Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں عام انتخابات سے قبل تازہ سروے کیلئے ماہرین سے خدمات

تلنگانہ میں عام انتخابات سے قبل تازہ سروے کیلئے ماہرین سے خدمات

حیدرآباد۔/9ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں آئندہ عام انتخابات سے قبل پارٹی کی صورتحال سے فکر مند چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تازہ ترین سروے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک سروے پر تشویش کا اظہار کیا جس میں پارٹی کے 50 فیصد سے زائد موجودہ ارکان اسمبلی کے بارے میں عوامی ناراضگی کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی۔ اس کے علاوہ پارٹی میں اندرونی ناراضگی اور عہدوں سے محرومی کی شکایات بھی اس سروے میں کیڈر کے درمیان پائی گئیں۔ چیف منسٹر جو 2019 میں پارٹی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کیلئے فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کرچکے ہیں انہوں نے اس قدر اسکیمات کے باوجود عوامی ناراضگی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور سروے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں حیدرآباد اور دہلی کے دو اداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو مشترکہ طور پر سروے کریں گے۔ سروے میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جائے گی کہ ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ نے اپنے حلقہ جات میں کس قدر عوامی مسائل کی یکسوئی کی ہے۔ سرکاری فلاحی اسکیمات کے فوائد عوام تک پہنچانے میں ان کا کس حد تک رول ہے۔ سروے میں عوامی نمائندوں کی مقبولیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے سروے کیلئے منتخب اداروں سے خواہش کی ہے کہ وہ عوامی ناراضگی کی وجوہات پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ چیف منسٹر کو یقین ہے کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے لامتناہی سلسلہ کے باعث پارٹی 2019 میں دوبارہ برسراقتدار آئے گی۔ حالیہ سروے میں نہ صرف ارکان اسمبلی بلکہ ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں بھی حوصلہ افزاء رپورٹس نہیں ہیں۔ عوامی مقبولیت کے اعتبار سے چیف منسٹر کے بعد جو قائدین سرفہرست رہے ان میں کے ٹی آر، کویتا، ہریش راؤ کے نام شامل ہیں۔ موجودہ وزراء میں بہتر کارکردگی کے لحاظ سے ای راجندر، سری ہری، جوپلی کرشنا راؤ، پوچارم سرینواس ریڈی، ٹی ناگیشور راؤ اور سرینواس یادو کے حق میں عوامی رائے دیکھی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے جلد از جلد تازہ ترین سروے کی تکمیل کی خواہش کی تاکہ آئندہ انتخابات کی حکمت عملی کا تعین کیا جاسکے۔ پارٹی حلقوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ تازہ ترین سروے کی بنیاد پر وسط مدتی انتخابات پر غور کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT