Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں ’’ سبز انقلاب ‘‘ لانے کا عزم

تلنگانہ میں ’’ سبز انقلاب ‘‘ لانے کا عزم

شجرکاری کونمایاں اہمیت ،کریم نگر کی لندن شہرکے طرز پر ترقی ، ہریتا ہارم پروگرام سے چیف منسٹر کا خطاب
کریم نگر۔/12جولائی، ( نعیم وجاہت کی رپورٹ ) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے گھر کے ہر بچہ کے نام پر گھروں کے احاطہ میں پودے لگانے اور اپنے بچوں کی طرح ان کی نگہداشت کرتے ہوئے پرورش کرنے کا عوام کو مشورہ دیا۔ انہوں نے لندن کے طرز پر کریم نگر کو ترقی دینے کا اعلان کیا جبکہ 25 کروڑ روپئے کے مصارف سے کریم نگر میں کلا بھون تعمیر کرنے کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے آج کریم نگر میں ہریتا ہارم کے تیسرے مرحلہ کے افتتاحی پروگرام کے بعد امبیڈکر گراؤنڈ پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ریاستی وزراء ایٹالہ راجندر، جوگورامنا، ارکان پارلیمنٹ مسرس ونود، سمن کے علاوہ صدر نشین اقلیتی میناریٹی فینانس کارپوریشن اکبر حسین کے ساتھ ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور دیگر قائدین موجود تھے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سرزمین کریم نگر سے مجھے کافی لگاؤ ہے، تلنگانہ تحریک کا آغاز بھی کریم نگر سے ہوا تھا، تب ہر کسی نے اس کا مذاق اُڑایا تھا اور ناممکن قرار دیا تھا، تاہم کریم نگر کے عوام نے تحریک کا بھرپور ساتھ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے علحدہ تلنگانہ قائم ہوگیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں قدرتی وسائل کے ساتھ تلنگانہ کے جنگلات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

چیف منسٹر نے کہا کہ وہ تلنگانہ کو سرسبز و شاداب بنانے کے ساتھ ساتھیہاں ’’ سبز انقلاب ‘‘ لانا چاہتے ہیں اس معاملہ میں بڑے ضدی ہیں ، جو ٹھان لیتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں۔‘‘ جنگلات کی کمی کی وجہ سے ماحول گرم ہورہا ہے، 40تا46 فیصد گرمی ریکارڈ کی جارہی ہے وہ تلنگانہ کے مستقبل کیلئے درست نہیں ہے۔ جاریہ سال تلنگانہ میں چالیس کروڑ پودے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ کام عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مجھے کریم نگر کے عوام پر مکمل بھروسہ ہے، شجر کاری کی مہم کو عوام تحریک کے طور پر قبول کریں۔ جس طرح گھروں میں بچوں کی نگہداشت اور پرورش کی جاتی ہے، اسی طرح پودوں کی نگہداشت اور پرورش کریں۔ آج لگائے جانے والے پودے مستقبل میں نئی نسل کیلئے اثاثہ بننے والے ہیں۔ اگر ہوسکے تو بچوں کے نام پر پودے لگائیں اور بچوں کو ہدایت دیں کہ خود پانی پینے کے بعد پودوں کو بھی پانی ڈالیں۔ محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہے کہ کل سے آئندہ دس دن تک ریاست میں بارش ہوگی۔ دس دن کے دوران ریاست میں ہر مقام پر پودے لگائیں۔ حکومت کی جانب سے اسکول سے ریاستی سطح تک زیادہ سے زیادہ پودے لگانے اور ان کی نگہداشت کرنے والوں کو ایک لاکھ سے آٹھ لاکھ روپئے کی نقد رقم کے ساتھ ایوارڈس تقسیم کئے جائیں گے۔ شجرکاری کو عوام اپنی ذمہ داری کی طرح قبول کریں۔

کمشنر پولیس کریم نگر کملاسن ریڈی نے25 ہزار پودے لگانے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس کی وہ ستائش کرتے ہیں اور تمام منتخب عوامی نمائندے، کارپوریٹر سے لیکر رکن پارلیمنٹ تک شجرکاری کے معاملہ میں عوام میں شعور بیدار کریں، گاؤں سے ضلع سطح تک ’’ گرین بریگیڈ ‘‘ تشکیل دیں، جس میں نوجوان، طلبہ، خواتین اور سماج کے تمام شعبوں کے افراد اس میں شامل ہوں۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ گھر گھر پہنچ کر ارکان خاندان کی تعداد کے لحاظ سے پودے تقسیم کریں۔ وہ جب بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ کریم نگر کا دورہ کریں گے انہیں اوپر سے ایسا منظر لگنا چاہیئے کہ ہر طرف جھاڑیاں ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کریم نگرپانی سے مالا مال ہے۔ وہ کریم نگر کو لندن کے طرز پر ترقی دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں، اس کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے، بلو پرنٹ بھی تیار کیا جارہا ہے۔ بہت جلد اس پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کے بعد ہر گھر کو پینے کا پانی ملے گا۔ کریم نگر کے علاوہ دوسرے اضلاع میں بھی سال میں دو مرتبہ فصلیں تیار ہوں گی۔ ترقی کے معاملہ میں کریم نگر سرفہرست ہے، دوسرے مقام پر ضلع ورنگل ہے۔ کریم نگر کے نوجوان کلکٹر سرفراز احمد نے کریم نگر میں کلا بھون تعمیر کرنے کی نمائندگی کی ہے جو کہ وہ فوری اثر کے ساتھ قبول کررہے ہیں اور 25کروڑ روپئے کے مصارف سے کلابھون تعمیر کیا جائے گا۔ ریاست کے چالیس لاکھ افراد کو ماہانہ ایک ہزار روپئے وظیفہ دیا جارہا ہے۔مختصر عرصہ میں تلنگانہ کو فلاحی ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ملک کے 28ریاستوں میں سے 14 ریاستوں کے چیف منسٹرس ان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ کے فلاحی اسکیمات کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں، ریاست کو ’’ سبز انقلاب ‘‘ لانے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، کسانوں کے 17ہزار کروڑ روپئے قرض معاف کردیئے گئے، یہ بھی ناکافی ہے، کسانوںکیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے، ایک ایکڑ اراضی کے فصلوں کیلئے 8 ہزار روپئے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

84 لاکھ بھیڑ بکریاں تقسیم کی جارہی ہیں۔ کانگریس پارٹی اصل اپوزیشن کا رول انجام دینے میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کے ہر فیصلہ کے خلاف تنقید کررہی ہے، ملک اور ریاست پر 45سال تک حکمرانی کرنے والی کانگریس پارٹی بے قاعدگیوں، بدعنوانیوں میں ملوث ہوئی ہے، ایک ایک کرکے تمام غلطیاں منظر عام پر آرہی ہیں۔ آج ہر چیز میں جو ملاوٹ ہے اس کیلئے کانگریس ذمہ دار ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے جوا، سٹہ، منشیات کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ ان غیر سماجی کاموں میں ملوث ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور آہنی پنجوں سے ان سرگرمیوں کو کچل دیا جائے گا۔ کانگریس قائدین اپنے آپ کو دودھ سے دھلے ہوئے بتارہے ہیں جبکہ ان کی داستان بدعنوانیوں سے بھری ہوئی ہے اور دوسرے ترقیاتی پروگراموں میں کانگریس پارٹی رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ آنے والے وقت میں عوام کانگریس کو سبق سکھائیں گے۔

 

TOPPOPULARRECENT