Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں سرکاری ملازمین ، صحافیوں کا کارپوریٹ ہاسپٹلس میں مفت علاج

تلنگانہ میں سرکاری ملازمین ، صحافیوں کا کارپوریٹ ہاسپٹلس میں مفت علاج

700 اقسام کی برانڈیڈ ادویات کی بھی مفت سربراہی
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت سرکاری ملازمین ، ریٹائرڈ ملازمین اور صحافیوں اور ان کے 21 لاکھ افراد خاندان کو کارپوریٹ اور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس میں مفت علاج کرانے اور سالانہ مفت ماسٹر ہیلت چیک اپ کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 700 اقسام کی برانڈیڈ ادویات بھی مفت سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس پر آئندہ ماہ سے عمل آوری ہونے کا قوی امکان ہے ۔ سرکاری ملازمین اور صحافیوں کو ہیلت پیاکیج فراہم کرنے کے معاملے میں حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ حکومت اور خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس کے درمیان مذاکرات بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ حکومت نے سرکاری ملازمین اور صحافیوں کو ہیلت کارڈس جاری کیا ہے تاہم اس پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ اس سلسلے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے ۔ سرکاری ملازمین اور صحافیوں کے علاوہ ان کے ارکان خاندان کو سال میں ایک مرتبہ خانگی ، کارپوریٹ اور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس میں ایگزیکٹیو پیاکیج کے تحت مفت ماسٹر ہیلت چیک اپ کرانے کا محکمہ صحت نے فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف امراض کا شکار ملازمین ، صحافیوں اور ان کے ارکان خاندان کو 700 اقسام کے برانڈیز ادویات مفت سربراہ کئے جائیں گے ۔ ملازمین اور صحافیوں کو پی ایچ سی تا نمس تک کے تمام سرکاری ہاسپٹلس میں ادویات دستیاب رکھی جائیں گی ۔ ریاست کے 3.5 لاکھ سرکاری ملازمین 2.4 لاکھ ریٹائرڈ ایمپلائز اور ان کے ارکان خاندان کی تعداد 20 لاکھ ہے جو آروگیہ کارڈ سے استفادہ کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ریاست کے 23 ہزار صحافیوں کو ہیلت کارڈس جاری کئے گئے ۔ ان کے ارکان خاندان کی جملہ تعداد تقریبا ایک لاکھ ہوگی اس طرح 21 لاکھ افراد کو ہیلت پیاکیج فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ عام طور پر کارپوریٹ و سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس میں ماسٹر ہیلت چیک اپ کے لیے فی کس 5 تا 8 ہزار روپئے وصول کئے جارہے ہیں ۔ اگر ایک خاندان کے 4 افراد ماسٹر ہیلت چیک اپ کراتے ہیں تو 20 تا 30 ہزار روپئے کے مصارف ہوں گے ۔ یہ سہولت حکومت اب سرکاری ملازمین اور صحافیوں اور ان کے افراد خاندان کو مفت فراہم کرے گی ۔ ہیلت چیک اپ کے ذریعہ امراض کی نشاندہی کرتے ہوئے علاج کرنے میں آسانی ہوگی ۔ بی پی ، شوگر ، قلب ، جگر ، تنفس کے علاوہ دوسرے ٹسٹوں کو ماسٹر ہیلت چیک اپ کے پیاکیج میں شمار کیا جائے گا ۔ ان تمام سہولتوں سے استفادہ کے لیے بھی چند شرائط ہیں ۔ حکومت کارپوریٹ ہیلت پیاکیج پر عمل کرنے کے لیے بجٹ میں 60 فیصد تک توسیع دینے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ حکومت نے پہلے سرکاری ملازمین اور صحافیوں سے سالانہ 5 ہزار روپئے و صول کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا اب اس سے بھی دستبرداری اختیار کی جارہی ہے ۔ تمام سرکاری ہاسپٹلس میں سرکاری ملازمین اور صحافیوں کے لیے ’ ریفرل وارڈس ‘ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس میں چند سینئیر ڈاکٹرس ہوں گے ۔ ان کی جانب سے طبی جانچ کے بعد ہی مریض کو کارپوریٹ اور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس منتقل کیا جائے گا ۔ اگر حالت نازک نہیں ہے تو ان کا ریفرل وارڈ میں ہی علاج کیا جائے گا ۔ مرکزی حکومت کی ہیلت اسکیم کے بھی یہی رہنمایانہ اصول ہیں اگر رات کے 8 تا صبح کے 8 بجے تک کوئی بھی ایمرجنسی پیش آتی ہے تو راست خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس میں علاج کرانے کی سہولت رہے گی ۔ قلب پر حملہ کی صورت میں مریض کو کارپوریٹ ہاسپٹلس میں شریک کرانے کی بھی گنجائش فراہم کی جارہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT