریل (سیاست نیوز) ریاستی بی جے پی جہاں تلنگانہ حکومت کی روبہ عمل لائی جانے والی ترقیاتی اسکیمات و پروگراموں کی بھرپور تائید و حمایت کرے گی وہیں حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کی نہ صرف شدید مخالفت کرے گی بلکہ جدوجہد بھی کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاؤڈیکر نے بی جے پی کی یوم تاسیس کے سلسلہ میں پارلیمانی حلقوں کی سطح پر منعقد کئے جانے والے ورکرس سمیلن سے بھونگیر میں خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہاکہ تلنگانہ میں آئندہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرکے اقتدار سنبھالنا ہی بی جے پی کا اہم مقصد ہے کیوں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی ملک کی مختلف ریاستوں کے عوام نریندر مودی کی قیادت پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کررہے ہیں اور گزشتہ دنوں بعض ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرکے ان ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار سونپا۔ اسی طرح جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی عوام بی جے پی کی تائید و حمایت کریں گے۔ انھوں نے مزید کہاکہ سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ کے ذریعہ کوئی بھی ریاست میں کوئی بھی پارٹی برسر اقتدار رہنے دیں اس کا پاس و لحاظ نہ کرتے ہوئے تمام ریاستوں کی ترقی پر مرکزی حکومت اپنی اولین توجہ مرکوز کرے گی۔ پرکاش جاوڈیکر نے مزید کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں توقعات سے زیادہ ملک تیزی کے ساتھ ہمہ جہتی ترقی کی سمت گامزن ہے۔ صدر تلنگانہ ریاستی بی جے پی ڈاکٹر کے لکشمن نے پرزور الفاظ میںکہاکہ بی جے پی 2019 ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں آسام اور منی پور کو ایک مثالی انداز میں حلقہ لوک سبھا بھونگیر میں کامیابی حاصل کرکے ریاست تلنگانہ میں نیا کھاتہ کھولنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ انھوں نے کہاکہ تلنگانہ عوام کے ساتھ ناانصافی کرنے والی اور دھوکوں پر مبنی وعدے کرنے والی ٹی آر ایس کی زیرقیادت حکومت کو تلنگانہ عوام ہی بہتر سبق سکھائیں گے۔ صدر ریاستی بی جے پی نے مزید کہاکہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی متبادل بی جے پی ہی ثابت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT