Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں علحدہ شیعہ وقف بورڈ کے قیام کے امکانات موہوم

تلنگانہ میں علحدہ شیعہ وقف بورڈ کے قیام کے امکانات موہوم

حیدرآباد ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے کی تیاری ، حکومت کا واضح موقف
حیدرآباد۔16 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کے قیام کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ حیدرآباد ہائی کورٹ میں حکومت کی جانب سے حلف نامہ داخل کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے جس میں حکومت واضح کردے گی کہ وقف ایکٹ کے اعتبار سے علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل ممکن نہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کے سلسلہ میں شیعہ تنظیم کی جانب سے دی گئی نمائندگی پر قانون کے مطابق کارروائی کے لیے چھ ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔ عدالتی احکامات کے بعد حکومت نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کے اعتبار سے شیعہ اوقافی جائیدادوں کی علیحدہ طور پر نشاندہی کا کام شروع کیا۔ وقف ریکارڈ، گزٹ اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر وقف بورڈ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ تلنگانہ میں شیعہ اوقافی جائیدادوں کی تعداد صرف 167 ہے جن میں حیدرآباد کی 114 شیعہ اوقافی جائیدادیں شامل ہیں۔ وقف ایکٹ کے اعتبار سے کم سے کم 15 فیصد علیحدہ اوقافی جائیدادوں کی موجودگی پر علیحدہ وقف بورڈ کی تشکیل پر غور کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ ریاست بھر کی اوقافی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر 167 جائیدادیں منظر عام پر آئی ہیں۔ لہٰذا تلنگانہ میں علیحدہ شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل ممکن نہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں اپنا موقف تیار کرتے ہوئے عدالت میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کا فیصلہ کیا اور بتایا جاتا ہے کہ لا ڈپارٹمنٹ میں حلف نامہ کو منظوری دے دی ہے۔ اندرون دو یوم توقع ہے کہ حکومت شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں ہائی کورٹ میں اپنے موقف کی وضاحت کردے گی۔ 19 جنوری کو جسٹس اے وی شیسا سائی نے انجمن علوی شیعہ امامیہ کی درخواست پر عبوری احکامات جاری کئے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ تنظیم نے یکم ڈسمبر 2016ء کو جو نمائندگی کی ہے اس پر اندرون چھ ہفتے حکومت قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔ دوسری طرف شیعہ تنظیموں کا دعوی ہے کہ تلنگانہ میں 11 ہزار سے زائد جائیدادیں شیعہ وقف کے تحت ہیں۔ لہٰذا علیحدہ بورڈ کی تشکیل ناگزیر ہے۔ علیحدہ بورڈ کے سلسلہ میں حکومت کی حلیف جماعت کا موقف بھی منفی پایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلہ میں حکومت کو اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے حلیف جماعت میں علیحدہ بورڈ کی تشکیل کی مخالفت کی۔ اسی دوران حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وقف ایکٹ کے تحت شیعہ اوقافی جائیدادوں کی درکار تعداد نہیں۔ لہٰذا حکومت وقف ایکٹ کے مطابق ہی عدالت میں حلف نامہ داخل کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT